حدیث برائے عالم
نفل نماز

سنن رواتب

6 احادیث

6 احادیث

عائشہ بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ جس قدر اہتمام فجر کی دو سنتوں کا کرتے تھے اتنا کسی اور نفلی نماز کا نہیں کرتے تھے۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ ”فجر کی دو رکعتیں دنیا و ما فیہا سے بہتر ہیں“۔اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ
اُمّ المؤمنىن حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ فجر ہونے کے بعد دو ہلکی رکعتیں (سنتِ فجر) پڑھتے. ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں ”قَبْلَ أنْ تُقَامَ الصَّلَاةُ“ یعنی نماز کا اقامت ہونے سے پہلے۔اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: "نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے کی چار رکعات اور فجر سے پہلے کی دو رکعات نہیں چھوڑتے تھے"۔رواه البخاري
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بیوی ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا: "جس نے ظہر سے پہلے اور ظہر کے بعد چار چار رکعتیں پڑھنے کی پابندی کی، اللہ اس پر جہنم کی آگ حرام کر دے گا"۔رواه أبو داود والترمذي والنسائي وابن ماجه وأحمد
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ جب مؤذن فجر کی پہلی اذان دے کر چپ ہوجاتا تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوتے اور فجر کی نماز سے پہلے دو رکعتیں (سنت فجر) ہلکی پھلکی ادا کرتے صبح صادق روشن ہو جانے کے بعد، پھر داہنی کروٹ پر لیٹ جاتے۔ یہاں تک کہ مؤذن تکبیر کہنے کی اطلاع دینے کے لیے آپﷺ کے پاس آتا۔متفق علیہ
عن النعمان بن سالم عن عمرو بن أوس عن عنبسة بن أبي سفيان عن أم حبيبة زوج النبي صلى الله عليه وسلم أنها قالت: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «ما من عبد مسلم يصلي لله كل يوم ثنتي عشرة ركعةً تطوعًا غير فريضة إلا بنى الله له بيتًا في الجنة، أو إلا بني له بيت في الجنة» قالت أم حبيبة: فما برحت أصليهن بعد. وقال عمرو: ما برحت أصليهن بعد. وقال النعمان مثل ذلك.رواه مسلم