UR
موضوع
فضائل و آداب
288 احادیث
فضائل
64
علمِ اخلاق
56
شرعی آداب
67
فقہ الادعیہ والاذکار
62
دل کو نرم کرنے والی باتیں اور مواعظ
63
288 احادیث
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ (روز قیامت) اگلوں اور پچھلوں کو جمع کرے گا تو ہر عہد شکن کے لیے ایک جھنڈا بلند کیا جائے گا، اور کہا جائے گا: یہ فلان بن فلاں کی عہد شکنی (کا نشان) ہے۔“
متفق علیہ
ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ’’کیا میں تم کو سب سے بڑے کبیرہ گناہ کے بارے میں نہ بتاؤں؟" یہ بات آپ ﷺ نے تین مرتبہ دہرائی۔ لوگوں نے کہا : "اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور ماں باپ کی نافرمانی کرنا۔" آپ ﷺ پہلے ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، لیکن سیدھے ہوکر بیٹھ گئے اور پھر فرمایا : "خبردار! جھوٹی بات کہنا"۔ آپ ﷺ اس بات کو اتنی مرتبہ دہراتے رہے کہ ہم نے کہا : کاش آپ ﷺ خاموش ہوجائیں‘‘۔
متفق عليه
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جہاد میں ایک دن کی پہرے داری دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے، اور تم میں سے کسی کے کوڑے کے برابر جنت کی جگہ دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے، اور بندے کا ایک شام یا ایک صبح اللہ کے راستے میں نکلنا دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے“۔
متفق علیہ
عبدالرحمن بن ابو لیلی سے روایت ہے کہ وہ حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے کہ اسی دوران انھوں نے پینے کے لیے پانی مانگا، تو ایک مجوسی نے ان کو پانی پیش کیا۔ جب اس نے پانی کا پیالہ ان کے ہاتھ میں رکھا، تو انھوں نے اسے اس سے مار دیا اور فرمایا : اگر میں اسے ایک دو بار اس سے منع نہ کیا ہوتا تو میں ایسا نہ کرتا - گویا وہ یہ کہنا چاہ رہے ہوں کہ: میں نے ایسا یوں ہی نہیں کیا - ، لیکن میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”نہ ریشم و دیباج پہنو، نہ سونے اور چاندی کے برتن میں کچھ پیو اور نہ ہی ان سے بنی پلیٹوں میں کچھ کھاؤ۔ یہ دنیا میں ان (کفار) کے لیے اور آخرت میں ہمارے لیے ہیں“۔
متفق عليه
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : "جس نے دنیا میں ریشمی لباس پہنا، وہ آخرت میں نہيں پہنے گا۔"
متفق عليه
ابو واقد حارث بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں تشریف فرما تھے اور لوگ بھی آپ ﷺ کے ساتھ بیٹھے تھے کہ اتنے میں تین افراد آئے۔ دو تو رسول اللہ ﷺ کی طرف آ گیے اور ایک واپس چلا گیا۔ وہ دونوں رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر کھڑے ہو گیے۔ ان میں سے ایک نے حلقے میں کچھ کشادگی دیکھی تو وہاں بیٹھ گیا اور دوسرا لوگوں کے پیچھے بیٹھ گیا جب کہ تیسرا واپس لوٹ گیا۔ جب رسول اللہ ﷺ (اپنی گفتگو سے) فارغ ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں تین افراد کے بارے میں نہ بتاوں؟ ان میں سے ایک نے اللہ کے پاس ٹھہرنا چاہا تو اللہ نے بھی اسے اپنے پاس ٹھہرا لیا جب کہ دوسرے نے حیا کی تو اللہ نے بھی اس سے حیا کی (کہ اسے مجلس کی برکت سے محروم نہ رکھا) اورتیسرے نے منہ موڑا تو اللہ نے بھی اس سے منہ موڑ لیا“۔
متفق علیہ
