UR
فضائل و آداب
فضائل
64 احادیث
علم کی فضیلت
8
توحید کے فضائل
4
قرآن کریم کے فضائل
5
والدین کی فرماں برداری کے فضائل
3
صلہ رحمی کے فضائل
1
اہل بیت رضی اللہ عنہم کے فضائل
4
نیک اعمال کے فضائل
16
ذکر کے فضیلت
10
دعا کی فضیلت
5
قلبی اعمال کے فضائل
4
اعضاء کے اعمال کے فضائل
6
64 احادیث
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جہاد میں ایک دن کی پہرے داری دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے، اور تم میں سے کسی کے کوڑے کے برابر جنت کی جگہ دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے، اور بندے کا ایک شام یا ایک صبح اللہ کے راستے میں نکلنا دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے“۔
متفق علیہ
ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بوڑھے مسلمان کی توقیر کرنا، حامل قرآن کا احترام کرنا جب کہ وہ قرآن میں غلو کرنے والا اور اس سے رو گردانی کرنے والا نہ ہو اور عادل بادشاہ کی عزت کرنا منجملہ طور پر اللہ کی تعظیم کرنا ہے“۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حیا تو خیر ہی لاتی ہے“۔ ایک اور روایت میں ہے: «الحَيَاءُ خَيرٌ كُلُّهٌ» یعنی حیا سراپا خیر ہے۔ یا پھر آپﷺ نے یہ فرمایا: «الحَيَاءُ كُلُّهُ خَيرٌ» یعنی حیا سرتاپا خیر ہے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ
انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کے زمانے میں دو بھائی تھے۔ ان میں سے ایک تو نبی ﷺ کی خدمت میں رہا کرتا تھا اور دوسرا کوئی کام کرتا تھا۔ کام کرنے والے نے اپنے بھائی کی نبی ﷺ کے حضور شکایت کی۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہو سکتا ہے کہ اسی کی وجہ سے تمھیں رزق دیا جاتا ہو“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیواؤں اور مسکینوں کے لیے تگ و دو کرنے والا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے یا رات میں قیام کرنے والے اور دن میں روزہ رکھنے والے کی طرح ہے۔“
متفق عليه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ کی تمام بیویوں میں جتنی غیرت مجھے خدیجہ رضی اللہ عنہا سے آتی تھی، اتنی کسی اور سے نہیں آتی تھی حالانکہ انہیں میں نے انہیں کبھی دیکھا بھی نہ تھا، لیکن آپ ﷺ ان کا ذکر بکثرت فرمایا کرتے تھے۔ آپ ﷺ جب کبھی بکری ذبح کرتے تو اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے خدیجہ رضی اللہ عنہا کی ملنے والیوں کو بھیجتے تھے۔ بسا اوقات میں آپ ﷺ سے کہتی : جیسے دنیا میں خدیجہ رضی اللہ عنہاکے سوا کوئی عورت ہے ہی نہیں! اس پر آپ ﷺ فرماتے کہ وہ ایسی تھیں اور ایسی تھیں اور ان سے میری اولاد ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ ﷺ اگر کبھی بکری ذبح کرتے تو ان سے میل محبت رکھنے والی خواتین کو اس میں سے اتنا ہدیہ بھیجتے جو ان کے لیے کافی ہو جاتا۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ آپ ﷺ جب کبھی بکری ذبح کرتے تو فرماتے کہ یہ خدیجہ کی سہیلیوں کے ہاں پہنچادو۔ ایک اور روایت میں ہے، عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی بہن، ہالہ بنت خویلد نے ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آنے کی اجازت مانگی تو آپ ﷺ کو خدیجہ رضی اللہ عنہا کا اجازت مانگنا یاد آگیا، آپ ﷺخوش ہو اٹھے اور فرمایا ”اللہ! یہ تو ہالہ بنت خویلد ہیں“۔
اس حدیث کی تمام روایات متفق علیہ ہیں۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے کہ جب میں اپنے کسی مومن بندے سے، اہل دنیا میں سے اس کا کوئی عزیز لے لیتا ہوں اور وہ اس پر صبر کرتا ہے، تو اس کے لیے سوائے جنت کے میرے پاس کوئی اجر نہیں ہے“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
