UR
وضوء
وضوء کی سنتیں اور آداب
2 احادیث
وضوء کی فضیلت
3
وضوء کی سنتیں اور آداب
2
وضوء کا طریقہ
1
2 احادیث
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم لباس پہنو اور جب تم وضو کرو، تو اپنی دائیں جانب سے شروع کرو“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بنی منتفق کے وفد کا سردار بن کر یا بنی منتفق کے وفد میں شریک ہو کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا۔ جب ہم آپ ﷺ کے پاس آئے، تو آپ گھر میں نہیں ملے۔ ہمیں صرف ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ملیں۔ انھوں نے ہمارے لیے خزیر۱ (ایک قسم کا کھانا) تیار کرنے کا حکم کیا۔ وہ تیار کیا گیا۔ ہمارے سامنے تھالی لائی گئی۔ (قتیبہ نے اپنی روایت میں "قناع" کا لفظ نہیں کہا ہے۔ "قناع" اس تھالی و طبق کو کہتے ہیں جس میں کھجور رکھی ہوئی ہو) پھر رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور پوچھا: ”کیا تم لوگوں نے کچھ کھایا ہے؟ یا تمھارے لیے کسی چیز کا حکم دیا گیا؟“ ہم نے جواب دیا: ہاں، اے اللہ کے رسول! ہم لوگ آپ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ یکایک چرواہا اپنی بکریاں باڑے کی طرف لے کر چلا۔ اس کے ساتھ ایک بکری کا بچہ تھا، جو ممیا رہا تھا۔ آپ ﷺ نے(اس سے) پوچھا:”اے فلاں! کیا پیدا ہوا (نر یا مادہ)؟“ اس نے جواب دیا: مادہ۔ آپ ﷺ نے فرمایا:”تو اس کی جگہ پر ہمارے لیے ایک بکری ذبح کرو“۔ پھر (لقیط سے) فرمایا: یہ بالکل نہ سمجھنا -لقیط رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یہاں لفظ ”تحْسَبنَّ“ سین کے فتحہ (زبر) کے ساتھ ادا فرمایا، کسرہ (زیر) کے ساتھ نہیں-کہ ہم نے اسے تمھارے لیے ذبح کیا ہے؛ بلکہ (بات یہ ہے کہ) ہمارے پاس سو بکریاں ہیں۔ ہم انھیں بڑھانا نہیں چاہتے۔ اس لیے جب کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو ہم اس کی جگہ ایک بکری ذبح کر ڈالتے ہیں۔ لقیط رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری ایک بیوی ہے، جو زبان دراز ہے(میں کیا کروں)؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تب تو تم اسے طلاق دے دو“۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک مدت تک میرا اس کا ساتھ رہا، اس سے میری اولاد بھی ہے!! آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اسے تم نصیحت کرو، اگر اس میں بھلائی ہے، تو تمھاری اطاعت کرے گی اور تم اپنی عورت کو اس طرح نہ مارو، جس طرح اپنی لونڈی کو مارتے ہو“۔ پھر میں نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے وضو کے بارے میں بتائیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وضو خوب کامل کیا کرو، انگلیوں میں خلال کیاکرو اور ناک میں پانی اچھی طرح پہنچاؤ، الا یہ کہ تم روزے سے ہو"۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