حدیث برائے عالم
پورے سائز میں دیکھنے کے لیے تصویر پر ٹیپ کریں
فضائل و آداب
20 زبانوں میں دستیاب
«انس ابن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے گھر سے نکلتے ہوئے یہ کہے: ”بِسم الله تَوَكَّلتُ على اللهِ، وَلاَ حول ولا قُوَّة إِلَّا بالله“ تو (اس وقت) اس سے کہا جاتا ہے: تجھے ہدایت دے دی گئی، تیری طرف سے کفایت کر دی گئی اور تو بچا لیا گیا اور (یہ سن کر) شیطان اس سے پرے ہٹ جاتا ہے۔ ابو داود کی روایت میں یہ الفاظ زیادہ ہیں:”اس پر ایک شیطان دوسرے سے کہتا ہے :اس آدمی پر تمہارا بس کیسے چلےگا جسے ہدایت دےدی گئی، جس کی طرف سے کفایت کر دی گئی اور جسے بچا لیا گیا؟“۔»

ترجمۂ مفہوم ·

حدیث کی شرح

مفہوم آسان الفاظ میں

رسول اللہ ﷺ نےبتایا کہ جب کوئی آدمی اپنے گھر سے نکلتے ہوئے یہ کہتا ہے: ”باسم اللهِ، توَکَّلْتُ على اللهِ، لا حولَ ولا قوَّةَ إلا بالله“ تو ایک فرشتہ اسے پکار کر کہتا ہے: اے اللہ کے بندے!تجھے راہِ حق کی طرف ہدایت مل گئی، تیری پریشانی کا بار اٹھا لیا گیا اور تجھے دشمنوں سے محفوظ کر دیا گیا۔ ایسا کہنے پر اس پر متعین شیطان دور ہٹ جاتا ہے اور ایک دوسرا شیطان اس شیطان سے کہتا ہے: تم اس آدمی کو گمراہ کیسے کر سکتے ہو جسے ہدایت دے دی گئی، جس کی طرف سے اس کا بوجھ اٹھا لیا گیا اور اسے تمام شیطانوں سے بچا لیا گیا؟ چوں کہ اس نے یہ الفاظ کہہ دیے ہیں اس لیے اب تمہارا اس پر زور نہیں چلے گا۔

ماخذ
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔
تصویر ڈاؤن لوڈ کریں

اصل معیار میں محفوظ ہوگی