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب شام ہوتی، تو نبی ﷺ یہ دعائیہ کلمات کہتے: "أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ" ترجمہ: ہم نے شام کی اور اللہ کی بادشاہت کو دوام حاصل رہا۔ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ اکیلا ہے، اُس کا کوئی شریک نہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ میرے خیال میں آپ ﷺ ان کے ساتھ یہ کلمات بھی کہتے: "لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، ربِّ أَسْأَلُكَ خَيْرَ مَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَخَيْرَ مَا بَعْدَهَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَشَرِّ مَا بَعْدَهَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ الْكَسَلِ وَسُوءِ الْكِبَرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ "۔ ترجمہ: بادشاہی اسی کی ہے اور ہر قسم کی حمد بھی اُسی کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ اے میرے رب! میں تجھ سے اِس رات کی بھلائی چاہتا ہوں اور اُس کی بھی جو اس کے بعد ہے۔ اور اس رات کی برائی سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور اُس سے بھی جو اس کے بعد ہے۔ اے رب! میں سستی سے اور بڑھاپے کی برائی سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ اے رب ! میں جہنم اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ اور جب صبح کرتے، تو بھی یہی دعا پڑھتے، لیکن "أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ" فرماتے۔ترجمہ: ہم نے صبح کی اور اللہ کی بادشاہت کو دوام رہا۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
مغیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : میں ایک سفر میں اللہ کے نبی ﷺ کے ساتھ تھا۔ میں نے آپ ﷺ کے موزے اتارنے کے لیے ہاتھ بڑھایا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : "انہیں رہنے دو۔ میں نے ان کے اندر اپنے پاؤں طہارت کی حالت میں داخل کیے تھے"۔ پھر آپ نے موزوں پر مسح فرمایا۔
متفق عليه
مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی آدمی اپنے بھائی سے محبت کرتا ہو، تو اسے بتا دے کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے“
رواه أبو داود والترمذي والنسائي في الكبرى وأحمد
انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس تھا کہ اتنے میں ایک شخص کا اس کے قریب سے گزر ہوا۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ! میں اس شخص سے محبت کرتا ہوں۔ اس پر نبی ﷺ نے اس سے پوچھا: کیا تم نے اسے یہ بات بتائی ہے؟۔ اس نے جواب دیا : نہیں۔ آپﷺ نے فرمایا: اسے یہ بات بتادو۔ چنانچہ اس آدمی نے اس شخص کے پیچھے جا کر اسے بتایا کہ : میں اللہ کی خاطر تم سے محبت کرتا ہوں۔ اس پر اس شخص نے کہا: تم سے بھی وہ ذات محبت کرے، جس کی خاطر تم مجھ سے محبت کرتے ہو۔
اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بوڑھے مسلمان کی توقیر کرنا، حامل قرآن کا احترام کرنا جب کہ وہ قرآن میں غلو کرنے والا اور اس سے رو گردانی کرنے والا نہ ہو اور عادل بادشاہ کی عزت کرنا منجملہ طور پر اللہ کی تعظیم کرنا ہے“۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انھوں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے کہتے ہوئے سنا: "جب آدمی اپنے گھر میں داخل ہوتا ہے اور داخل ہوتے وقت اور کھانا کھاتے وقت اللہ کا نام لیتا ہے، تو شیطان اپنے ساتھیوں سے کہتا ہے: یہاں نہ تمھارے لیے رات گزارنے کی جگہ ہے اور نہ رات کے کھانے کی گنجائش۔ اور جب وہ گھر میں داخل ہوتا ہے اور داخل ہوتے وقت اللہ کا نام نہيں لیتا، تو شیطان کہتا ہے: تم نے رات گزارنے کی جگہ پا لی اور جب کھانا کھاتے وقت اللہ کا نام نہیں لیتا، تو کہتا ہے : تم نے رات بتانے کی جگہ اور رات کا کھانا دونوں پا لیا۔"
