UR
دل کو نرم کرنے والی باتیں اور مواعظ
جنت و دوزخ کا بیان
17 احادیث
دل کے اعمال
14
زہد اور تقوی
2
نیک لوگوں کے احوال
4
گناہوں کی مذمت
6
حبِ دنیا کی مذمت
8
ہوائے نفس اور شہوات کی مذمت
1
توبہ
3
تزکیہ نفس
9
جنت و دوزخ کا بیان
17
17 احادیث
عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: "جس نے اس بات کی گواہی دی کہ اللہ تعالٰی کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی ساجھی اور شریک نہیں، اور بے شک محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں، بے شک عیسٰی علیہ السلام اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اور اس کا وہ کلمہ ہیں جو اس نے مریم تک پہنچایا تھا اور اس کی طرف سے ایک روح ہیں اور جنت اور دوزخ بر حق ہیں، اللہ تعالٰی اس کو جنت میں داخل فرمائے گا، خواہ اس کے اعمال جیسے بھی ہی ہوں"۔
متفق عليه
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "جنت تمہارے جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ تمہارے قریب ہے اور اسی طرح دوزخ بھی۔"
رواه البخاري
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جنت میں سو درجے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ میں جہاد کرنے والوں کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ہر دو درجوں میں اس قدر فاصلہ ہے جتنا آسمان و زمین کے مابین“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد ﷺ کے رسول ہونے پرراضی ہو گیا، اس کے لئے جنت واجب ہو گئی۔ اس پر ابو سعید نے متعجب ہو کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس بات کو دوبارہ کہیئے۔ آپ ﷺ نے اسے ان کے سامنے دوبارہ بیان کیا۔ پھر فرمایا: ایک اور (عمل) ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالی بندے کے جنت میں سو درجات بلند کرتا ہے۔ دو درجوں کے مابین اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان و زمین کے مابین فاصلہ ہے۔ انہوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! اوہ عمل کون سا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے راستے میں جہاد کرنا، اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن سب سے زیادہ عیش وعشرت میں رہنے والے دنیا دار دوزخی کو لایا جائےگا۔ اسے آگ میں ایک بار غوطہ دیا جائے گا اور پھر اس سے پوچھا جائے گا کہ اے ابن آدم! تو نے کبھی کوئی بھلائی دیکھی؟ کیا تجھے کبھی کوئی نعمت ملی؟ وہ کہے گا: اے میرے رب! واللہ کبھی نہیں۔ پھر دنیا میں جس نے سب سے زیادہ مصبیت زدگی میں زندگی گزاری ہو گی، اس جنتی کو لایا جائے گا اور اسے جنت میں ایک غوطہ دیا جائے گا اورپھر اس سے پوچھا جائے گا کہ اے ابن آدم! تو نے کبھی کوئی تکلیف دیکھی؟ تجھ پر کبھی کوئی سختی آئی؟ وہ کہے گا: اے میرے رب! واللہ کبھی نہیں، نہ مجھ پر کبھی کوئی تکلیف آئی اور نہ میں نے کبھی کوئی سختی دیکھی“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس دن (قیامت کے دن) جہنم کو اس حالت میں لایا جائے گا کہ اس کی ستر ہزار لگامیں ہوں گی، ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے کھینچ رہے ہوں گے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا گیا کہ کون سی چیز لوگوں کو سب سے زیادہ جنت میں داخل کرے گی، تو آپ نے جواب دیا : "اللہ کا ڈر اور اچھے اخلاق۔" اسی طرح آپ سے پوچھا گیا کہ کون سی چیز لوگوں کو سب سے زیادہ جہنم میں داخل کرے گی، تو آپ نے جواب دیا : "منہ اور شرم گاہ۔"
رواه الترمذي وابن ماجه وأحمد
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سيحان، جيحان، فرات اور نيل سب جنت کی نہریں ہیں“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
