حدیث برائے عالم
پورے سائز میں دیکھنے کے لیے تصویر پر ٹیپ کریں
فقہ و اصولِ فقہ
19 زبانوں میں دستیاب
«ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یوم عاشوراء کا روزہ رکھا اور (دوسروں کو بھی) اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا۔»

ترجمۂ مفہوم ·

حدیث کی شرح

مفہوم آسان الفاظ میں

علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ عاشوراء کا روزہ سنت ہے، واجب نہیں ہے تاہم ابتدائے اسلام میں جب رمضان سے پہلے اس دن کا روزہ مشروع ہوا تو اس کے حکم کے سلسلے میں ان کے مابین اختلاف پایا جاتا ہے کہ آیا وہ واجب تھا یا نہیں؟ اگر اس گروہ کی رائے کو درست مان بھی لیا جائے جن کا کہنا ہے کہ یہ واجب تھا تو پھر بھی صحیح احادیث کی وجہ سے اس کا وجوب منسوخ ہوچکاہے۔ انہی احادیث میں سے ایک اُم المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث ہے جس میں وہ فرماتی ہیں کہ قریش دورِ جاہلیت میں عاشوراء کے دن کا روزہ رکھا کرتے تھے۔ بعدازاں آپ ﷺ نے اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا تاوقتیکہ کہ رمضان کے روزے فرض ہوگئے۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو چاہے وہ اس دن روزہ رکھے اور جو چاہے روزہ نہ رکھے۔ (بخاری ومسلم)

ماخذ
متفق علیہ
تصویر ڈاؤن لوڈ کریں

اصل معیار میں محفوظ ہوگی