حدیث برائے عالم
پورے سائز میں دیکھنے کے لیے تصویر پر ٹیپ کریں
فقہ و اصولِ فقہ
17 زبانوں میں دستیاب
«انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کا گزر ایک عورت کے پاس سے ہوا جو قبر کے پاس بیٹھی رو رہی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ سے ڈرو اور صبر کرو۔ وہ بولی آپ جائیں ۔ آپ پر تو وہ مصیبت آئی ہی نہیں جو مجھ پر پڑی ہے۔ اس نے آپ ﷺ کو پہچانا نہ تھا۔ پھر جب لوگوں نے اسے بتایا کہ یہ نبی ﷺ تھے تو وہ (گھبرا کر) نبی ﷺ کے دروازہ پر آئی۔ آپ ﷺ کے پاس اسے کوئی دربان نہ ملا۔ کہنے لگی: میں نے آپ کو پہچانا نہیں تھا۔(مجھے معاف کر دیجئے)۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا:”صبر وہی ہے جو پہلے صدمہ کے وقت ہو‘‘۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ’’وہ اپنے بچے کی وفات پر رو رہی تھی“۔»

ترجمۂ مفہوم ·

حدیث کی شرح

مفہوم آسان الفاظ میں

نبی ﷺ کا گزر ایک عورت کے پاس سے ہوا جو اپنے مر جانے والے بچے کی قبر کے پاس بیٹھی رو رہی تھی۔ وہ اس سے بہت زیادہ پیار کرتی تھی چنانچہ اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکی اور اس کی قبر پر آ کر رونے لگی۔ جب نبی ﷺ نے اسے دیکھا تو آپ ﷺ نے اسے اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے اور صبر کرنے کی تلقین فرمائی۔ وہ کہنے لگی: مجھ سے دور ہٹو، تمہیں تو وہ مصیبت نہیں پہنچی ہے جو مجھے لاحق ہوئی ہے۔ پھر جب اسے بتایا گیا کہ یہ رسول اللہ ﷺ تھے تو وہ نادم ہو کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آپ ﷺ کے دروازے پر آئی۔ دروازے پر لوگوں کو آپ کے پاس آنے سے روکنے کے لیے کوئی دربان نہیں تھا۔ اس نے آپ ﷺ کو بتاتے ہوئے کہا کہ میں نے آپ کو پہچانا نہیں تھا (اس لیے یہ سب کہہ بیٹھی)۔ اس پر نبی ﷺ نے اسے بتایا کہ وہ صبر جس پر انسان کو ثواب دیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ انسان اس وقت صبر کرے جب اسے مصیبت ابھی ابھی پہنچی ہی ہو۔

ماخذ
متفق علیہ
تصویر ڈاؤن لوڈ کریں

اصل معیار میں محفوظ ہوگی