حدیث برائے عالم
پورے سائز میں دیکھنے کے لیے تصویر پر ٹیپ کریں
عقیدہ

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا:

71 زبانوں میں دستیاب
«عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا: ”میری تعریف میں ایسے حد سے نہ گزرو، جیسے عیسائی لوگ عیسی ابن مریم (علیہ السلام) کی تعریف میں حد سے گزر گئے۔ میں تو محض اللہ کا بندہ ہوں۔ اس لیے مجھے اللہ کا بندہ اور اس کا رسول کہو“۔»

ترجمۂ مفہوم ·

حدیث کی شرح

مفہوم آسان الفاظ میں

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اپنی تعریف میں افراط کے شکار ہونے اور شرعی حد سے آگے بڑھنے، آپ کو اللہ کے اوصاف اور اس کے خاص افعال سے متصف قرار دینے، اللہ کے بارے میں غیب کو جاننے کا دعوی کرنے اور آپ کو اللہ کے ساتھ پکارنے سے منع فرمایا ہے۔ جیسا کہ نصرانیوں نے عیسی ابن مریم علیہ السلام کے ساتھ کیا۔ پھر بتایا کہ آپ اللہ کے بندوں میں سے ایک بندہ ہیں اور اس بات کا حکم دیا کہ ہم آپ کو اللہ کا بندہ اور اس کا رسول کہیں۔

ماخذ
رواه البخاري
تصویر ڈاؤن لوڈ کریں

اصل معیار میں محفوظ ہوگی