UR
عقیدہ
قضا و قدر پر ایمان
8 احادیث
قضاء و قدر کے مراتب
2
قضاء و قدر کے مسائل
2
8 احادیث
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "مومن مرد اور مومن عورت پر اس کی جان، اولاد اور مال میں مصائب آتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ وہ اس حال میں اللہ سے ملتا ہے کہ اس کا کوئی گناہ باقی نہيں رہ جاتا"۔
رواه الترمذي وأحمد
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے عطاء ابن ابی رباح سے کہا کہ کیا تمہیں میں ایک جنتی عورت کو نہ دکھاؤں؟ عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ ضرور دکھائیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایک سیاہ فام عورت نبی ﷺ کی خدمت میں آئی اور کہنے لگی کہ مجھے مرگی کا دورہ پڑتا ہے اور اس کی وجہ سے میرا ستر کھل جاتا ہے۔ میرے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو صبر کرو تمہیں اس پر جنت ملے گی اور اگر چاہو تو میں تمہارے لیے اللہ سے اس مرض سے نجات کی دعا کر دیتا ہوں“۔ اس نے عرض کیا کہ میں صبر کروں گی۔ پھر اس نے کہا کہ (مرگی کے وقت) میرا ستر کھل جاتا ہے، آپ دعا فرما دیں کہ میرا ستر نہ کھلا کرے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اس کے لیے دعا فرمائی۔
متفق علیہ
انس بن مالك رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”آزمائش جتنی بڑی ہوتی ہے اسی حساب سے اس کا بدلہ بھی بڑا ہوتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کو پسند فرماتا ہے تو اس کو آزمائش سے دوچار کرتا ہے۔ پس جو کوئی اس سے راضی و خوش رہے تو وہ اس سے راضی رہتا ہے اور جو کوئی اس سے خفا ہو تو وہ بھی اس سے خفا ہو جاتا ہے“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک دن اللہ کے رسول ﷺ کے پیچھے سوار تھا کہ اسی درمیان آپ نے فرمایا : "اے لڑکے! میں تمھیں کچھ باتیں سکھانا چاہتا ہوں۔ اللہ (کے حقوق) کی حفاظت کرو، اللہ تمھاری حفاظت کرے گا۔ تم اللہ (کے حقوق) کا خیال رکھو، اللہ کو اپنے سامنے پاؤ گے۔ جب مانگو، تواللہ ہی سے مانگو اور جب مدد طلب کرو، تو اللہ ہی سے مدد طلب کرو۔ اس بات کو جان لو کہ اگر سب مل کر بھی تمھیں فائدہ پہنچانا چاہیں، تو تمھیں اتنا ہی فائدہ پہنچا سکتے ہیں، جتنا اللہ نے تمھارے لیے لکھ دیا ہے اور اگر سب مل کر بھی تمھیں نقصان پہنچانا چاہیں، تو تمھیں اتنا ہی نقصان پہنچا سکتے ہیں، جتنا اللہ نے تمھارے لیے لکھ دیاہے۔ قلم اٹھالیے گئے ہیں اور صحیفے خشک ہو چکے ہيں"۔
رواه الترمذي
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : "مضبوط مومن اللہ کے نزدیک کمزور مومن سے بہتر اور محبوب ہے۔ تاہم خیر تو دونوں ہی میں ہے۔ جو چیز تمہارے لیے فائدے مند ہو، اس کی حرص رکھو اور اللہ سے مدد مانگو اور عاجز نہ بنو۔ اگر تم پر کوئی مصیبت آ جائے، تو یہ نہ کہو کہ اگر میں ایسا کر لیتا، تو ایسا ہوجاتا۔ بلکہ یہ کہو کہ یہ اللہ کی تقدیر ہے اور وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ کیوں کہ ”اگر“ شیطان کے عمل دخل کا دروازہ کھول دیتا ہے“۔
رواه مسلم
ابو عزۃ الھذلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی موت کے لیے کسی زمین کا فیصلہ کر دیتا ہے تو وہاں اس کی کوئی حاجت پیدا کر دیتا ہے“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے ابو داؤد الطیالسی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : "اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے سے پچاس ہزار سال پہلے مخلوقات کی تقدیریں تحریر فرما دیں تھیں"۔ فرمایا : اوراس وقت اس کا عرش پانی پر تھا"۔
رواه مسلم
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ اللَّهَ قَالَ: إِذَا ابْتَلَيْتُ عَبْدِي بِحَبِيبَتَيْهِ فَصَبَرَ، عَوَّضْتُهُ مِنْهُمَا الجَنَّةَ» يُرِيدُ: عَيْنَيْهِ.
رواه البخاري