UR
شرعی آداب
گفتگو اور خاموشی کے آداب
12 احادیث
گفتگو میں ممنوعہ امور اور زبان کی تباہ کاریاں
3
12 احادیث
مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی آدمی اپنے بھائی سے محبت کرتا ہو، تو اسے بتا دے کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے“
رواه أبو داود والترمذي والنسائي في الكبرى وأحمد
جندب بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک آدمی نے کہا کہ اللہ کی قسم! اللہ فلاں شخص کی مغفرت نہیں کرے گا۔ اس پر اللہ تعالی نے فرمایا: یہ کون ہے جو مجھ پر قسم اٹھا رہا ہے کہ میں فلاں کی مغفرت نہیں کروں گا؟ میں نے اس کی مغفرت کر دی ہے اور تیرے اعمال کو ضائع کر دیا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ ایسا کہنے والا ایک عبادت گزار شخص تھا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس نے ایک ایسی بات کہہ دی جس نے اس کی دنیا اور آخرت تباہ کر کے رکھ دی۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”بندہ ایک بات زبان سے نکالتا ہے اس میں غور وفکر نہیں کرتا، لیکن اس کی وجہ سے وہ دوزخ میں اتنی دور جاگرتا ہے جتنا مغرب سے مشرق دور ہے“۔
متفق علیہ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”بندہ اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کی بات زبان سے نکالتا ہے، اسے وہ کوئی اہمیت نہیں دیتا مگر اس کی وجہ سے اللہ اس کے کئی درجے بلند فرما دیتا ہے، اور ایک بندہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی والی بات کرتا ہے جس کی طرف اس کا دھیان بھی نہیں، لیکن اس کی وجہ سے وہ جہنم میں جا گرتا ہے“۔ اور ابو عبد الرحمن بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی بات کرتا ہے، اس کو گمان بھی نہیں ہوتا کہ یہ کہاں تک پہنچے گی، اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے لیے قیامت کے دن تک اپنی رضامندی لکھ دیتا ہے اور آدمی (بعض دفعہ)اللہ کی ناراضی کا ایسا کلمہ بولتا ہے، اسے گمان بھی نہیں ہوتا کہ یہ کہاں تک پہنچے گا اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے لیے اپنی ملاقات کے دن تک اپنی ناراضی لکھ دیتا ہے“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مالک نے روایت کیا ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہوتی ہے؟" صحابہ کرام نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : "غیبت یہ ہے کہ تم اپنے بھائی کا ذکر اس انداز میں کرو، جو اسے نا پسند ہو‘‘۔ پوچھا گیا کہ اگر وہ بات میرے بھائی میں فی الواقع موجود ہو، تب بھی؟ آپ ﷺ نے فرمایا : "جو تم بیان کر رہے ہو اگر وہ اس میں موجود ہے، تو تم نے اس کی غیبت کی ہے اور جو تم بیان کر رہے ہو، اگر وہ اس میں موجود نہیں ہے، تو تم نے اس پر تہمت باندھی"۔
رواه مسلم
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”اپنے ماں باپ کو گالی دینا کبیرہ گناہوں میں سے ہے“۔ دریافت کیا گیا کہ بھلا کوئی آدمی اپنے ماں باپ کو بھی گالی دے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! آدمی کسی کے باپ کو گالی دے گا، تو وہ بھی اس کے باپ کو گالی دے گا اور وہ کسی کی ماں کو گالی دے گا، تو وہ بھی اس کی ماں کو گالی دے گا“۔
متفق علیہ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "جس نے قسم کھائی اور اپنے قسم میں کہا: ”لات و عزیٰ کی قسم“، تو وہ لا الہ الا ﷲ کہے، اور جو شخص اپنے ساتھی سے کہے کہ آؤ جوا کھیلیں، تو وہ (بطور کفارہ) صدقہ کرے"۔
متفق عليه
ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”صدّیق کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ بہت زیادہ لعنت کرنے والا ہو“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”جب آدمی یہ کہتا ہے کہ لوگ ہلاک ہوگیے تو سمجھ لو کہ وہ ان میں سب سے زیادہ ہلاک ہونے والا ہے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : "(کامل) مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان (کی ایذا رسانی) سے مسلمان محفوظ رہیں اور (حقیقی) مہاجر وہ ہے جس نے ان تمام چیزوں کو چھوڑ دیا جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔"
متفق عليه
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يُؤْذِينِي ابْنُ آدَمَ يَسُبُّ الدَّهْرَ وَأَنَا الدَّهْرُ، بِيَدِي الأَمْرُ أُقَلِّبُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ».
