حدیث برائے عالم
پورے سائز میں دیکھنے کے لیے تصویر پر ٹیپ کریں
دعوت و احتساب
20 زبانوں میں دستیاب
«علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: ”لوگوں سے ایسی بات کرو جنہیں وہ جانتے ہوں، کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اللہ اور اس کے رسول کو جھٹلا دیا جائے؟“»

ترجمۂ مفہوم ·

حدیث کی شرح

مفہوم آسان الفاظ میں

امیر المومنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ رہنمائی فرما رہے ہیں کہ عام لوگوں سے وہی باتیں کرنی چاہئے جو ان کے ہاں معروف ہوں اور جو انہیں ان کے دین کے سلسلے میں فائدہ دیں جیسے توحید اورحلال و حرام کی وضاحت اور جو باتیں ان سے دور رکھنے والی ہوں اور جن کی ضرورت نہ ہو یا پھر وہ باتیں جو حق کو جھٹلانے اور اس کے قبول نہ کرنے کا باعث ہوں اور جن کو سمجھنا ان کے لیے مشتبہ اور جن کا ادراک کرنا ان کے لیے مشکل ہو ان سے اجتناب کرنا چاہیے۔

ماخذ
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
تصویر ڈاؤن لوڈ کریں

اصل معیار میں محفوظ ہوگی