ام درداء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی کی اپنے بھائی کےحق میں پیٹھ پیچھے دعا قبول ہوتی ہے۔ اس کے سر پر ایک فرشتہ متعین ہوتا ہے اور جب بھی وہ اپنے بھائی کے لیے دعائے خیرکرتا ہے تو اس پر یہ متعین کردہ فرشتہ کہتا ہے: آمین، اور تیرے لیے بھی اس کی مثل ہو“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "سب سے بہتر دینار جو آدمی خرچ کرتا ہے، وہ دینار ہے، جسے وہ اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے، اور وہ دینار ہے جسے وہ اللہ کی راہ میں وقف کیے ہوئے اپني سواری کے جانور پر خرچ کرتا ہے اور وہ دینار ہے، جو اللہ کی راہ میں اپنے دوست احباب پر خرچ کرتا ہے"۔ ابو قلابہ کہتے ہیں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے آغاز اہل و عیال سے کیا ہے۔ پھر ابو قلابہ کہتے ہيں کہ اجر و ثواب میں اس آدمی سے بڑھ کر کون ہو سکتا ہے، جو چھوٹے چھوٹے بچوں پر اس لیے خرچ کرتا ہے کہ وہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بچ جائیں یا اللہ تعالی اس سے ان کو نفع پہنچائے اور بے نیاز کر دے"۔
رواه مسلم
ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب کوئی مومن، یا مسلم وضو کرتے وقت چہرہ دھوتا ہے، تو جیسے ہی چہرہ سے پانی گرتا ہے یا پانی کا آخری قطرہ گرتا ہے، اس کے وہ گناہ جھڑ جاتے ہیں، جو اس نے اپنی آنکھوں سے کیے تھے۔ جب وہ ہاتھ دھوتا ہے، تو جیسے ہی ہاتھوں سے پانی کے قطرے گرتے ہیں یا پانی کا آخری قطرہ گرتا ہے، تو اس کے وہ گناہ جھڑ جاتے ہیں، جو اس نے ہاتھوں سے کیے تھے اور جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے، تو جیسے ہی اس کے پاؤں سے پانی گرتا ہے یا پانی کا آخری قطرہ گرتا ہے، اس کے وہ تمام گناہ جھڑ جاتے ہیں، جو اس نے اپنے پاؤں سے کیے تھے، یہاں تک کہ وہ گناہوں سے پاک ہو جاتا ہے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ اور میری قبر کو میلہ گاہ نہ بناؤ۔ مجھ پر درود بھیجو۔ تمہارا بھیجا گیا درود مجھ تک پہنچتا ہے تم چاہے جہاں بھی رہو“۔
رواه أبو داود
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص دو لڑکیوں کو ان کے جوان ہونے تک پالے، تو قیامت کے دن میں اور وہ اس طرح سے آئیں گے“۔ یہ کہتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو ملا کر دکھایا۔
رواه مسلم
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’تم جنت میں اس وقت تک داخل نہیں ہو سکتے، جب تک مؤمن نہ بن جاؤ اور مؤمن اس وقت تک نہيں بس سکتے، جب تک ایک دوسرے سے محبت نہ کرنے لگو۔ کیا میں تمھیں ایسا کام نہ بتاؤں، جسے کرنے سے تم ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو گے؟ اپنے درمیان سلام عام کرو۔‘‘
رواه مسلم
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو مکہ کے کسی راستے میں ایک اعرابی ملا، تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اسے سلام کیا، اپنے گدھے پر سوار کیا، جس پر وہ خود سوار تھے اور اپنا عمامہ اتار کر پہنایا۔ ابن دینار کہتے ہیں کہ ہم نے (عبداللہ بن عمر سے) کہا: اللہ خیر فرمائے! یہ بدو لوگ معمولی دی ہوئی چیز پر راضی ہو جاتے ہیں! تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس شخص کا والد عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا دوست تھا اور میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے، آپ فرما رہے تھے: ”سب سے بڑی نیکی آدمی کا اپنے باپ کے دوست واحباب کے ساتھ حسن سلوک کرنا ہے“۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ابن دینار کی ایک روایت میں ہے کہ وہ جب مکے کی طرف روانہ ہوئے، تو ان کے پاس ایک گدھا تھا، جب اونٹ کی سواری سے تھک جاتے، تو اس پر آرام کرتے، پھر اونٹ پر سوار ہوجاتے اور ایک عمامہ تھا، جسے سر پرباندھتے تھے۔ ایک دن وہ اسی گدھے پر تھے کہ ان کے پاس سے ایک اعرابی گزرا، توانھوں نے اس سے کہا: تو فلاں بن فلاں ہے؟ اس نے کہا: ہاں! توانھوں نے اسے گدھا دے دیا اور اس سے کہا کہ اس پر سوار ہوجاؤ، پھر عمامہ دے دیا اور فرمایا: اسے اپنے سر پر باندھ لو۔ ان کے بعض احباب نے کہا: اللہ آپ کی مغفرت فرمائے، اس بدو کو آپ نے گدھا دے دیا، جس پر آپ آرام فرماتے ہیں اور عمامہ بھی، جسے آپ اپنے سر پر باندھتے ہیں؟ تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سناہے، آپ فرما رہے تھے: ”سب سے بڑی نیکی آدمی کا اپنے باپ کے مرنے کے بعد اس کے دوست واحباب کے ساتھ حسن سلوک کرنا ہے“۔ اس اعرابی کا باپ عمر رضی اللہ عنہ کا دوست تھا۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کیا میں تمہیں ایسی چیزیں نہ بتاؤں، جن سے اللہ تعالی گناہوں کو مٹاتا اور درجات کو بلند کر دیتا ہے؟" صحابہ نے عرض کیا : ضرور، اے اللہ کے رسولﷺ؟ آپﷺ نے فرمایا : "ناگواری کے باوجود اچھی طرح وضو کرنا، مسجد تک زیادہ قدم چلنا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا اور یہی رباط ( دشمنوں سے حفاظت کے لیے سرحد کی پہرہ داری کرنا ) ہے"۔
