UR
نماز
نمازِ جمعہ
7 احادیث
فضل يوم الجمعة
2
نماز جمعہ کے احکام
2
7 احادیث
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”جب جمعہ کے دن امام خطبہ دے رہا ہو اور تم اپنے پاس بیٹھے ہوئے آدمی سے کہو کہ "خاموش ہو جاؤ" تو (ایسا کہہ کر) تم نے خود ایک لغو حرکت کی“۔
متفق عليه
سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے جمعے کے دن وضو کیا، اس نے سنت پر عمل کیا اور یہ بہت عمدہ سنت ہے اور جس نے غسل کیا، تو یہ افضل ہے“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔
عمرو بن سلیم انصاری سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : میں گواہی دیتا ہوں کہ ابو سعید نے کہا اور انھوں نے گواہی دی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "جمعہ کے دن ہر بالغ پر غسل کرناواجب ہے۔ اس دن آدمی کو چاہیے کہ مسواک کر لے اور اگر خوش بو میسر ہو، تو لگا لے۔"
متفق عليه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب جمعہ کا دن آتا ہے تو فرشتے مسجد کے دروازے پر کھڑے ہوکر پہلے آنے والوں کے نام بالترتیب لکھتے ہیں، سب سے پہلے آنے والا اونٹ کی قربانی دینے والے کی طرح لکھا جاتا ہے، اس کے بعد آنے والا گائے کی قربانی دینے والے کی طرح پھر مینڈھے کی قربانی کا ثواب رہتا ہے، اس کے بعد مرغی کا، اس کے بعد انڈے کا، لیکن جب امام (خطبہ دینے کے لیے) باہر آجاتا ہے تو یہ فرشتے اپنے دفاتر بند کر دیتے ہیں اور خطبہ سننے میں مشغول ہو جاتے ہیں“۔
متفق علیہ
عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ذكر يوم الجمعة، فقال: «فيه ساعة، لا يوافقها عبدٌ مسلمٌ، وهو قائم يصلي، يسأل الله تعالى شيئًا، إلا أعطاه إياه» وأشار بيده يقللها.
متفق عليه
عن سلمان الفارسي قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «لا يغتسل رجلٌ يوم الجمعة، ويتطهر ما استطاع من طهر، ويدَّهنُ مِن دهنه، أو يمسُّ من طيب بيته، ثم يخرج فلا يفرِّق بين اثنين، ثم يصلي ما كُتب له، ثم ينصت إذا تكلم الإمام، إلا غُفر له ما بينه وبين الجمعة الأخرى».
رواه البخاري
عن جابر بن عبد الله قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا خطب احمرَّتْ عيناه، وعلا صوته، واشتد غضبه، حتى كأنه مُنذِرُ جيشٍ يقول: صبَّحكم ومسَّاكم، ويقول: «بُعثتُ أنا والساعةُ كهاتين»، ويقرن بين إصبعيه السبابة، والوسطى، ويقول: «أما بعد، فإن خير الحديث كتاب الله، وخير الهدى هدى محمد، وشر الأمور محدثاتها، وكل بدعة ضلالة» ثم يقول: «أنا أولى بكل مؤمن من نفسه، من ترك مالًا فلأهله، ومن ترك دينًا أو ضَياعًا فإليَّ وعليَّ».
رواه مسلم