فضائل و آداب
16 زبانوں میں دستیاب
«عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو مکہ کے کسی راستے میں ایک اعرابی ملا، تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اسے سلام کیا، اپنے گدھے پر سوار کیا، جس پر وہ خود سوار تھے اور اپنا عمامہ اتار کر پہنایا۔ ابن دینار کہتے ہیں کہ ہم نے (عبداللہ بن عمر سے) کہا: اللہ خیر فرمائے! یہ بدو لوگ معمولی دی ہوئی چیز پر راضی ہو جاتے ہیں! تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس شخص کا والد عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا دوست تھا اور میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے، آپ فرما رہے تھے: ”سب سے بڑی نیکی آدمی کا اپنے باپ کے دوست واحباب کے ساتھ حسن سلوک کرنا ہے“۔
ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ابن دینار کی ایک روایت میں ہے کہ وہ جب مکے کی طرف روانہ ہوئے، تو ان کے پاس ایک گدھا تھا، جب اونٹ کی سواری سے تھک جاتے، تو اس پر آرام کرتے، پھر اونٹ پر سوار ہوجاتے اور ایک عمامہ تھا، جسے سر پرباندھتے تھے۔ ایک دن وہ اسی گدھے پر تھے کہ ان کے پاس سے ایک اعرابی گزرا، توانھوں نے اس سے کہا: تو فلاں بن فلاں ہے؟ اس نے کہا: ہاں! توانھوں نے اسے گدھا دے دیا اور اس سے کہا کہ اس پر سوار ہوجاؤ، پھر عمامہ دے دیا اور فرمایا: اسے اپنے سر پر باندھ لو۔ ان کے بعض احباب نے کہا: اللہ آپ کی مغفرت فرمائے، اس بدو کو آپ نے گدھا دے دیا، جس پر آپ آرام فرماتے ہیں اور عمامہ بھی، جسے آپ اپنے سر پر باندھتے ہیں؟ تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سناہے، آپ فرما رہے تھے: ”سب سے بڑی نیکی آدمی کا اپنے باپ کے مرنے کے بعد اس کے دوست واحباب کے ساتھ حسن سلوک کرنا ہے“۔ اس اعرابی کا باپ عمر رضی اللہ عنہ کا دوست تھا۔»ترجمۂ مفہوم ·
اصل معیار میں محفوظ ہوگی







