UR
نماز
نفل نماز
40 احادیث
نفل نماز کی فضیلت
2
سنن رواتب
6
قیام اللیل
19
نمازِ عیدین
1
چاشت کی نماز
1
نمازِ استخارہ
1
40 احادیث
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ وتر فرض نمازوں کی طرح واجب نہیں ہے؛ بلکہ یہ تو رسول اللہ ﷺ کی ایک سنت ہے۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
عائشہ رضی الله عنها سے روایت ہے کہ نبی ﷺ رات میں تیرہ رکعت پڑھا کرتے تھے جس میں وتر اور فجر کی دو رکعتیں بھی شامل ہوتی تھیں۔
متفق علیہ
عبد اللہ بن عَمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول الله ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے عبداللہ! تم فلاں شخص کی طرح نہ ہونا، وہ رات کو قیام کرتا تھا، پھر اس نے (اکتاکر) رات کا قیام چھوڑ دیا“۔
متفق علیہ
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے قرآن والو! وتر پڑھا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ وتر (طاق یعنی یکتا) ہے اور وتر کو پسند فرماتا ہے“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
ابو سعيد خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمايا: ”صبح ہونے سے پہلے ’وتر‘ پڑھ لو“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو وِتر پڑھے بغیر سوجائے، يا اسے پڑھنا بھول جائے تو جب اسے یاد آئے اس وقت اسے پڑھ لے“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: ”جس آدمی کو یہ ڈر ہو کہ وہ رات کے آخری حصہ میں نہیں اٹھ سکے گا تو اسے چاہیے کہ وہ شروع رات ہی میں وِتر پڑھ لے اور جس آدمی کو اس بات کی تمنا ہو کہ رات کے آخری حصہ میں قیام کرے تو اسے چاہیے کہ وہ رات کے آخری حصہ میں وتر پڑھے کیونکہ رات کے آخری حصہ کی نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور یہ اس کے لیے افضل ہے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ صلاۃ الضحیٰ (نمازِ چاشت) چار رکعت پڑھتے تھے اور جتنا اللہ چاہتا زیادہ کرتے تھے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مسجد نبوی میں چٹائی سے گھیر کر ایک حجرہ بنا لیا اور (رمضان کی) راتوں میں اس کے اندر نماز پڑھنے لگے، پھر اور لوگ بھی جمع ہو گئے، تو ایک رات نبی کریم ﷺ کی آواز نہیں آئی۔ لوگوں نے سمجھا کہ نبی کریم ﷺ سو گئے ہیں۔ اس لیے ان میں سے بعض کھنکھارنے لگے؛ تاکہ آپ باہر تشریف لائیں، پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میں تم لوگوں کے کام سے واقف ہوں، یہاں تک کہ مجھے ڈر ہوا کہ کہیں تم پر یہ نماز (تراویح) فرض نہ کر دی جائے اور اگر فرض کر دی جائے تو تم اسے قائم نہیں رکھ سکو گے۔ پس اے لوگو! اپنے گھروں میں یہ نماز پڑھو کیوںکہ فرض نماز کے سوا انسان کی سب سے افضل نماز اس کے گھر میں پڑھی جانے والی نماز ہے۔
متفق علیہ
ابو قتادہ سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو بیٹھنے سے قبل دو رکعت ضرور پڑھے"۔
متفق عليه
📗ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کوئی رمضان میں ( راتوں کو ) ایمان رکھ کر اور ثواب کے لیے عبادت کرے اس کے اگلے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔ 📚صحيح البخارى 37
عن نُبَيشة الهُذَلي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أيام التشريق أيام أكل وشرب».
رواه مسلم
عن النعمان بن سالم عن عمرو بن أوس عن عنبسة بن أبي سفيان عن أم حبيبة زوج النبي صلى الله عليه وسلم أنها قالت: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «ما من عبد مسلم يصلي لله كل يوم ثنتي عشرة ركعةً تطوعًا غير فريضة إلا بنى الله له بيتًا في الجنة، أو إلا بني له بيت في الجنة» قالت أم حبيبة: فما برحت أصليهن بعد. وقال عمرو: ما برحت أصليهن بعد. وقال النعمان مثل ذلك.
رواه مسلم
عن جابر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا قضى أحدكم الصلاة في مسجده فليجعل لبيته نصيبًا من صلاته، فإن الله جاعلٌ في بيته من صلاته خيرًا».
رواه مسلم
عن عائشة قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا قام من الليل ليصلي افتتح صلاته بركعتين خفيفتين.
رواه مسلم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فجر کی نماز کے وقت بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے بلال! مجھے اپنا وہ عمل بتلاؤ جو تم نے اسلام میں سب سے زیادہ امید والا کیا ہے، اس لیے کہ میں نے جنت میں اپنے آگے تمھارے جوتوں کی آواز سنی۔“ انھوں نے عرض کیا: میں نے کوئی عمل اپنے نزدیک اس سے زیادہ امید والا نہیں کیا کہ میں نے رات یا دن کی جس گھڑی میں بھی وضو کیا تو اس وضو سے اتنی نماز ضرور پڑھی جتنی میرے مقدر میں لکھی تھی۔
متفق عليه
پچھلا صفحہ
صفحہ 2 از 2