UR
جہاد
جہاد کے آداب
4 احادیث
جہاد کی فضیلت
11
جہاد کے آداب
4
صلح و امان کے احکام
1
4 احادیث
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ (روز قیامت) اگلوں اور پچھلوں کو جمع کرے گا تو ہر عہد شکن کے لیے ایک جھنڈا بلند کیا جائے گا، اور کہا جائے گا: یہ فلان بن فلاں کی عہد شکنی (کا نشان) ہے۔“
متفق علیہ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : ایک عورت اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے کسی غزوے میں مقتول پائی گئی، تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے عورتوں اور بچوں کے قتل کی نکیر فرمائی۔
متفق عليه
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لڑائی میں، جس میں دشمن سے سامنا تھا، سورج ڈھلنے کا انتظار کیا۔ پھر ان کے بیچ کھڑے ہوکر فرمایا: ”لوگو! دشمنوں سے مقابلہ کی تمنا نہ کرو اور اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کرو۔ لیکن جب ان سے مقابلہ ہو جائے، تو صبر سے کام لو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے“۔ پھر فرمایا:”اے اللہ! کتابوں کے نازل فرمانے والے، بادلوں کو چلانے والے اور جتھوں کو شکست دینے والے! انھیں شکست سے دوچار کردے اور ہمیں ان پر غلبہ عطا فرما“۔
متفق علیہ
ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : اللہ کے رسول ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص اپنی بہادری کی نمائش کے لیے جنگ کرتا ہے، ایک شخص مجرد حمیت کی بنا پر لڑتا ہے اور ایک شخص محض دکھاوے کے لیے لڑتا ہے، ان میں سے کون اللہ کی راہ میں ہے؟ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے لڑتا ہے، صرف اسی کا لڑنا اللہ کے راستے میں ہے“۔
متفق عليه