UR
فقہِ معاملات (معاملات سے متعلق شرعی مسائل)
قرض
4 احادیث
بیع وشراء
4
سود
1
قرض
4
صلح اور ہمسائیگی کے احکام
2
الإجارة
1
وقف
1
ہبہ اور عطیہ
1
قسمیں اور نذریں
3
4 احادیث
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی اللہ کے نبی ﷺ سے اپنے قرض کا مطالبہ کرنے کے لیے آیا اور اس نے آپ ﷺ سے سختی سے مطالبہ کیا (اس گستاخی پر) صحا بہ کرام نے اس کو جھڑکا، رسول الله ﷺ نے (صحا بہ کرام سے ) فرمایا: اسے چھوڑ دو، اس لیے کہ حق دار کو کہنے کا حق حاصل ہے پھر آپ نے فرمایا، اسے اتنی عمر کا جانور دے دو جتنی عمر کا جانور اس کا تھا صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! اس جیسا تو ہم نہیں پاتے البتہ اس سے بہتر اور زیادہ عمر والا ہے آپ نےفرمایا: وہی اسے دے دو اس لیے کہ بہتر لوگ وہ ہیں جو اپنے قرض کی ادائیگی میں بہتر ہوں۔
متفق علیہ
ابو مسعود بدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے پہلے امتوں میں سے ایک شخص کا حساب کیا گیا اور اس کے نامۂ اعمال میں کوئی نیکی نہ ملی سوائے اس کے کہ وہ لوگوں سے لین دین کرتا اور ایک امیر شخص تھا۔ وہ اپنے ملازمین کو حکم دیتا کہ وہ تنگ دست سے درگزر کریں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہم ایسا کرنے کے اس سے زیادہ حق دار ہیں۔ اس سے درگزر کرو“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ وہ پنے ایک قرض دار کو ڈھونڈ رہے تھے۔ دراصل وہ چھپتا پھر رہا تھا۔ ایک دن مل گیا، تو کہنے لگا کہ میں تنگ دستی کا شکار ہو چکا ہوں۔ لہذا ابو قتادہ نے پوچھا کہ کیا تم اللہ کی قسم کھا کر کہہ سکتے ہو کہ تنگ دستی کے شکار ہو؟ اس نے جواب دیا کہ میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ تنگ دستی کا شکار ہوں۔ چنانچہ ابو قتادہ نے کہا: میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا: "جسے یہ اچھا لگتا ہو کہ اللہ اسے قیامت کے دن کی تنگیوں سے نجات عطا کرے، اسے چاہبے کہ تنگ دست کو مہلت دے یا پھر اس کا (کچھ یا سارا) قرض معاف کر دے۔"
رواه مسلم
🔶 ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جو کوئی لوگوں کا مال قرض کے طور پر ادا کرنے کی نیت سے لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس کی طرف سے ادا کرے گا اور جو کوئی نہ دینے کے لیے لے، تو اللہ تعالیٰ بھی اس کو تباہ کردے گا۔ 📜 صحیح البخاری 2387