UR
فقہ و اصولِ فقہ
طب، علاج معالجہ اور شرعی دم
9 احادیث
طبِ نبوی
3
رقیہ شرعیہ، شرعی جھاڑ پھونک/ شرعی دم
3
9 احادیث
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے عطاء ابن ابی رباح سے کہا کہ کیا تمہیں میں ایک جنتی عورت کو نہ دکھاؤں؟ عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ ضرور دکھائیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایک سیاہ فام عورت نبی ﷺ کی خدمت میں آئی اور کہنے لگی کہ مجھے مرگی کا دورہ پڑتا ہے اور اس کی وجہ سے میرا ستر کھل جاتا ہے۔ میرے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو صبر کرو تمہیں اس پر جنت ملے گی اور اگر چاہو تو میں تمہارے لیے اللہ سے اس مرض سے نجات کی دعا کر دیتا ہوں“۔ اس نے عرض کیا کہ میں صبر کروں گی۔ پھر اس نے کہا کہ (مرگی کے وقت) میرا ستر کھل جاتا ہے، آپ دعا فرما دیں کہ میرا ستر نہ کھلا کرے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اس کے لیے دعا فرمائی۔
متفق علیہ
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے ثابت رحمہ اللہ سے کہا: کیا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کا بتلایا ہوا دم نہ کروں؟ انہوں نے جواب دیا کہ کیوں نہیں۔ انس رضی اللہ عنہ نے یہ دعا پڑھی: ”اللَّهُمَّ رَبَّ النَّاسِ، مُذْهِبَ البَأسِ، اشْفِ أنْتَ الشَّافِي، لاَ شَافِيَ إِلاَّ أنْتَ، شِفَاءً لاَ يُغَادِرُ سَقماً“ اے اللہ، اے لوگوں کے پروردگار، اے پریشانی کو دورکرنے والے! تو شفا عطا فرما، تو ہی شفا دینے والا ہے، تیرے سوا کوئی شفا دینے والا نہیں ہے، ایسی شفا جو بیماری کو باقی نہ چھوڑے۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
اُمُّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”بخار جہنم کی بھاپ سے ہوتا ہے اس کو پانی سے ٹھنڈا کرو“۔
متفق علیہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ”مدینہ کے راستوں پر نگراں فرشتے (مقرر) ہیں نہ اس میں طاعون آ سکتا ہے اور نہ ہی دجال“۔
متفق علیہ
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت کی ہلاکت، طعنہ زنی اور طاعون میں ہے۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! طعنہ زنی کو تو ہم جانتے ہیں، طاعون کیا چیز ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ تمہارے دشمن جنات کا طعنہ ہے۔ اور (طاعون ہو یا طعنہ زنی) ہر ایک میں شہداء ہیں۔
اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
🔶 سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہر دن صبح کے وقت سات عجوہ کھجوریں کھالیں ، اسے اس دن نہ زہر نقصان پہنچا سکے گا اور نہ جادو ۔ 📜 صحیح البخاری 5445
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الشِّفَاءُ فِي ثَلاَثَةٍ: فِي شَرْطَةِ مِحْجَمٍ، أَوْ شَرْبَةِ عَسَلٍ، أَوْ كَيَّةٍ بِنَارٍ، وَأَنَا أَنْهَى أُمَّتِي عَنِ الكَيِّ».
رواه البخاري
🔶 عبد الله ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہ کے لئے پناہ طلب کیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ تمہارے بزرگ دادا ( ابراہیم علیہ السلام ) بھی ان کلمات کے ذریعہ اللہ کی پناہ اسماعیل اوراسحاق علیہ السلام کے لئے مانگا کرتے تھے “ میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے پورے پورے کلمات کے ذریعہ ہر ایک شیطان سے اور ہر زہریلے جانور سے اور ہرنقصان پہنچانے والی نظر بد سے ۔ 📜 صحيح البخاري 3371
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ أَمَرَ أَنْ يُسْتَرْقَى مِنَ العَيْنِ.
متفق عليه