حدیث برائے عالم
عقیدہ

اسماء و احکام

22 احادیث

22 احادیث

ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ نے فرمایا : "جس نے ہم پر ہتھیار اٹھایا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔"متفق عليه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "نیک اعمال کی طرف تیزی سے بڑھو، ان فتنوں سے پہلے، جو سخت تاریک رات کی طرح ہوں گے؛ (حالت یہ ہوگی کہ) آدمی صبح کے وقت مؤمن ہوگا، تو شام کے وقت کافر اور شام کے وقت مؤمن ہوگا، تو صبح کے وقت کافر۔ دنیاوی ساز و سامان کے بدلے آدمی اپنا دین بیچ دے گا۔"رواه مسلم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایمان کی ستّر سے زیادہ شاخیں ہیں یا فرمایا کہ ایمان کی ساٹھ سے زیادہ شاخیں ہیں جن میں سے سب سے افضل لا الہ الا اللہ کہنا ہے اور سب سے کم راستے سے کسی تکلیف دہ چیز کو ہٹانا ہے اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے“۔متفق علیہ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”اے اللہ! میری قبر کو بت نہ بنانا۔ ان لوگوں پر اللہ کا شدید غضب نازل ہو، جنھوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا“۔رواه أحمد
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : ”منافقوں پر سب سے بھاری نماز عشا اور فجر کی نماز ہے اور اگر انھیں ان نمازوں کے ثواب کا اندازہ ہو جائے، تو گھٹنوں کے بل چل کر آئيں۔ میں نے تو (ایک بار) ارادہ کر لیا تھا کہ کسی کو نماز پڑھانے کا حکم دوں اور وہ نماز پڑھائے، پھر کچھ لوگوں کو ساتھ لے کر، جو لکڑی کے گٹھر لیے ہوئے ہوں، ایسے لوگوں کے یہاں جاؤں، جو نماز کے لیے نہيں آتے اور ان کو ان کے گھروں کے ساتھ جلا ڈالوں۔"متفق عليه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جس نے کسی ہدایت کی طرف بُلایا، اسے اس کی پیروی کرنے والوں کے اجر کے برابر اجر ملے گا اور اس سے پیروی کرنے والوں کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہوگی اور جس نے کسی گمراہی کی طرف بلایا اُس کے اوپر اس کی پیروی کرنے والوں کے برابر گناہ (کا بوجھ) ہوگا اور اس سے ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔"رواه مسلم
محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "بلاشبہ مجھے تم پر جس چیز کا خوف سب سے زیادہ ہے، وہ شرک اصغر ہے۔" صحابہ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! شرک اصغر کیا ہے؟ آپ نے جواب دیا : "ریا۔ اللہ عز و جل قیامت کے دن اس طرح کے لوگوں سے کہے گا : ان لوگوں کے پاس جاؤ، جن کو دکھانے کے لیے تم دنیا میں عمل کرتے تھے۔ دیکھو، کیا تم ان کے یہاں بدلہ پاتے ہو؟"رواه أحمد
عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص بدشگونی کی وجہ سے اپنا کام چھوڑ دیا اس نے شرک کیا۔ لوگوں نے دریافت کیا کہ: اس کا کفارہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ (اس کا کفارہ یہ ہے کہ) تم یوں کہو: ”اللَّهُمَّ لاَ خَيْرَ إلا خَيْرُكَ وَلاَ طَيْرَ إلا طَيْرُكَ وَلاَ إِلَهَ غَيْرُكَ“۔ اے اللہ! تیری طرف سے ملنے والی خیر کے علاوہ کوئی خیر نہیں، تیرے شگون کے علاوہ کوئی شگون نہیں اور تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "مومنوں کی آپس میں ایک دوسرے سے محبت و مودّت اور باہمی ہمدردی کی مثال ایک جسم کی طرح ہے کہ جب اس کا کوئی عضو تکلیف میں ہوتا ہے، تو سارا جسم اس تکلیف کو محسوس کرتا ہے، بایں طور کہ نیند اڑ جاتی ہے اور پورا جسم بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔"متفق عليه
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "وہ شخص ہم میں سے نہیں، جس نے رخسار پیٹا، گریبان چاک کیا اور زمانۂ جاہلیت کی طرح بین کیا۔"متفق عليه
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی ایک زوجہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا : ”جو کسی عرّاف (غیبی امور کے جاننے کا دعوی رکھنے والے) کے پاس آئے اور اس سے کسی چیز کے متعلق پوچھے، تو چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں کی جائے گی“۔رواه مسلم
