حدیث برائے عالم
موضوع

فقہ و اصولِ فقہ

288 احادیث

288 احادیث

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک انصاری خاتون سے، (راوی حدیث کہتے ہیں) جس کا نام عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا تھا، لیکن میں اس کا نام بھول گیا، پوچھا : "تجھے ہمارے ساتھ حج کرنے سے کس چیز نے روکا؟" اس نے جواب دیا : ہمارے پاس صرف دو ہی اونٹ تھے۔ ایک پر سوار ہوکر میرے بیٹے کے والد اور میرے بیٹے نے حج کیا، جب کہ دوسرا اونٹ ہمارے پاس پانی لانے کے لیے چھوڑ گئے۔ اس کی بات سن کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "جب رمضان آئے تو تم عمرہ کر لینا۔ کیوں کہ رمضان میں کیا گیا عمرہ حج کے برابر ہے۔"متفق عليه
فضالہ بن عبید، سلمان فارسی اور عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر مرنے والے کا عمل اس کی موت کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے، سوائے اس شخص کے جو اللہ کی راہ (یعنی جہاد) میں سرحد پر پہرہ دیتا ہے۔ یقیناً اس کا عمل تاروز قیامت بڑھایا جاتا رہتا ہے اور قبر کی آزمائش سے بھی اس کو محفوظ رکھا جاتا ہے“۔اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ كو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ”جس شخص نے حج کیا اور اس نے (اس دوران) جماع اور اس کے مقدمات، فحش گوئی اور گناہ کے کاموں سے پرہیز کیا، تو وہ (حج کے بعد گناہوں سے پاک ہو کر اس طرح) لوٹتا ہے، جیسے اس دن تھا، جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا“۔متفق عليه
امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہيں: اے اللہ کے رسول! ہم جہاد کو سب سے افضل عمل سمجھتے ہیں، لہذا کیا ہم جہاد نہ کریں؟ آپ نے فرمایا : "نہیں، لیکن (تمہارے لیے) سب سے افضل جہاد حج مقبول ہے۔“رواه البخاري
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ (روز قیامت) اگلوں اور پچھلوں کو جمع کرے گا تو ہر عہد شکن کے لیے ایک جھنڈا بلند کیا جائے گا، اور کہا جائے گا: یہ فلان بن فلاں کی عہد شکنی (کا نشان) ہے۔“متفق علیہ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : ایک عورت اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے کسی غزوے میں مقتول پائی گئی، تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے عورتوں اور بچوں کے قتل کی نکیر فرمائی۔متفق عليه
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لڑائی میں، جس میں دشمن سے سامنا تھا، سورج ڈھلنے کا انتظار کیا۔ پھر ان کے بیچ کھڑے ہوکر فرمایا: ”لوگو! دشمنوں سے مقابلہ کی تمنا نہ کرو اور اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کرو۔ لیکن جب ان سے مقابلہ ہو جائے، تو صبر سے کام لو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے“۔ پھر فرمایا:”اے اللہ! کتابوں کے نازل فرمانے والے، بادلوں کو چلانے والے اور جتھوں کو شکست دینے والے! انھیں شکست سے دوچار کردے اور ہمیں ان پر غلبہ عطا فرما“۔متفق علیہ
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ: ’’قریش کو اس مخزومی عورت کے معاملہ نے، جس نے چوری کا ارتکاب کیا تھا، فکر مند کردیا تھا، وہ (آپس میں) کہنے لگے: اس عورت کے سلسلہ میں کون رسول اللہ رسول اللہ ﷺ سے بات کرے گا؟ لوگوں نے کہا: رسول اللہﷺ کے چہیتے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے سوا اور کس کو اس کی جرأت ہو سکتی ہے؟ چناں چہ اسامہ رضی اللہ عنہ نے آپ سے (اس سلسلہ میں) گفتگو کی تو آپ نے فرمایا: ”اسامہ! کیا تم اللہ کے حدود میں سے ایک حد کے سلسلہ میں سفارش کرتے ہو؟“، پھر آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر خطاب فرمایا: ”تم سے پہلے کے لوگوں کو بھی اسی چیز نے ہلاک کیا ہے کہ جب ان میں سے کوئی معزز آدمی چوری کر لیتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب ان میں کا کوئی کمزور و ضعیف آدمی چوری کرتا تو اس پر حد قائم کردیتے، یاد رکھو، اللہ کی قسم! اگر فاطمہ بنت محمد (ﷺ) بھی چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا“۔ دوسری حدیث کے الفاظ کجھ اس طرح ہیں: ”ایک عورت سامان مانگ کر لے جایا کرتی تھی اور واپسی کے وقت اس کا انکار کردیا کرتی تھی، تو نبی ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔“متفق علیہ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنما سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے منت ماننے سے منع فرمایا اور کہا : "منت کوئی خیر نہیں لاتی۔ اس کے ذریعے بس کنجوس کا مال نکالا جاتا ہے۔"متفق عليه
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "قیامت کے دن لوگوں کے درمیان سب سے پہلے خون کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔"متفق عليه