رواه مسلم
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ہے : "کبیرہ گناہ ہيں: اللہ کا شریک ٹھہرانا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، کسی کا قتل کرنا اور جھوٹی قسم کھانا۔"
رواه البخاري
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "دنیا شیریں اورسرسبز وشاداب ہے اور اللہ اس میں تمہیں یکے بعد دیگرے بھیجنے والا ہے اور وہ دیکھنا چاہتا ہے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔ لہذا دنیا سے بچو اور عورتوں سے بچو، کیونکہ بنی اسرائیل میں رونما ہونے والا پہلا فتنہ عورتوں کا ہی تھا۔"
رواه مسلم
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حیا تو خیر ہی لاتی ہے“۔ ایک اور روایت میں ہے: «الحَيَاءُ خَيرٌ كُلُّهٌ» یعنی حیا سراپا خیر ہے۔ یا پھر آپﷺ نے یہ فرمایا: «الحَيَاءُ كُلُّهُ خَيرٌ» یعنی حیا سرتاپا خیر ہے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ
عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے:«اللَّهُم لَكَ أسْلَمْتُ وبِكَ آمنْتُ، وعليكَ توَكَّلْتُ، وإلَيكَ أنَبْتُ، وبِكَ خاصَمْتُ. اللَّهمَّ أعُوذُ بِعِزَّتِكَ، لا إلَه إلاَّ أنْتَ أنْ تُضِلَّنِي أنْت الْحيُّ الَّذي لاَ يَمُوتُ، وَالْجِنُّ وَالإِنْسُ يمُوتُونَ»۔ ترجمہ: اے اللہ ! میں نے تیرے ہی سامنے سر جھکایا، تجھ ہی پر ایمان لایا، میں نے تیرے ہی اوپر بھروسہ کیا اور تیری ہی طرف رجوع کیا ۔ میں نے تیری ہی مدد کے ساتھ مقابلہ کیا۔ میں تیری عزت کی پناہ مانگتا ہوں کہ تیسرے سوا کوئی دوسرا معبودِ برحق نہیں، یہ کہ تو مجھے گمراہ ہونے کے لیے چھوڑ دے، تو زندہ ہے، تجھے موت نہیں آئے گی جب کہ تمام جن و انس مر جائیں گے۔
متفق علیہ
جب کوئی آدمی سفر کا ارادہ کرتا تو ابن عمر رضی الله عنہما اس سے کہتے، مجھ سے قریب ہو جاؤ تاکہ میں تمہیں ایسے رخصت کروں جس طرح نبی ﷺ ہمیں رخصت کرتے تھے چنانچہ وہ کہتے تھے: «أَسْتَوْدِعُ الله دِينَكَ، وَأَمَانَتَكَ، وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكَ» یعنی ”میں تیرا دین، تیری امانت اور تیری زندگی کے آخری اعمال کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں“۔ عبداللہ بن یزید خطمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی لشکر کو رخصت فرماتے تو کہتے «أَسْتَودِعُ الله دِينَكُم، وَأَمَانَتَكُم، وخَوَاتِيمَ أَعْمَالِكُم» یعنی ”میں تمہارے دین، تمہاری امانت، اور تمہاری زندگی کے آخری اعمال کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ شخص ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹے پر شفقت نہیں کرتا اور ہمارے بڑے کے شرف وفضل کو نہیں پہچانتا“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ایک شخص نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے قیامت کے بارے میں پوچھا۔ اس نے کہا : قیامت کب آئے گی؟ آپ نے کہا : "تم نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے؟" اس نے کہا : تیاری تو ویسے کچھ نہيں کی ہے، لیکن اتنا ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے محبت رکھتا ہوں۔ اس پر آپ نے کہا : "تمھیں اس کا ساتھ نصیب ہوگا، جس سے تمھیں محبت ہے۔" انس رضی اللہ عنہ کہتے ہيں : ہمیں کسی چيز سے اتنی خوشی نہيں ملی، جتنا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے اس قول سے ملی کہ تمھیں اس کا ساتھ نصیب ہوگا، جس سے تمھیں محبت ہے۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہيں : میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما سے محبت رکھتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ اس محبت کی وجہ سے مجھے ان کا ساتھ نصیب ہوگا، گرچہ میں ان کے جیسا عمل نہ بھی کر سکوں۔
