حدیث برائے عالم
پورے سائز میں دیکھنے کے لیے تصویر پر ٹیپ کریں
عقیدہ

سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں:

65 زبانوں میں دستیاب
«سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے اسلام کے بارے میں کوئی ایسی بات بتا دیں کہ مجھے اس کے بارے میں آپ کے بعد کسی اور سے سوال کرنے کی ضرورت نہ رہے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : "تم کہو: میں اللہ پر ایمان لایا، پھر اس پر ثابت قدم رہو۔“»

ترجمۂ مفہوم ·

حدیث کی شرح

مفہوم آسان الفاظ میں

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ایک صحابی سفیان بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے آپ سے گزارش کی کہ آپ ان کو ایک ایسی بات سکھا دیں، جس کے اندر پورے اسلام کا نچوڑ آ جائے، تاکہ وہ اسے مضبوطی سے پکڑ لیں اور اس کے بارے میں آپ کے علاوہ کسی دوسرے سے پوچھنے کی ضرورت نہ پڑے۔ چنانچہ آپ نے ان سے کہا: تم بس اتنا کہہ دو کہ میں نے اللہ کو ایک مانا اور اس کے رب، اکیلا برحق معبود اور خالق ہونے پر ایمان لایا۔ اور اس کے بعد اللہ کی فرض کی ہوئی چیزوں کو ادا کرتے ہوئے اور اس کی حرام کی ہوئی چیزوں سے دور رہتے ہوئے اس کی اطاعت گزاری کرو اور اسی پر کاربند رہو۔

ماخذ
رواه مسلم وأحمد
تصویر ڈاؤن لوڈ کریں

اصل معیار میں محفوظ ہوگی