UR
دل کو نرم کرنے والی باتیں اور مواعظ
دل کے اعمال
14 احادیث
دل کے اعمال
14
زہد اور تقوی
2
نیک لوگوں کے احوال
4
گناہوں کی مذمت
6
حبِ دنیا کی مذمت
8
ہوائے نفس اور شہوات کی مذمت
1
توبہ
3
تزکیہ نفس
9
جنت و دوزخ کا بیان
17
14 احادیث
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ایک شخص نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے قیامت کے بارے میں پوچھا۔ اس نے کہا : قیامت کب آئے گی؟ آپ نے کہا : "تم نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے؟" اس نے کہا : تیاری تو ویسے کچھ نہيں کی ہے، لیکن اتنا ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے محبت رکھتا ہوں۔ اس پر آپ نے کہا : "تمھیں اس کا ساتھ نصیب ہوگا، جس سے تمھیں محبت ہے۔" انس رضی اللہ عنہ کہتے ہيں : ہمیں کسی چيز سے اتنی خوشی نہيں ملی، جتنا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے اس قول سے ملی کہ تمھیں اس کا ساتھ نصیب ہوگا، جس سے تمھیں محبت ہے۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہيں : میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما سے محبت رکھتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ اس محبت کی وجہ سے مجھے ان کا ساتھ نصیب ہوگا، گرچہ میں ان کے جیسا عمل نہ بھی کر سکوں۔
متفق عليه
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "اللہ تعالی کا ارشاد ہے : میں تمام شریکوں سے بڑھ کر شرک سے بے نیاز ہوں۔ جو کوئی ایسا عمل کرے، جس میں میرے ساتھ کسی دوسرے کو بھی شریک کرے، میں اس کو اور اس کے شرک کو چھوڑ دیتا ہوں۔"
رواه مسلم
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو آپ کی وفات سے تین دن پہلے یہ فرماتے ہوئے سنا: "تم میں سے ہر شخص کی موت اس حالت میں آنی چاہیے کہ وہ اللہ سے اچھا گمان رکھتا ہو"۔
رواه مسلم
نواس بن سمعان انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے نیکی اور گناہ کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ’’نیکی تو اچھا اخلاق ہے اور گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے اور تجھے یہ ناگوار ہو کہ لوگ اس سے باخبر ہوں‘‘۔
رواه مسلم
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تمھارے جسموں اور تمھاری شکلوں کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ تمھارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے“۔
رواه مسلم
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے اور آدمی کو وہی ملے گا، جس کی اس نے نیت کی۔ چنانچہ جس کی ہجرت اللہ تعالی اور اس کے رسول کے لیے ہو، تو اس کی ہجرت اللہ تعالی اور اس کے رسول کے لیے ہے اور جس کی ہجرت حصول دنیا کے لیے یا کسی عورت سے شادی کرنے کے لیے ہو، تو اس کی ہجرت اسی چیز کے لیے ہے، جس کے لیے اس نے ہجرت کی"۔جب کہ صحیح بخاری کی ایک روایت میں ہے : "اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے اور آدمی کو وہی ملے گا، جس کی اس نے نیت کی۔"
متفق عليه
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : "مضبوط مومن اللہ کے نزدیک کمزور مومن سے بہتر اور محبوب ہے۔ تاہم خیر تو دونوں ہی میں ہے۔ جو چیز تمہارے لیے فائدے مند ہو، اس کی حرص رکھو اور اللہ سے مدد مانگو اور عاجز نہ بنو۔ اگر تم پر کوئی مصیبت آ جائے، تو یہ نہ کہو کہ اگر میں ایسا کر لیتا، تو ایسا ہوجاتا۔ بلکہ یہ کہو کہ یہ اللہ کی تقدیر ہے اور وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ کیوں کہ ”اگر“ شیطان کے عمل دخل کا دروازہ کھول دیتا ہے“۔
رواه مسلم
عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”الله تعالی نے مجھ پر وحی نازل کی ہے کہ تواضع اختیار کرو یہاں تک کہ تم میں سے کوئی کسی پر ظلم نہ کرے اور نہ ہی کوئی کسی پر فخر کرے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک (کامل) مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک میں اس کے نزدیک اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں“۔
متفق عليه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ”انسان کانوں کی طرح ہیں جیسے سونا اور چاندی کی کانیں ہوتی ہیں، جو لوگ جاہلیت کے زمانے میں بہتر اور اچھی صفات کے مالک تھے، وہ اسلام لانے کے بعد بھی بہتر اور اچھی صفات والے ہیں بشرطیکہ وہ دین کا علم بھی حاصل کریں۔ روحوں کے جھنڈ کے جھنڈ الگ الگ تھے۔ پھر وہاں جن روحوں میں آپس میں پہچان تھی، ان میں یہاں بھی محبت ہوتی ہے اور جو وہاں غیر تھیں یہاں بھی وہ ایک دوسرے ناآشنا رہتی ہیں“۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم انسانوں کو کان کی طرح پاؤ گے، جو لوگ جاہلیت کے زمانے میں بہتر اور اچھی صفات کے مالک تھے، وہ اسلام لانے کے بعد بھی بہتر اور اچھی صفات والے ہیں بشرطیکہ وہ دین کا علم بھی حاصل کریں۔ اور تم حکومت اور سرداری کے لائق اس کو پاؤ گے جو حکومت اور سرداری کو بہت ناپسند کرتا ہو، اور آدمیوں میں سب سے برا اس کو پاؤ گے جو دورخہ (دوغلا) ہو، جو کچھ لوگوں کے سامنے ایک رخ سے آتا ہے اور دوسروں کے سامنے دوسرے رخ سے جاتا ہے“۔
اس حدیث کی دونوں روایات متفق علیہ ہیں۔
عبد اللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے (اللہ کو چھوڑ کر) کسی اور چیز سے امید لگائی، وہ اسی چیز کے سپرد کر دیا جاتا ہے“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
عن ابن عباس حسبنا الله ونعم الوكيل: «قالها إبراهيم عليه السلام حين أُلقي في النار، وقالها محمد صلى الله عليه وسلم حين قالوا: {إن الناس قد جمعوا لكم فاخشوهم فزادهم إيمانا، وقالوا: حسبنا الله ونعم الوكيل} [آل عمران: 173]».
رواه البخاري
عن جابر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا قضى أحدكم الصلاة في مسجده فليجعل لبيته نصيبًا من صلاته، فإن الله جاعلٌ في بيته من صلاته خيرًا».
رواه مسلم
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أُمِّ المؤْمنينَ رَضيَ اللهُ عنها أَنَّهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ تُصِيبُهُ مُصِيبَةٌ فَيَقُولُ مَا أَمَرَهُ اللهُ: {إِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ} [البقرة: 156]، اللَّهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي، وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا، إِلَّا أَخْلَفَ اللهُ لَهُ خَيْرًا مِنْهَا»، قَالَتْ: فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُ: أَيُّ الْمُسْلِمِينَ خَيْرٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ؟ أَوَّلُ بَيْتٍ هَاجَرَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم، ثُمَّ إِنِّي قُلْتُهَا، فَأَخْلَفَ اللهُ لِي رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم.
رواه مسلم