حدیث برائے عالم
پورے سائز میں دیکھنے کے لیے تصویر پر ٹیپ کریں
عقیدہ
18 زبانوں میں دستیاب
«انس بن مالک اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اپنے رب سے روایت کیا ہے کہ اللہ عزوجل فرماتا ہے: ”جب بندہ مجھ سے ایک بالشت قریب ہوتا ہے، تو میں اُس سے ایک ہاتھ (گز) قریب ہوتا ہوں اور جب بندہ ایک ہاتھ قریب ہوتا ہے تو میں دو ہاتھ قریب ہوتا ہوں، جب بندہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑ کر جاتا ہوں“۔»

ترجمۂ مفہوم ·

حدیث کی شرح

مفہوم آسان الفاظ میں

جو شخص نیکیوں کے ذریعے اللہ تعالی کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے اگرچہ وہ کم ہی کیوں نہ ہوں اللہ تعالیٰ اسے کئی گنا زیادہ ثواب و اکرام سے نوازتا ہے اور جب جب وہ نیکی میں بڑھتا جاتا ہے تو وہ اس کے ثواب میں اضافہ کرتا ہے اور فوری طور پر اس پر اپنی رحمت اور فضل نچھاور کرتا ہے۔ اور یہ تفسیر اس اعتبار سے ہے کہ یہ حدیث صفات کی احادیث میں سے نہیں ہے، جیسا کہ اہل سنت و جماعت کے ایک بڑے گروہ کا مذہب ہے جو صفات کو ثابت کرتے ہیں اور انہی میں سے ابن تیمیہ ہیں اور ایک دوسری جماعت نے صفتِ ھرولۃ ’دوڑ کر آنے کی صفت‘ کو بغیر اس کی کیفیت میں کلام کیے اللہ تعالی کے لیے اثبات کیا ہے۔

ماخذ
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ
تصویر ڈاؤن لوڈ کریں

اصل معیار میں محفوظ ہوگی