ابو سعید خدری اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "ایک پکارنے والا پکار کر کہے گا : تم سدا صحت مند رہوگے، کبھی بیمار نہيں ہوگے۔ تم سدا زندہ رہوگے، کبھی نہيں مروگے۔ تم سدا جوان رہوگے، کبھی بوڑھے نہيں ہوگے۔ تم سدا ناز و نعمت میں رہوگے، کبھی پریشان نہيں ہوگے۔" اسی کا ذکر اللہ تعالی کے اس فرمان میں ہے : "انھیں پکار کر کہا جائے گا : یہی وہ جنت ہے، جس کے وارث تم ان اعمال کی وجہ سے بنائے گئے ہو، جو تم کیا کرتے تھے۔" [سورہ اعراف : 43]
رواه مسلم
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تبارک و تعالیٰ اہل جنت سے فرمائے گا: اے اہل جنت! جنتی جواب دیں گے : ہم حاضر ہیں اے ہمارے رب! تمام تر بھلائی تیرے ہی ہاتھوں میں ہے۔ اللہ تعالیٰ پوچھے گا: کیا اب تم لوگ خوش ہو؟ وہ کہیں گے: بھلا ہم راضی کیوں نہ ہوں، جب کہ تو نے ہمیں وہ سب کچھ دے دیا ہے، جو اپنی مخلوق میں سے کسی آدمی کو نہیں دیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں تمہیں اس سے بھی بہتر چیز دوں گا۔ جنتی کہیں گے: اے رب! اس سے بہتر اور کیا چیز ہوگی؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اب میں تمہارے اوپر اپنی رضا مندی کو نازل کروں گا، پھر اس کے بعد کبھی بھى تم پر ناراض نہیں ہوں گا"۔
متفق عليه
ابوموسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: "مومن کے لیے جنت میں ایک ایسے موتی سے بنا خیمہ ہو گا جو اندر سے خالی ہوگا، جس کی لمبائی ساٹھ میل ہو گی۔ اس میں مومن کی بیویاں ہوں گی، جن کے پاس وہ آنا جانا کرے گا اور وہ ایک دوسرے کو دیکھ نہیں سکیں گی"۔
متفق عليه
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم عید الاضحی یا عید الفطر کے دن عید گاہ کی جانب نکلے اور اس دوران عورتوں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: "اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کیا کرو، کیوں کہ مجھے جہنم کے اندر تمھاری تعداد سب سے زیادہ دیکھائی گئى ہے"۔ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ایسا کیوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "تم لعن طعن زیادہ کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو۔ میں نے عقل اور دین میں ناقص ہونے کے باوجود تم (عورتوں) سے زیادہ کسی کو بھی ایک عقل مند اور تجربہ کار آدمی کے عقل کو ماؤف کردینے والا نہیں دیکھا"۔ عورتوں نے عرض کيا: اے اللہ کے رسول! ہمارے دین اور ہماری عقل کی کمی کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "کیا عورت کی گواہی مرد کی آدھی گواہی کے برابر نھیں ہے؟" انہوں نے کہا: جی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "یہی اس کی عقل کی کمی ہے۔ کیا ایسا نہیں ہے کہ جب عورت حائضہ ہوتی ہے تو نہ نماز پڑھ سکتی ہے نہ روزہ رکھ سکتی ہے؟" عورتوں نے کہا: جی ایسا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "یہی اس کے دین کی کمی ہے"۔
متفق عليه
ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ چیز تیار کر رکھی ہے کہ نہ کسی آنکھ نے اس (جیسی کسی چیز) کو دیکھا ہے، نہ کسی کان نے اس کے بارے میں سنا ہے اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال ہی آیا ہے۔ اگر تم اس بات کی تصدیق چاہو تو یہ آیت پڑھو: ﴿فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ﴾ ”کوئی نفس نہیں جانتا جو کچھ ہم نے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، ان کے لیے پوشیده کر رکھی ہے، وہ جو کچھ کرتے تھے یہ اس کا بدلہ ہے“۔ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کی ایک مجلس میں موجود تھا۔ اس میں جنت کا ذکر ہوا۔ جب آپ ﷺ گفتگو پوری فرما چکے، تو آخر میں فرمایا: اس میں وہ کچھ ہے، جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے، نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ ہی اس کا خیال ہی کسی آدمی کے دل پر گزرا ہے۔ پھر آپ ﷺ نے آیت‘ ﴿تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ﴾ سے لے کر اللہ تعالی کے فرمان:﴿فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ﴾ تک تلاوت فرمائی۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ
