حدیث برائے عالم
پورے سائز میں دیکھنے کے لیے تصویر پر ٹیپ کریں
قرآن کریم اور اس کے علوم
16 زبانوں میں دستیاب
«براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قرآن کو اپنی آوازوں سے مزین کیا کرو“۔»

ترجمۂ مفہوم ·

حدیث کی شرح

مفہوم آسان الفاظ میں

مراد یہ ہے کہ تلاوت کرتے ہوئے اپنی آوازوں کو خوبصورت بنا کر قرآن کو مزین کرو۔ کیونکہ اچھی آواز سے اچھے کلام کا حسن اور زینت مزید بڑھ جاتی ہے۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ اس کی وجہ سے معانی میں زیادہ سے زیادہ غور و تدبر ہو اور اوامر و نواہی اور وعدو وعید پر مشتمل آیات کی سمجھ پیدا ہو ۔ کیونکہ نفس طبعی طور پر اچھی آوازوں کی طرف مائل ہوتا ہے اور ہو سکتا ہے کہ خوبصورت آواز کی بدولت سوچ تمام آمیزشوں سے تہی ہو کر ذہنی یکسوئی کا سبب بن جائے۔ جب ذہن یکسو ہوتا ہے تو مطلوبہ شے یعنی خشوع و خضوع پیدا ہوتا ہے۔ حدیث میں آواز کو خوبصورت بنانے سے مراد وہ خوبصورتی ہے جس سے خشوع پیدا ہو نہ كہ گانے کے سروں اور لہو و لعب کی آوازیں جو قرأت کی تعریف کے دائرے سے نکل جاتی ہیں۔

ماخذ
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
تصویر ڈاؤن لوڈ کریں

اصل معیار میں محفوظ ہوگی