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایک چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ قیمت کی چیز چرانے پر ہاتھ کاٹا جائے گا“۔متفق علیہ
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جہاد میں ایک دن کی پہرے داری دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے، اور تم میں سے کسی کے کوڑے کے برابر جنت کی جگہ دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے، اور بندے کا ایک شام یا ایک صبح اللہ کے راستے میں نکلنا دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے“۔متفق علیہ
ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : اللہ کے رسول ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص اپنی بہادری کی نمائش کے لیے جنگ کرتا ہے، ایک شخص مجرد حمیت کی بنا پر لڑتا ہے اور ایک شخص محض دکھاوے کے لیے لڑتا ہے، ان میں سے کون اللہ کی راہ میں ہے؟ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے لڑتا ہے، صرف اسی کا لڑنا اللہ کے راستے میں ہے“۔متفق عليه
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص بھی اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہوئے زخمی ہوا وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے زخم سے خون بہہ رہا ہو گا جس کا رنگ تو خون جیسا ہوگا لیکن خوشبو مشک کی سی ہوگی“۔متفق علیہ
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے کوئی ایسا کتّا رکھا جو نہ تو شکار کی غرض سے ہو اور نہ ہی مال مویشی کی حفاظت کے لیے تو اس کہ وجہ سے اس کے اجر سے روزانہ دو قیراط کی کمی ہو جاتی ہے“۔ سالم کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے: ”یا کھیتی کی حفاظت کرنے والا کتّا“۔ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کھیتی باڑی والے آدمی تھے۔متفق علیہ
ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نےرسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر درخت کے نیچے بیعت کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین پر ہونے کی جھوٹی قسم قصداً کھائے، وہ ویسا ہی ہو جائے گا، جیسا کہ اس نے کہا ہے۔ جو شخص خود کو دھار دار چیز سے ذبح کر لے، اسے جہنم میں اسی ہتھیار سے عذاب ہوتا رہے گا اور آدمی پر اس چیز کی نذر نہیں، جس کا وہ مالک نہ ہو“۔ اور ایک روایت میں ہے: ”مسلمان پر لعنت بھیجنا ،اس کا خون کرنے کے برابر ہے“۔ ایک دوسری روایت میں ہے:”جس نے (مال میں) اضافے کے لیے جھوٹا دعویٰ کیا، اللہ تعالیٰ اس ( کے مال) کی قلت ہی میں اضافہ کرے گا“۔متفق علیہ
ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ نے فرمایا : "جس نے ہم پر ہتھیار اٹھایا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔"متفق عليه
عبداللہ بن اوفیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ”ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سات غزوات میں شامل ہوئے (جن کے دوران میں ) ہم ٹڈیاں کھاتے تھے“۔متفق علیہ
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم مؤذّن کو (اذان دیتے ہوئے) سنو، تو ویسے ہی کہو، جیسے وہ کہتا ہے“۔متفق عليه
مغیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : میں ایک سفر میں اللہ کے نبی ﷺ کے ساتھ تھا۔ میں نے آپ ﷺ کے موزے اتارنے کے لیے ہاتھ بڑھایا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : "انہیں رہنے دو۔ میں نے ان کے اندر اپنے پاؤں طہارت کی حالت میں داخل کیے تھے"۔ پھر آپ نے موزوں پر مسح فرمایا۔متفق عليه
عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مکہ میں ثنیہ بالا کے مقام کداء سے جو بطحا میں ہے، داخل ہوئے تھے اور ثنیہ زیریں کی طرف سے باہر نکلے تھے۔متفق علیہ
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ وہ حجرِ اسود کے پاس آئے اور اس کا بوسہ لینے کے بعد کہنے لگے: مجھے اچھی طرح سے علم ہے کہ تو ایک پتھر ہے ۔ تو نہ کچھ نقصان دے سکتا ہے اور نہ کوئی نفع۔ اگر میں نے نبی ﷺ کو تمہارا بوسہ لیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تمہارا بوسہ نہ لیتا۔متفق علیہ
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنی صفیں درست کر لیا کرو۔ اس لیے کہ صفوں کی درستگی نماز کو کامل بنانے والی چیزوں میں سے ایک ہے۔"متفق عليه
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "دنیا شیریں اورسرسبز وشاداب ہے اور اللہ اس میں تمہیں یکے بعد دیگرے بھیجنے والا ہے اور وہ دیکھنا چاہتا ہے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔ لہذا دنیا سے بچو اور عورتوں سے بچو، کیونکہ بنی اسرائیل میں رونما ہونے والا پہلا فتنہ عورتوں کا ہی تھا۔"رواه مسلم