حدیث برائے عالم
پورے سائز میں دیکھنے کے لیے تصویر پر ٹیپ کریں
فضائل و آداب

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو آپ کی وفات سے تین دن پہلے یہ فرماتے ہوئے سنا:

53 زبانوں میں دستیاب
«جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو آپ کی وفات سے تین دن پہلے یہ فرماتے ہوئے سنا: "تم میں سے ہر شخص کی موت اس حالت میں آنی چاہیے کہ وہ اللہ سے اچھا گمان رکھتا ہو"۔»

ترجمۂ مفہوم ·

حدیث کی شرح

مفہوم آسان الفاظ میں

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کی ترغیب دے رہے ہیں کہ ایک مسلمان کی وفات اللہ سے حسن ظن رکھتے ہوئے ہونی چاہیے۔ موت کے وقت امید کا پہلو غالب رہنا چاہیے اور دل میں یہ بات ہونی چاہیے کہ اللہ اس پر رحم کرے گا اور عفو ودرگزر فرمائے گا۔ کیوں کہ دراصل خوف مطلوب ہے عمل کو بہتر بنانے کے لیے اور وہ وقت عمل کا وقت نہیں ہے۔ لہذا وہاں امید کا پہلو غالب ہونا چاہیے۔

ماخذ
رواه مسلم
تصویر ڈاؤن لوڈ کریں

اصل معیار میں محفوظ ہوگی