رواه مسلم
ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”کیا میں تمھیں ایسا عمل نہ بتاؤں جو تمھارے سارے اعمال سے بہتر، تمھارے مالک کے ہاں سب سے زیادہ پاکیزہ، تمھارے درجات کو سب سے زیادہ بلند کرنے والا ہے، تمھارے لیے سونا اور چاندی صدقہ کرنے سے زیادہ بہتر اور تمھارے لیے اس سے بھی زیادہ بہتر ہے کہ تمھارا مقابلہ تمھارے دشمن کے ساتھ ہو اور تم ان کی گردنیں اڑاؤ اور وہ تمھاری گردنیں اڑائیں؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا : کیوں نہیں! (ایسا عمل تو ضرور بتائیے) آپ نے فرمایا : ”(وہ ہے) اللہ تعالیٰ کا ذکر۔“
رواه الترمذي وابن ماجه وأحمد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ فرمایا کرتے تھے: ”پانچوں نمازیں، ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک اور ایک رمضان دوسرے رمضان تک اپنے مابین سرزد ہونے والے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں، بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے“۔
رواه مسلم
ابو سعید خدری اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "ایک مسلمان کو جو بھی تکان، مرض، پريشانی، صدمہ، تکلیف یا غم پہنچتا ہے، حتی کہ اگر كوئی کانٹا بھی چبھتا ہے، تو اللہ تعالی اس کے بدلے میں اس کے گناہ معاف کردیتے ہیں۔"
متفق عليه
ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”بہت سارے پراگندہ بال والے، لوگوں کے دھتکارے ہوئے ایسے ہیں کہ اگر اللہ تعالی پر قسم کھالیں تو اللہ تعالیٰ اُن کی قسم پوری فرما دے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’ناک خاک آلود ہو، پھر ناک خاک آلود ہو، پھر ناک خاک آلود ہو"۔ کسی نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! آپ کس کی بات کر رہے ہيں؟ آپ نے فرمایا : "اس شخص کی جس نے اپنے والدین کو بڑھاپے میں پایا، ان ميں سے کسی ایک کو یا دونوں کو، پھر (ان کی خدمت کرکے) جنت میں داخل نہ ہوسکا۔‘‘
رواه مسلم
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم مکے کے راستے میں محو سفر تھے۔ دوران سفر جُمْدان نامی ایک پہاڑ کے پاس سے گزرے تو فرمایا : ”چلتے رہو۔ یہ جمدان ہے۔ مفرِّدون سبقت لے گئے“۔ صحابہ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! مفرِّدون کون ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ”کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے مرد اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والی عورتيں‘‘۔
رواه مسلم
ابوہُریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کہ ایک صحابی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرے حُسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ فرمایا کہ تمہاری ماں ہے۔ پوچھا اس کے بعد کون ہے؟ فرمایا کہ تمہاری ماں ہے۔ انہوں نے پھر پوچھا اس کے بعد کون؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تمہاری ماں ہے۔انہوں نے پوچھا اس کے بعد کون ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پھر تمہارا باپ ہے۔ (متفق علیہ) ایک دیگر روایت میں ہے کہ (ایک آدمی نے عرض کیا) اے اللہ کے رسول ! سب سے زیادہ میرے حُسنِ سلوک کا کون حقدار ہے ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تیری ماں، پھر تیری ماں، پھر تیری ماں۔ اِس کے بعد تیرے باپ کا پھر جو تیرے قریب ہو پھر جو تیرے قریب ہو۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص طلب علم میں (اپنے گھر سے) نکلتا ہے وہ ایسے ہے جیسے اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا، یہاں تک کہ وہ واپس لوٹ آئے“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ انھوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا: ”اگر تم اللہ پر ویسے بھروسہ کرو، جیسا کہ بھروسہ کرنے کا حق ہے، تو تمہیں ایسے رزق دیا جائے، جیسے پرندوں کو رزق دیا جاتا ہے۔ وہ صبح خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو آسودہ حال واپس آتے ہیں“۔
رواه الترمذي وابن ماجه وأحمد
صفحہ 1 از 3
اگلا صفحہ