حدیث برائے عالم
قرآن کریم اور اس کے علوم

قرآن کی تفسیر

2 احادیث

2 احادیث

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک سورج اپنے ڈوبنے کی جگہ سے نکل نہ آئے۔ جب سورج اپنے ڈوبنے کی جگہ سے نکل آئے گا اور لوگ دیکھ لیں گے، تو سب لوگ ایمان لے آئیں گے۔ لیکن یہ وہ وقت ہے، جس کے بارے میں اللہ تعالی نے کہا ہے : "کسی ایسے شخص کا ایمان اس کے کام نہ آئے گا، جو پہلے سے ایمان نہیں رکھتا یا اس نے اپنے ایمان میں کوئی نیک عمل نہ کیا ہو۔"[الانعام: 158] قیامت اس قدر جلد آ جائے گی کہ دو آدمیوں نے کپڑا پھیلا رکھا ہوگا، لیکن نہ تو وہ خرید و فروخت کرسکیں گے اور نہ اسے لپیٹ ہی سکیں گے۔ قیامت اس قدر جلد آئے گی کہ ایک آدمی اپنی اونٹنی کا دودھ لے کر آ رہا ہوگا اور وہ اسے پی نہیں سکے گا۔ قیامت اس طرح آجائے گی کہ ایک شخص اپنا حوض تیار کر رہا ہوگا اور اس سے پانی پی نہیں سکے گا۔ قیامت اس طرح آجائے گی کہ ایک آدمی اپنا لقمہ اپنے منہ کی طرف اٹھائے گا اور وہ اس کو کھا نہیں سکے گا"۔متفق عليه
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضيَ اللهُ عنهُ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: {إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا لِيَغْفِرَ لَكَ اللهُ} إِلَى قَوْلِهِ {فَوْزًا عَظِيمًا} [الفتح: ١-٥] مَرْجِعَهُ مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَهُمْ يُخَالِطُهُمُ الْحُزْنُ وَالْكَآبَةُ، وَقَدْ نَحَرَ الْهَدْيَ بِالْحُدَيْبِيَةِ، فَقَالَ: «لَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آيَةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا جَمِيعًا».رواه مسلم