UR
فضائل
نیک اعمال کے فضائل
16 احادیث
علم کی فضیلت
8
توحید کے فضائل
4
قرآن کریم کے فضائل
5
والدین کی فرماں برداری کے فضائل
3
صلہ رحمی کے فضائل
1
اہل بیت رضی اللہ عنہم کے فضائل
4
نیک اعمال کے فضائل
16
ذکر کے فضیلت
10
دعا کی فضیلت
5
قلبی اعمال کے فضائل
4
اعضاء کے اعمال کے فضائل
6
16 احادیث
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جہاد میں ایک دن کی پہرے داری دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے، اور تم میں سے کسی کے کوڑے کے برابر جنت کی جگہ دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے، اور بندے کا ایک شام یا ایک صبح اللہ کے راستے میں نکلنا دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے“۔
متفق علیہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے کہ جب میں اپنے کسی مومن بندے سے، اہل دنیا میں سے اس کا کوئی عزیز لے لیتا ہوں اور وہ اس پر صبر کرتا ہے، تو اس کے لیے سوائے جنت کے میرے پاس کوئی اجر نہیں ہے“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "سب سے بہتر دینار جو آدمی خرچ کرتا ہے، وہ دینار ہے، جسے وہ اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے، اور وہ دینار ہے جسے وہ اللہ کی راہ میں وقف کیے ہوئے اپني سواری کے جانور پر خرچ کرتا ہے اور وہ دینار ہے، جو اللہ کی راہ میں اپنے دوست احباب پر خرچ کرتا ہے"۔ ابو قلابہ کہتے ہیں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے آغاز اہل و عیال سے کیا ہے۔ پھر ابو قلابہ کہتے ہيں کہ اجر و ثواب میں اس آدمی سے بڑھ کر کون ہو سکتا ہے، جو چھوٹے چھوٹے بچوں پر اس لیے خرچ کرتا ہے کہ وہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بچ جائیں یا اللہ تعالی اس سے ان کو نفع پہنچائے اور بے نیاز کر دے"۔
رواه مسلم
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ اور میری قبر کو میلہ گاہ نہ بناؤ۔ مجھ پر درود بھیجو۔ تمہارا بھیجا گیا درود مجھ تک پہنچتا ہے تم چاہے جہاں بھی رہو“۔
رواه أبو داود
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص دو لڑکیوں کو ان کے جوان ہونے تک پالے، تو قیامت کے دن میں اور وہ اس طرح سے آئیں گے“۔ یہ کہتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو ملا کر دکھایا۔
رواه مسلم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کیا میں تمہیں ایسی چیزیں نہ بتاؤں، جن سے اللہ تعالی گناہوں کو مٹاتا اور درجات کو بلند کر دیتا ہے؟" صحابہ نے عرض کیا : ضرور، اے اللہ کے رسولﷺ؟ آپﷺ نے فرمایا : "ناگواری کے باوجود اچھی طرح وضو کرنا، مسجد تک زیادہ قدم چلنا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا اور یہی رباط ( دشمنوں سے حفاظت کے لیے سرحد کی پہرہ داری کرنا ) ہے"۔
رواه مسلم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ فرمایا کرتے تھے: ”پانچوں نمازیں، ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک اور ایک رمضان دوسرے رمضان تک اپنے مابین سرزد ہونے والے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں، بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے“۔
رواه مسلم
ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”بہت سارے پراگندہ بال والے، لوگوں کے دھتکارے ہوئے ایسے ہیں کہ اگر اللہ تعالی پر قسم کھالیں تو اللہ تعالیٰ اُن کی قسم پوری فرما دے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”جو اس بات کا خواہش مند ہو کہ اس کی روزی میں فراخی ہو اور اس کی عمر دراز کر دی جائے، اسے چاہیے کہ صلہ رحمی کیا کرے“۔
متفق عليه
عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم مدینہ تشریف لائے، تو لوگ آپ کی جانب دوڑ پڑے۔ ہر طرف شور تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لا چکے ہيں، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لا چکے ہيں، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لا چکے ہيں۔ یہ جملہ انھوں نے تین بار دوہرایا۔ دیکھنے کے لیے میں بھی لوگوں کی بھیڑ میں داخل ہوا۔ جب دھیان سے آپ کا چہرہ دیکھا تو میرے لیے یہ حقیقت عیاں ہو گئی کہ یہ کسی جھوٹے کا چہرہ نہيں ہو سکتا۔ اس دوران میں نے آپ کو جو پہلی بات کہتے ہوئے سنی، وہ یہ تھی : "لوگو! سلام عام کرو، کھانا کھلاؤ، صلہ رحمی کرو اور رات میں جب لوگ سوئے ہوئے ہوں تو نماز پڑھو، سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤگے۔"
رواه الترمذي وابن ماجه وأحمد
علی رضی الله عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ جب کوئی مسلمان صبح کے وقت اپنے کسی مسلمان بھائی کی عیادت کرے، تو ستر ہزار فرشتے شام تک اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں۔ اور اگر کوئی شام کے وقت کسی مسلمان کی عیادت کرے تو صبح تک ستر ہزار فرشتے اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں، اور اس کے لیے جنت میں ایک باغ ہو گا۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
انس بن مالک اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اپنے رب سے روایت کیا ہے کہ اللہ عزوجل فرماتا ہے: ”جب بندہ مجھ سے ایک بالشت قریب ہوتا ہے، تو میں اُس سے ایک ہاتھ (گز) قریب ہوتا ہوں اور جب بندہ ایک ہاتھ قریب ہوتا ہے تو میں دو ہاتھ قریب ہوتا ہوں، جب بندہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑ کر جاتا ہوں“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے ایک شخص کو جنت میں اس وجہ سے گھومتے پھرتے دیکھا کہ اس نے بیچ راہ میں اُگے ایک درخت کو کاٹ کر ہٹا دیا تھا جو لوگوں کو تکلیف دے رہا تھا“۔ ایک اور روایت میں ہے کہ: ”ایک شخص کا راہ گزر میں پڑی درخت کی ایک شاخ کے پاس سے گزر ہوا۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں اسے ضرور ہٹاؤں گا تاکہ یہ مسلمانوں کو تکلیف نہ دے۔ اس نیکی کی وجہ سے وہ جنت میں داخل کر دیا گیا“۔ ایک اور روایت میں ہے کہ: ”ایک شخص راستے میں چلا جا رہا تھا۔ اسے راستے میں ایک شاخ پڑی ہوئی ملی۔ اس نے اسے دور ہٹا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کی قدردانی کرتے ہوئے اس کی بخشش کردی“۔
اس حديث کی دونوں روایتوں کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ
ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گيا کہ اس شخص کے بارے ميں آپ کا کيا خيال ہے جو نيک عمل کرتا ہے اور لوگ اس پر اس کی تعریف کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ مومن کے لیے پيشگی خوش خبری ہے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «مَن أصبح منكم اليوم صائمًا؟» قال أبو بكر رضي الله عنه: أنا، قال: «فمن تَبِعَ منكم اليوم جنازةً؟» قال أبو بكر رضي الله عنه: أنا، قال: «فمن أطعم منكم اليوم مسكينًا؟» قال أبو بكر رضي الله عنه: أنا، قال: «فمن عاد منكم اليوم مريضًا؟» قال أبو بكر رضي الله عنه: أنا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ما اجتمعن في امرئٍ إلا دخل الجنة».
رواه مسلم
عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا وَأَزِيدُ، وَمَنْ جَاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَجَزَاؤُهُ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا أَوْ أَغْفِرُ، وَمَنْ تَقَرَّبَ مِنِّي شِبْرًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ ذِرَاعًا، وَمَنْ تَقَرَّبَ مِنِّي ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا، وَمَنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً، وَمَنْ لَقِيَنِي بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطِيئَةً لَا يُشْرِكُ بِي شَيْئًا لَقِيتُهُ بِمِثْلِهَا مَغْفِرَةً».
رواه مسلم