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”ایمان کی تہتّر سے زیادہ -یا ترسٹھ سے زیادہ- شاخیں ہیں، جن میں سے سب سے افضل شاخ لا الہ الا اللہ کہنا ہے اور سب سے کم مرتبہ والی شاخ راستے سے کسی تکلیف دہ چیز کو ہٹانا ہے اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے“۔متفق عليه
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "جس نے امانت کی قسم کھائی، وہ ہم میں سے نہیں ہے"۔رواه أبو داود وأحمد
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : "(کامل) مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان (کی ایذا رسانی) سے مسلمان محفوظ رہیں اور (حقیقی) مہاجر وہ ہے جس نے ان تمام چیزوں کو چھوڑ دیا جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔"متفق عليه
عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے : اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، خانۂ کعبہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔“متفق عليه
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے, وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: "تم میں سے جو شخص منکر (غلط کام ) دیکھے، وہ اسے اپنے ہاتھ (قوت) سے بدل دے۔ اگر اس کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اپنی زبان سے اس کی نکیر کرے۔ اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو اپنے دل میں (اسے برا جانے اور اسے بدلنے کی مثبت تدبیر سوچے) اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے"۔رواه مسلم
ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "پاکیزگی نصف ایمان ہے۔ الحمد لله ترازو کو بھر دیتا ہے، سبحان الله اور الحمد لله آسمانوں سے زمین تک کی وسعت کو بھر دیتے ہیں۔ نماز نور ہے، صدقہ دلیل ہے، صبر روشنی ہے۔ قرآن تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف حجت ہے، ہر انسان دن کا آغاز کرتا ہے، تو (کچھ اعمال کے عوض) اپنا سودا کرتا ہے، پھر یا تو خود كو آزاد کرنے والا ہوتا ہے يا خود کو تباہ کرنے والا"۔رواه مسلم
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ابن جدعان زمانۂ جاہلیت میں صلہ رحمی کرتا اور مسکینوں کو کھانا کھلاتا تھا۔ کیا یہ عمل اسے فائدہ پہنچائے گا؟ آپ نے فرمایا: "یہ عمل اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گا۔ اس نے کبھی یہ نہیں کہا: اے میرے رب! قیامت کے دن میرے گناہوں کو معاف کردینا"۔رواه مسلم
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا: ''بے شک آدمی اور شرک و کفر کے درمیان (فاصلہ مٹانے والا عمل) نماز کا ترک کرنا ہے''۔رواه مسلم
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "ثَلاَثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ حَلاَوَةَ الإِيمَانِ: أَنْ يَكُونَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا، وَأَنْ يُحِبَّ المَرْءَ لاَ يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ، وَأَنْ يَكْرَهَ أَنْ يَعُودَ فِي الكُفْرِ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ".متفق عليه
عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا : "جس نے اللہ کو رب، اسلام کو دین اور محمد ﷺ کو اپنا رسول تسلیم کرلیا اس نے ایمان کی چاشنی پالی۔"رواه مسلم
عن جابر بن عبد الله قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا خطب احمرَّتْ عيناه، وعلا صوته، واشتد غضبه، حتى كأنه مُنذِرُ جيشٍ يقول: صبَّحكم ومسَّاكم، ويقول: «بُعثتُ أنا والساعةُ كهاتين»، ويقرن بين إصبعيه السبابة، والوسطى، ويقول: «أما بعد، فإن خير الحديث كتاب الله، وخير الهدى هدى محمد، وشر الأمور محدثاتها، وكل بدعة ضلالة» ثم يقول: «أنا أولى بكل مؤمن من نفسه، من ترك مالًا فلأهله، ومن ترك دينًا أو ضَياعًا فإليَّ وعليَّ».رواه مسلم