متفق عليه
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں سورج گرہن ہوا، تو نبی ﷺ گھبرا کر اٹھے، اس ڈر سے کہ کہیں قیامت نہ قائم ہو جائے۔ آپ ﷺ نے مسجد میں آ کر بہت ہی لمبے قیام اور لمبے سجدوں کے ساتھ نماز پڑھی۔ میں نے کبھی آپ ﷺ کو ایسی نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔ آپ ﷺ نے نماز کے بعد فرمایا: بے شک یہ نشانیاں ہیں، جنھیں اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے۔ یہ کسی کی موت و حیات کی وجہ سے نہیں آتیں، بلکہ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے۔ اس لیے جب تم اس طرح کی کوئی چیز دیکھو، تو فوراً اللہ تعالیٰ کے ذکر، دعا اور استغفار میں لگ جاؤ۔
متفق علیہ
انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کے زمانے میں دو بھائی تھے۔ ان میں سے ایک تو نبی ﷺ کی خدمت میں رہا کرتا تھا اور دوسرا کوئی کام کرتا تھا۔ کام کرنے والے نے اپنے بھائی کی نبی ﷺ کے حضور شکایت کی۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہو سکتا ہے کہ اسی کی وجہ سے تمھیں رزق دیا جاتا ہو“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔
ابوموسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: "اچھے ہم نشیں اور برے ہم نشیں کی مثال بعینہ ایسی ہی ہے جیسے کہ عطر فروش اور بھٹی پھونکنے والا۔ عطر فروش یا تو تمہیں عطر تحفے میں دے دے گا یا پھر تم اس سے عطر خرید لو گے یا ( کم از کم )تمہیں اس سے خوش بو تو آئے گی ہی۔ جب کہ بھٹی میں پھونکنے والا یا تو تمہارے کپڑے جلا ڈالے گا یا پھر تمہیں اس سے بدبو آئے گی۔"
متفق عليه
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیواؤں اور مسکینوں کے لیے تگ و دو کرنے والا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے یا رات میں قیام کرنے والے اور دن میں روزہ رکھنے والے کی طرح ہے۔“
متفق عليه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ کی تمام بیویوں میں جتنی غیرت مجھے خدیجہ رضی اللہ عنہا سے آتی تھی، اتنی کسی اور سے نہیں آتی تھی حالانکہ انہیں میں نے انہیں کبھی دیکھا بھی نہ تھا، لیکن آپ ﷺ ان کا ذکر بکثرت فرمایا کرتے تھے۔ آپ ﷺ جب کبھی بکری ذبح کرتے تو اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے خدیجہ رضی اللہ عنہا کی ملنے والیوں کو بھیجتے تھے۔ بسا اوقات میں آپ ﷺ سے کہتی : جیسے دنیا میں خدیجہ رضی اللہ عنہاکے سوا کوئی عورت ہے ہی نہیں! اس پر آپ ﷺ فرماتے کہ وہ ایسی تھیں اور ایسی تھیں اور ان سے میری اولاد ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ ﷺ اگر کبھی بکری ذبح کرتے تو ان سے میل محبت رکھنے والی خواتین کو اس میں سے اتنا ہدیہ بھیجتے جو ان کے لیے کافی ہو جاتا۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ آپ ﷺ جب کبھی بکری ذبح کرتے تو فرماتے کہ یہ خدیجہ کی سہیلیوں کے ہاں پہنچادو۔ ایک اور روایت میں ہے، عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی بہن، ہالہ بنت خویلد نے ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آنے کی اجازت مانگی تو آپ ﷺ کو خدیجہ رضی اللہ عنہا کا اجازت مانگنا یاد آگیا، آپ ﷺخوش ہو اٹھے اور فرمایا ”اللہ! یہ تو ہالہ بنت خویلد ہیں“۔
اس حدیث کی تمام روایات متفق علیہ ہیں۔
صفحہ 1 از 12
اگلا صفحہ