حدیث برائے عالم
پورے سائز میں دیکھنے کے لیے تصویر پر ٹیپ کریں
فضائل و آداب

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:

59 زبانوں میں دستیاب
«ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’ناک خاک آلود ہو، پھر ناک خاک آلود ہو، پھر ناک خاک آلود ہو"۔ کسی نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! آپ کس کی بات کر رہے ہيں؟ آپ نے فرمایا : "اس شخص کی جس نے اپنے والدین کو بڑھاپے میں پایا، ان ميں سے کسی ایک کو یا دونوں کو، پھر (ان کی خدمت کرکے) جنت میں داخل نہ ہوسکا۔‘‘»

ترجمۂ مفہوم ·

حدیث کی شرح

مفہوم آسان الفاظ میں

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کسی کے حق میں ذلت اور رسوائی کی بد دعا کرتے ہوئے ناک خاک آلود ہونے تک کی بات کہہ ڈالی اور یہ بات تین بار کہی۔ کسی نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! یہ بد دعا آپ کس کے حق میں فرما رہے ہيں؟ آپ نے کہا : جس نے اپنے والد اور والدہ دونوں یا دونوں میں سے ایک کو بڑھاپے میں پایا اور دونوں کو اپنے لیے جنت میں داخل ہونے کا سبب نہيں بنا سکا۔ کیوں کہ نہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا اور نہ ان کی فرماں برداری کی۔

ماخذ
رواه مسلم
تصویر ڈاؤن لوڈ کریں

اصل معیار میں محفوظ ہوگی