UR
سیرت و تاریخ
سیرتِ نبوی
34 احادیث
آپ ﷺ کے ازواج مطہرات اور نبوی گھرانے کے حالات
4
رسول اللہ ﷺ کی بعثت
1
ہجرت
1
آپ ﷺ کے غزوات اور سرایا
4
آپ ﷺ کے خطوط اور مراسلات
1
شمائلِ محمدیہ ﷺ
24
34 احادیث
عبداللہ بن شخِّیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو رونے کی وجہ سے آپﷺ کے سینے سے ایسی آواز آ رہی تھی جیسے چکّی چلنے کی آواز ہوتی ہے۔
اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم چالیس سال کی عمر میں نبی بنائے گئے۔ پھر مکہ میں تیرہ سال رہے اور اس مدت میں آپ پر وحی آتی رہی۔ پھر ہجرت کا حکم ہوا اور ہجرت کی سر زمین میں دس سال رہے اور تریسٹھ سال کی عمر میں وفات پائی۔
متفق علیہ
اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کی ازواج مطہرات میں سے کسی پر رشک نہیں کیا سوائے خدیجہ رضی اللہ عنہا کے حالانکہ میں نے ان کو نہیں پایا۔ اُمّ المؤمنین فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب بکری ذبح کرتے تھے تو آپ ﷺ فرماتے: ”اس کا گوشت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی سہیلیوں کو بھیج دو“۔ اُم المؤمنین فرماتی ہیں کہ میں ایک دن غصہ میں آگئی اور میں نے کہا خدیجہ خدیجہ ہی ہو رہی ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے دل میں ان کی محبت ڈالی جا چکی ہے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خدیجہ رضی اللہ عنہا کی موجودگی میں کسی اور سے شادی نہیں کی حتی کہ آپ رضی اللہ عنہا فوت ہو گئیں۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "مردوں میں سے بہت سے لوگ مرتبۂ کمال تک پہنچے، لیکن عورتوں میں سے صرف فرعون کی بیوی آسیہ اور مریم بنت عمران ہی مرتبۂ کمال تک پہنچیں اور عائشہ کو عورتوں پر وہی فضیلت حاصل ہے، جو فضیلت ثرید کو سارے کھانوں پر حاصل ہے"۔
متفق علیہ
عن مروان بن الحكم والمسور بن مخرمة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قام حين جاءه وفد هوازن مسلمين، فسألوه أن يرد إليهم أموالهم وسبيهم، فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أحبُّ الحديث إليَّ أصدقُه، فاختاروا إحدى الطائفتين: إما السبي، وإما المال، وقد كنتُ اسْتَأْنَيتُ بهم»، وقد كان رسول الله صلى الله عليه وسلم انتظرهم بضعَ عشرةَ ليلةً حين قفل من الطائف، فلما تبين لهم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم غير رادٍّ إليهم إلا إحدى الطائفتين، قالوا: فإنا نختار سبينا، فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم في المسلمين، فأثنى على الله بما هو أهله، ثم قال: «أما بعد، فإن إخوانكم هؤلاء قد جاؤونا تائبين، وإني قد رأيت أن أرد إليهم سبيهم، فمن أحب منكم أن يطيِّب بذلك فليفعل، ومن أحب منكم أن يكون على حظه حتى نعطيه إياه من أول ما يفيء الله علينا فليفعل» فقال الناس: قد طيَّبنا ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم لهم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إنا لا ندري من أذن منكم في ذلك ممن لم يأذن، فارجعوا حتى يرفعوا إلينا عرفاؤكم أمركم» فرجع الناس، فكلمهم عرفاؤهم، ثم رجعوا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخبروه أنهم قد طيَّبوا وأذنوا.
رواه البخاري
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّ خَيَّاطًا دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَهُ، قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: فَذَهَبْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى ذَلِكَ الطَّعَامِ، فَقَرَّبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُبْزًا وَمَرَقًا، فِيهِ دُبَّاءٌ وَقَدِيدٌ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ مِنْ حَوَالَيِ القَصْعَةِ، قَالَ: فَلَمْ أَزَلْ أُحِبُّ الدُّبَّاءَ مِنْ يَوْمِئِذٍ.
