حدیث برائے عالم
پورے سائز میں دیکھنے کے لیے تصویر پر ٹیپ کریں
فضائل و آداب

خولہ انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا:

70 زبانوں میں دستیاب
«خولہ انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا: ”بلاشبہ کچھ لوگ اللہ کے مال میں ناحق تصرف کرتے ہیں۔ چنانچہ ایسے لوگوں کے لیے قیامت کے دن جہنم ہے“۔»

ترجمۂ مفہوم ·

حدیث کی شرح

مفہوم آسان الفاظ میں

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ کچھ لوگ مسلمانوں کے مال میں غلط تصرف کرتے ہيں اور اس پر ناحق قبضہ کر بیٹھتے ہیں۔ دراصل یہ ایک عام معنى ہے، جس میں ناجائز طریقے سے مال جمع کرنا، کمانا اور غلط جگہوں میں خرچ کرنا سب کچھ شامل ہے۔ اس کے دائرے میں یتیموں کا مال ہڑپ جانا، وقف کے اموال پر قبضہ کر لینا، امانتوں کا انکار کر دینا اور بغیر کسی حق کے عوامی فنڈز پر ہاتھ صاف کرنا بھی آتا ہے۔ پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ قیامت کے دن ایسے لوگوں کی جزا جہنم ہے۔

ماخذ
رواه البخاري
تصویر ڈاؤن لوڈ کریں

اصل معیار میں محفوظ ہوگی