UR
طب، علاج معالجہ اور شرعی دم
رقیہ شرعیہ، شرعی جھاڑ پھونک/ شرعی دم
3 احادیث
جھاڑ پھونک کے احکام
1
3 احادیث
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے ثابت رحمہ اللہ سے کہا: کیا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کا بتلایا ہوا دم نہ کروں؟ انہوں نے جواب دیا کہ کیوں نہیں۔ انس رضی اللہ عنہ نے یہ دعا پڑھی: ”اللَّهُمَّ رَبَّ النَّاسِ، مُذْهِبَ البَأسِ، اشْفِ أنْتَ الشَّافِي، لاَ شَافِيَ إِلاَّ أنْتَ، شِفَاءً لاَ يُغَادِرُ سَقماً“ اے اللہ، اے لوگوں کے پروردگار، اے پریشانی کو دورکرنے والے! تو شفا عطا فرما، تو ہی شفا دینے والا ہے، تیرے سوا کوئی شفا دینے والا نہیں ہے، ایسی شفا جو بیماری کو باقی نہ چھوڑے۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
🔶 عبد الله ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہ کے لئے پناہ طلب کیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ تمہارے بزرگ دادا ( ابراہیم علیہ السلام ) بھی ان کلمات کے ذریعہ اللہ کی پناہ اسماعیل اوراسحاق علیہ السلام کے لئے مانگا کرتے تھے “ میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے پورے پورے کلمات کے ذریعہ ہر ایک شیطان سے اور ہر زہریلے جانور سے اور ہرنقصان پہنچانے والی نظر بد سے ۔ 📜 صحيح البخاري 3371
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ أَمَرَ أَنْ يُسْتَرْقَى مِنَ العَيْنِ.
متفق عليه