حدیث برائے عالم
قران کے فضائل

سورتوں اور آیات کے فضائل

9 احادیث

9 احادیث

براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک صحابی سورہ کھف کی تلاوت کررہے تھے اور ان کے نزدیک ایک گھوڑا دو رسیوں میں بندھا ہوا تھا۔ چنانچہ انھیں ایک بادل نے ڈھانپ لیا اور ان کے نزدیک سے نزدیک تر ہونے لگا۔ ان کا گھوڑا اس کی وجہ سے بدکنے لگا۔ پھر جب صبح ہوئی، تو نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے اس واقعہ کا ذکر کیا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ وہ 'سكينت' تھی، جو تلاوت قرآن مجید کی وجہ سے اتری تھی۔متفق علیہ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ۔ یقینا شیطان اس گھر سے دور بھاگتا ہے جہاں سورہ بقرہ پڑھی جاتی ہے“۔رواه مسلم
ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جس نے سورہ کہف کے شروع کی دس آیتیں حفظ کر لیں، وہ دجال سے محفوظ رہے گا۔" ایک روایت ہے: "سورہ کہف کے آخر کی۔"رواه مسلم
ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "جس نے سورہ بقرہ کی آخری دو آیتیں رات میں پڑھ لیں، اس کے لیے یہ دو آیتیں کافی ہو جاتی ہیں۔"متفق عليه
ابو سعید رافع بن المعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے کہا کہ مسجد سے نکلنے سے پہلے کیا میں تمہیں قرآنِ کریم کی سب سے بڑی سورت نہ بتاؤ؟ آپ نے مجھے ہاتھ سے پکڑا، جب ہم نے باہر نکلنے کا ارادہ کیا تو میں نے کہا، اے اللہ کے رسول ﷺ ! آپ نے کہا تھا کہ میں تمہیں قرآنِ کریم کی سب سے بڑی سورۃ بتاؤں گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا وہ سورۂ الحَمْدُ للهِ رَبِّ العَالَمِينَ ہے، جو سبع مثانی ہے اور قرآنِ کریم جو مجھے دیا گیا ہے۔اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تمہیں نہیں معلوم کہ جو آیات آج رات نازل ہوئی ہیں ان جیسی آیات پہلے کبھی نازل نہیں ہوئیں۔ یہ آیات ’’ قل أعوذ برب الفلق ‘‘ اور ’’قل أعوذ بربّ الناس‘‘ ہیں۔اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
ابو امامہ باہلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”قرآن پڑھا کرو کیونکہ وہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کا سفارشی بن کر آئےگا۔ دو روشن چمکتی ہوئی سورتیں:البقرہ اور آل عمران پڑھا کرو کیونکہ وہ قیامت کے دن اس طرح آئیں گی جیسے وہ دو بادل یا دو سائبان ہوں یا دو اڑتے ہوئے پرندوں کی قطاریں ہوں اور وہ اپنے پڑھنے والوں کی طرف سے حجت (دفاع) کریں گی۔ سورہ بقرہ پڑھا کرو کیونکہ اسے حاصل کرنا باعث برکت ہے اور اس کا ترک کرنا باعثِ حسرت ہے اور باطل پرست اس کی طاقت نہیں رکھتے“۔اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اے ابو منذر! کیا تم جانتے ہو کہ تمھارے پاس موجود اللہ کی کتاب کی کون سی آیت سب سے عظیم ہے؟۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ میں نے عرض کیا: اللہ اوراس کے رسول ﷺ زیادہ جانتے ہیں۔ آپﷺ نے (دوبارہ) فرمایا: ’’اے ابو منذر! کیا تم جانتے ہو کہ تمھارے پاس موجود اللہ کی کتاب کی کون سی آیت سب سے عظیم ہے؟۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ میں نے عرض کیا: ﴿اللَّهُ لَا إِلہ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ﴾ ان کا کہنا ہے کہ یہ سننے کے بعد آپﷺ نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا: ’’اللہ کی قسم ! ابو منذر! تمھیں یہ علم مبارک ہو"۔رواه مسلم
عن أبي الدرداء عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «أيعجز أحدكم أن يقرأ في ليلة ثلث القرآن؟» قالوا: وكيف يقرأ ثلث القرآن؟ قال: «قل هو الله أحد تعدل ثلث القرآن».رواه مسلم