حدیث برائے عالم
پورے سائز میں دیکھنے کے لیے تصویر پر ٹیپ کریں
فقہ و اصولِ فقہ
15 زبانوں میں دستیاب
«عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھو۔ پھر فرمایا: جس کا جی چاہےمغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھے۔ یہ اس اندیشے سے فرمایا کہ لوگ اس کو سنت (لازمہ) نہ بنالیں۔»

ترجمۂ مفہوم ·

حدیث کی شرح

مفہوم آسان الفاظ میں

حدیث شریف میں مغرب سے پہلے دو رکعت پڑھنے کی ترغیب ہے اور یہ مغرب کی اذان کے بعد نفلی طور پر پڑھنا ہے جس کا جی چا ہے۔ البتہ یہ سنت مؤکدہ میں سے نہیں ہیں لہذا اس پر مداومت نہ برتی جائے تاکہ یہ نماز سنت مؤکدہ کے جیسی نہ ہو جائے۔ نماز مغرب سے قبل دو رکعت کا ذکر سنت کی تینوں قسم (یعنی قولی، فعلی اور تقریری) میں آیا ہے۔ (قولی سنت) رسول اللہ ﷺ نے اس کے پڑھنے کا حکم دیا، (فعلی سنت) آپﷺ نے ان دو رکعتوں کو پڑھا جیسا کہ ابن حبان کی روایت میں ہے، (تقریری سنت) آپﷺ نے صحابہ کو یہ نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اور انھیں اس پر باقی رکھا۔

ماخذ
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
تصویر ڈاؤن لوڈ کریں

اصل معیار میں محفوظ ہوگی