متفق عليه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں : کہا گیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! مشرکوں پر بد دعا کردیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: "مجھے لعنت کرنے والا بنا کر نہيں بھیجا گیا ہے۔ مجھے تو رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے"۔
رواه مسلم
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ، وَكَانَ أَجْوَدَ النَّاسِ، وَكَانَ أَشْجَعَ النَّاسِ، وَلَقَدْ فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَانْطَلَقَ نَاسٌ قِبَلَ الصَّوْتِ، فَتَلَقَّاهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاجِعًا، وَقَدْ سَبَقَهُمْ إِلَى الصَّوْتِ، وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ لِأَبِي طَلْحَةَ عُرْيٍ، فِي عُنُقِهِ السَّيْفُ، وَهُوَ يَقُولُ: «لَمْ تُرَاعُوا، لَمْ تُرَاعُوا» قَالَ: «وَجَدْنَاهُ بَحْرًا، أَوْ إِنَّهُ لَبَحْرٌ» قَالَ: وَكَانَ فَرَسًا يُبَطَّأُ.
متفق عليه
عَنِ البَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذِي القَعْدَةِ، فَأَبَى أَهْلُ مَكَّةَ أَنْ يَدَعُوهُ يَدْخُلُ مَكَّةَ، حَتَّى قَاضَاهُمْ عَلَى أَنْ يُقِيمَ بِهَا ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ، فَلَمَّا كَتَبُوا الكِتَابَ، كَتَبُوا: هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، قَالُوا: لاَ نُقِرُّ لَكَ بِهَذَا، لَوْ نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ مَا مَنَعْنَاكَ شَيْئًا، وَلَكِنْ أَنْتَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: «أَنَا رَسُولُ اللَّهِ، وَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ»، ثُمَّ قَالَ: لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «امْحُ رَسُولَ اللَّهِ»، قَالَ عَلِيٌّ: لاَ وَاللَّهِ لاَ أَمْحُوكَ أَبَدًا، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الكِتَابَ، وَلَيْسَ يُحْسِنُ يَكْتُبُ، فَكَتَبَ: هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، لاَ يُدْخِلُ مَكَّةَ السِّلاَحَ إِلَّا السَّيْفَ فِي القِرَابِ، وَأَلّاَ يَخْرُجَ مِنْ أَهْلِهَا بِأَحَدٍ إِنْ أَرَادَ أَنْ يَتْبَعَهُ، وَأَلّاَ يَمْنَعَ مِنْ أَصْحَابِهِ أَحَدًا، إِنْ أَرَادَ أَنْ يُقِيمَ بِهَا، فَلَمَّا دَخَلَهَا وَمَضَى الأَجَلُ أَتَوْا عَلِيًّا، فَقَالُوا: قُلْ لِصَاحِبِكَ: اخْرُجْ عَنَّا، فَقَدْ مَضَى الأَجَلُ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَبِعَتْهُ ابْنَةُ حَمْزَةَ، تُنَادِي يَا عَمِّ يَا عَمِّ، فَتَنَاوَلَهَا عَلِيٌّ فَأَخَذَ بِيَدِهَا، وَقَالَ لِفَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلاَمُ: دُونَكِ ابْنَةَ عَمِّكِ، حَمَلَتْهَا، فَاخْتَصَمَ فِيهَا عَلِيٌّ وَزَيْدٌ وَجَعْفَرٌ، قَالَ عَلِيٌّ: أَنَا أَخَذْتُهَا، وَهِيَ بِنْتُ عَمِّي، وَقَالَ جَعْفَرٌ: ابْنَةُ عَمِّي وَخَالَتُهَا تَحْتِي، وَقَالَ زَيْدٌ: ابْنَةُ أَخِي. فَقَضَى بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَالَتِهَا، وَقَالَ: «الخَالَةُ بِمَنْزِلَةِ الأُمِّ» وَقَالَ لِعَلِيٍّ: «أَنْتَ مِنِّي وَأَنَا مِنْكَ» وَقَالَ لِجَعْفَرٍ: «أَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي»، وَقَالَ لِزَيْدٍ: «أَنْتَ أَخُونَا وَمَوْلاَنَا»، وَقَالَ عَلِيٌّ: أَلاَ تَتَزَوَّجُ بِنْتَ حَمْزَةَ؟ قَالَ: «إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ».
متفق عليه
پچھلا صفحہ
صفحہ 2 از 2