UR
عقیدہ
رسولوں پر ایمان
12 احادیث
نبوت
2
سابقہ انبیاء اور رسول علیہم السلام
2
ہمارے نبی محمدﷺ
7
اولیاء کی کرامات
1
12 احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : "قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! اس امت کا کوئی بھی انسان جو میرے بارے میں سنے، وہ یہودی ہو یا نصرانی اور وہ اس شریعت پر ایمان نہ لائے، جسے دے کر میں بھیجا گیا ہوں اور اسی حالت میں اس کی موت ہو جائے، تو وہ جہنمی ہوگا"۔
رواه مسلم
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں، جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئی تھیں۔ ایک مہینے کی مسافت تک رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے اور پوری زمین میرے لیے مسجد اور حصولِ پاکیزگی کا ذریعہ بنا دی گئی ہے۔ چنانچہ میری امت کا جو انسان نماز کے وقت کو (جہاں بھی) پالے، اسے وہیں نماز ادا کر لینی چاہیے۔ میرے لیے غنیمت کا مال حلال کر دیا گیا ہے، مجھ سے پہلے کسی کے لیے بھی غنیمت کا مال حلال نہ تھا۔ مجھے شفاعت عطا کی گئی۔ دیگر انبیا اپنی اپنی قوموں کے لیے مبعوث کیے جاتے تھے، لیکن مجھے تمام انسانوں کے لیے نبی بنا کر بھیجا گیا ہے"۔
متفق عليه
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "سب سے افضل دن جس میں سورج نکلا، جمعے کا دن ہے۔ اسی دن آدم (علیہ السلام) پیدا کیے گئے، اسی دن جنت میں داخل کیے گئے، اسی دن جنت سے نکالے گئے اور اسی دن قیامت قائم ہوگی۔"
رواه مسلم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”داؤد علیہ السلام صرف اپنے ہاتھ کی کمائی کھایا کرتے تھے“۔ مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”کسی نے اپنے ہاتھ کی کمائی سے زیادہ بہتر کمائی کبھی نہیں کھائی۔ اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھ کی کمائی کھایا کرتے تھے“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "میری امت کے سب لوگ جنت میں داخل ہوں کے، ماسوا ان لوگوں کے جنھوں نے انکار کیا۔" پوچھا گیا کہ اے اللہ کے رسول! انکار کرنے والے کون ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : "جس نے میری اطاعت کی، وہ جنت میں داخل ہو گا اور جس نے میری نافرمانی کی، اس نے انکار کیا۔"
رواه البخاري
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ معراج کی رات نبی کريم ﷺ کے سامنے دودھ اور شراب کے دو پیالے پیش کيے گئے۔ آپ ﷺ نے ان دونوں کی طرف ديکھا اور دودھ (والا پيالہ) لے ليا۔ تو جبرائیل علیہ السلام نے کہا: تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہے جس نے آپ کی رہنمائی فطرت کی طرف فرمائی، اگرآپ شراب (کا پیالہ) لے لیتے تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی۔
متفق علیہ
واثلہ بن اسقع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے کنانہ کو منتخب کیا اور کنانہ میں سے قریش کو منتخب کیا اور قریش میں سے بنو ہاشم کو منتخب کیا پھر بنو ہاشم میں سے مجھے منتخب کیا۔میں اولادِ آدم کا سردار ہوں مگر اس پر فخر نہیں۔ میں پہلا شخص ہوں گا جس سے قبر شق کی جائے گی، سب سے پہلے میں سفارش کروں گا اور میں ہی پہلا ہوں گا جس کی سفارش قبول کی جائے گی“۔
اسے ابنِ حبان نے روایت کیا ہے۔
سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ و سلم نے ہمارے سامنے اپنے کئ نام بیان کیے، جن میں سے کچھ ہمیں یاد ہیں۔ آپ نے فرمایا : "میں محمد، احمد، المقفی (آخری نبی)، الحاشر (جمع کرنے والا) اور نبی الرحمۃ (رحمت والا نبی) ہوں"۔ یزید کہتے ہیں: "نبی التوبۃ (توبہ والا نبی) اور نبی الملحمۃ (جنگ والا نبی) بھی آپ کے نام ہیں"۔
اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ مدینے کے ایک بلند مقام پر چڑھے۔ پھر فرمایا: کیا تم لو گ بھی دیکھ رہے ہو، جو میں دیکھ رہا ہوں؟ صحابہ نے عرض کیا: نہیں! آپ نے فرمایا: میں دیکھ رہا ہوں کہ (عن قریب ) تمھارے گھروں میں فتنے اس طرح برس رہے ہوں گے، جیسے بارش برستی ہے۔
متفق علیہ
عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے : اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، خانۂ کعبہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔“
متفق عليه
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مِنْ أَشَدِّ أُمَّتِي لِي حُبًّا نَاسٌ يَكُونُونَ بَعْدِي، يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ رَآنِي بِأَهْلِهِ وَمَالِهِ».
رواه مسلم
عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "فُضِّلْتُ على الأنبياء بستٍّ: أُعطيتُ جوامع الكَلِم، ونُصرت بالرعب، وأُحِلَّت لي الغنائم، وجعلت لي الأرض طهورًا ومسجدًا، وأرسلت إلى الخلق كافة، وختم بي النبيون".
متفق عليه