عیاض بن حمار مجاشعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن اپنے خطبہ میں ارشاد فرمایا: سنو میرے رب نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں تم لوگوں کو وہ باتیں سکھا دوں کہ جن باتوں سے تم لا علم ہو، میرے رب نے آج کے دن مجھے وہ باتیں سکھا دیں ہیں، (اللہ تعالی نے فرمایا) میں نے اپنے بندے کو جو مال دے دیا ہے وہ اس کے لیے حلال ہے اور میں نے اپنے سب بندوں کو (حق کے لیے) یکسو پیدا کیا ہے لیکن شیاطین میرے ان بندوں کے پاس آکر انہیں ان کے دین سے بہکانے لگے اور میں نے اپنے بندوں کے لیے جن چیزوں کو حلال کیا ہے وہ ان کے لیے حرام قرار دیے ہیں اور وہ ان کو ایسی چیزوں کو میرے ساتھ شریک کرنے کا حکم دیتے ہیں کہ جس کی کوئی دلیل میں نے نازل نہیں کی اور بے شک اللہ تعالیٰ نے زمین والوں کی طرف نظر فرمائی تو اہل کتاب کے (کچھ ) بچے کھچے لوگوں کے سوا باقی عرب اور عجم سب پر سخت ناراض ہوا اور (مجھ سے) اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے تمہیں اس لیے بھیجا ہے تاکہ میں تم کو آزماؤں اور تمہارے ذریعہ ان کو بھی آزماؤں اور میں نے آپ پر ایک ایسی کتاب نازل کی ہے کہ جسے پانی نہیں دھو (مٹا) سکے گا اور تم اس کتاب کو سونے اور بیداری کی حالت میں بھی پڑھو گے اور بلاشبہ اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں قریش کو جلا ڈالوں تو میں نے عرض کیا: اے پروردگار! وہ میرے سر کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے روٹی کی طرح کردیں گے۔ تو اللہ نے فرمایا: آپ انہیں باہر نکالیں جس طرح انہوں نے آپ کو باہر نکالا اور ان سے لڑائی کریں ہم آپ کو لڑوائیں گے اور (اللہ کی راہ میں) خرچ کریں آپ پر خرچ کیا جائے گا اور آپ لشکر بھیجیں ہم اس جیسے پانچ لشکر بھیجیں گے اور جو لوگ آپ کے فرماں بردار ہیں ان کے ذریعے نافرمانوں کے خلاف جنگ کریں۔ آپ ﷺ نے فرمایا جنتی لوگ تین قسم کے ہیں: ایسا سلطنت والا جو عادل ہے صدقہ کرنے والا ہے اسے اچھائی کی توفیق دی گئی ہے۔ اور (دوسرا) ایسا مہربان شخص جو ہر قرابت دار اور ہر مسلمان کے لیے نرم دل ہے اور (تیسرا) وہ آدمی کہ جو پاکدامن پاکیزہ اخلاق والا ہو اور عیال دار بھی ہو لیکن کسی کے سامنے اپنا ہاتھ نہ پھیلاتا ہو۔ نیز آپ ﷺ نے فرمایا دوزخی پانچ طرح کے ہیں: وہ کمزور آدمی کہ جس کے پاس عقل نہ ہو اور دوسروں کا تابع (غلام) ہو اہل و مال کا طلبگار نہ ہو۔ (دوسرا) خیانت کرنے والا آدمی کہ جس کی حرص چھپی نہیں رہ سکتی اگرچہ اسے تھوڑی سی چیز ملے اور وہ اس میں بھی خیانت کرے۔ (تیسرا) وہ آدمی جو صبح شام تم کو تمہارے گھر اور مال کے بارے میں دھوکہ دیتا ہو۔ اور آپ ﷺ نے (چوتھا) بخیل یا جھوٹے اور (پانچواں) بدخو اور بیہودہ گالیاں بکنے والے آدمی کا بھی ذکر فرمایا۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "ایک عورت کو ایک بلی کى وجہ سے عذاب دیا گیا، جسے اس نے قید کر رکھا تھا یہاں تک کہ وہ مر گئی۔ تو وہ اس کی وجہ سے جہنم میں داخل ہوئی، کیونکہ قید کرنے کے بعد نہ اسے کھانے کو دیا، نہ پینے کو دیا اور نہ چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑوں کو کھاتی"۔
متفق علیہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تمھاری دنیا کی آگ، جہنم کی آگ کا سترواں (70) حصہ ہے۔‘‘ عرض کیا گیا : اللہ کے رسول اللہ ﷺ! یہ دنیا کی آگ ہی کافی تھی۔ آپ نے فرمایا: ’’وہ آگ اس پر انہتر (69) حصے زیادہ کردی گئی ہے اور اس کا ہر حصہ دنیا کی آگ کے برابر گرم ہے۔‘‘
متفق عليه
🔶ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " جب اللہ تعالیٰ سے مانگنا ہو تو فردوس مانگو کیونکہ وہ جنت کا سب سے درمیانی درجہ ہے اور جنت کے سب سے بلند درجے پر ہے - یحییٰ بن صالح نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں یوں کہا کہ اس کے اوپر پروردگار کا عرش ہے - اوروہیں سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں " 📜 صحيح البخاري 2790