متفق عليه
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اهْجُوا قُرَيْشًا، فَإِنَّهُ أَشَدُّ عَلَيْهَا مِنْ رَشْقٍ بِالنَّبْلِ»، فَأَرْسَلَ إِلَى ابْنِ رَوَاحَةَ، فَقَالَ: «اهْجُهُمْ» فَهَجَاهُمْ فَلَمْ يُرْضِ، فَأَرْسَلَ إِلَى كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ، قَالَ حَسَّانُ: قَدْ آنَ لَكُمْ أَنْ تُرْسِلُوا إِلَى هَذَا الْأَسَدِ الضَّارِبِ بِذَنَبِهِ، ثُمَّ أَدْلَعَ لِسَانَهُ فَجَعَلَ يُحَرِّكُهُ، فَقَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَأَفْرِيَنَّهُمْ بِلِسَانِي فَرْيَ الْأَدِيمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَعْجَلْ، فَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ أَعْلَمُ قُرَيْشٍ بِأَنْسَابِهَا، وَإِنَّ لِي فِيهِمْ نَسَبًا، حَتَّى يُلَخِّصَ لَكَ نَسَبِي» فَأَتَاهُ حَسَّانُ ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ لَخَّصَ لِي نَسَبَكَ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَأَسُلَّنَّكَ مِنْهُمْ كَمَا تُسَلُّ الشَّعْرَةُ مِنَ الْعَجِينِ. قَالَتْ عَائِشَةُ: فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ لِحَسَّانَ: «إِنَّ رُوحَ الْقُدُسِ لَا يَزَالُ يُؤَيِّدُكَ، مَا نَافَحْتَ عَنِ اللهِ وَرَسُولِهِ»، وَقَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «هَجَاهُمْ حَسَّانُ فَشَفَى وَاشْتَفَى» قال حسان: هجوتَ محمَّدًا فأجبتُ عنه ... وعندَ الله في ذاك الجزاءُ هجوتَ محمَّدًا بَرًّا حنيفا ... رسولُ الله شيمتُه الوفاءُ فإنَّ أبي ووالدَه وعِرْضي ... لِعِرْضِ محمَّدٍ منكم وقاءُ ثَكِلْتُ بُنَيَّتِي إلم تَرَوها ... تُثِيرُ النَّقعَ من كَنَفَي كَداءِ يُبارِيْنَ الأَعِنَّةَ مُصْعِداتٍ ... على أكتافها الأَسَلُ الظِّماءُ تظلُّ جيادُنا مُتَمَطِّراتٌ ... تُلَطِّمُهُنَّ بالخمرِ النساءُ فإن أعرضتُمُو عنَّا اعتمرنا ... وكان الفتح وانكشف الغطاءُ وإلا فاصبروا لِضِراب يومٍ ... يُعِزُّ اللهُ فيه مَن يشاءُ وقال الله: قد أرسلت عبدًا ... يقولُ الحقَّ ليس به خفاء وقال الله: قد يَسَّرْتُ جُندًا ... همُ الأنصار عُرْضَتُها اللِّقاءُ لنا في كلِّ يومٍ من مَعَدٍّ ... سبابٌ أو قتالٌ أو هجاءُ فمَنْ يهجو رسولَ الله منكم ... ويمدحُهُ وينصرُهُ سواءُ؟ وجبريلٌ رسولُ الله فينا ... وروحُ القُدْسِ ليس له كِفَاءُ.
رواه مسلم