حدیث برائے عالم
عقیدہ

اللہ عز و جل پر ایمان

44 احادیث

44 احادیث

عبد اللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے (اللہ کو چھوڑ کر) کسی اور چیز سے امید لگائی، وہ اسی چیز کے سپرد کر دیا جاتا ہے“۔اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
طارق بن اشیم اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : "جس نے 'لا الہ الا اللہ' کہا اور اللہ کے سوا جن چیزوں کی پوجا کی جاتی ہے، ان کا انکار کیا، تو اس کا مال اور خون حرام ہو گیا اور اس کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔"رواه مسلم
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص الله سے ملاقات کو پسند کرتا ہے، اللہ بھی اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے۔ اور جو اللہ سے ملنا ناپسند کرتا ہے تواللہ بھی اس سے ملنا ناپسند کرتا ہے“۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا اس سے مراد موت کو ناپسند کرنا ہے؟ ہھر تو ہم سب ہی موت کوناپسند کرتے ہیں! آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ مطلب نہیں بلکہ (وقتِ نزع) مومن کو جب اللہ کی رحمت، اس کی رضامندی اور اس کی جنت کی خوش خبری دی جاتی ہے تو وہ اللہ کی ملاقات کو پسند کرنے لگتا ہے، تو اللہ بھی اس سے ملنا پسند کرتا ہے۔ اور جب کافرکو (نزع کے وقت) اللہ کے عذاب اور اس کی ناراضی کی خوش خبری دی جاتی ہے تو وہ اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرنے لگتا ہے اور اللہ بھی اس سے ملنے کو پسند نہیں کرتا“۔اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: ”رحم کرنے والوں پر رحمن رحم فرماتا ہے۔ تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم کرے گا“۔رواه أبو داود والترمذي وأحمد
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ جب مسجد میں تشریف لے جاتے، تو فرماتے : ”أَعُوذُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِوَجْهِهِ الْكَرِيمِ وَسُلْطَانِهِ الْقَدِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ“۔ (میں اللہ عظیم کی، جود وسخا والے اس کے چہرے کی اور اس کی قدیم بادشاہت کی پناہ چاہتا ہوں، مردود شیطان سے)۔ (عقبہ نے) کہا: کیا بس اتنا ہی؟ میں نے کہا: ہاں۔ انہوں نے (حدیث مکمل کرتے ہوئے) کہا: جب مسجد میں داخل ہونے والا آدمی یہ دعا پڑھ لیتا ہے، تو شیطان کہتا ہے کہ اب وہ میرے شر سے دن بھر کے لیے محفوظ ہو گیا۔رواه أبو داود
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تبارک و تعالیٰ اہل جنت سے فرمائے گا: اے اہل جنت! جنتی جواب دیں گے : ہم حاضر ہیں اے ہمارے رب! تمام تر بھلائی تیرے ہی ہاتھوں میں ہے۔ اللہ تعالیٰ پوچھے گا: کیا اب تم لوگ خوش ہو؟ وہ کہیں گے: بھلا ہم راضی کیوں نہ ہوں، جب کہ تو نے ہمیں وہ سب کچھ دے دیا ہے، جو اپنی مخلوق میں سے کسی آدمی کو نہیں دیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں تمہیں اس سے بھی بہتر چیز دوں گا۔ جنتی کہیں گے: اے رب! اس سے بہتر اور کیا چیز ہوگی؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اب میں تمہارے اوپر اپنی رضا مندی کو نازل کروں گا، پھر اس کے بعد کبھی بھى تم پر ناراض نہیں ہوں گا"۔متفق عليه
عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعاً: «إذا أَحَبَّ اللهُ تعالى العَبْدَ، نَادَى جِبْرِيلَ: إنَّ اللهَ تعالى يُحِبُّ فلاناً، فَأَحْبِبْهُ، فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ، فَيُنَادِي في أَهْلِ السَّمَاءِ: إنَّ اللهَ يحِبُّ فلاناً، فَأَحِبُّوهُ، فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ، ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ القَبُولُ في الأرضِ». وفي رواية: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «إنَّ اللهَ تعالى إذا أَحَبَّ عَبْدًا دَعَا جِبْرِيلَ، فقال: إني أُحِبُّ فلاناً فَأَحْبِبْهُ، فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ، ثم ينادي في السَّمَاءِ، فيقول: إنَّ اللهَ يُحِبُّ فلاناً فَأَحِبُّوهُ، فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ، ثُمَّ يُوضَعُ له القَبُولُ في الأرضِ، وإذا أَبْغَضَ عَبْدًا دَعَا جِبْرِيلَ، فيقول: إني أُبْغِضُ فلاناً فَأَبْغِضْهُ. فَيُبْغِضُهُ جِبْرِيلُ، ثُمَّ ينادي في أَهْلِ السَّمَاءِ: إنَّ اللهَ يُبْغِضُ فلاناً فَأَبْغِضُوهُ، ثُمَّ تُوضَعُ له البَغْضَاءُ في الأرضِ».متفق عليه. الرواية الأولى لفظ البخاري، والثانية لفظ مسلم
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے، جب کہ معاذ رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے پیچھے سواری پر سوار تھے، فرمایا : "اے معاذ!" انھوں نے جواب دیا : اے اللہ کے رسول! حاضر ہوں۔ آپ ﷺ نے پھر فرمایا : "اے معاذ!" انھوں نے جواب دیا : حاضر ہوں اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے اس طرح تین بار خطاب کیا۔ پھر فرمایا: ”جو بندہ سچے دل سے یہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور محمد ﷺ اس کے رسول ہیں، اسے اللہ جہنم پر حرام کر دیتا ہے“۔ معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا میں لوگوں کو اس کی اطلاع نہ دے دوں، تا کہ وہ خوش ہو جائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تب وہ اسی پر بھروسہ کر لیں گے“۔ چنانچہ معاذ رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات کے وقت (کتمانِ علم کے) گناہ سے بچنے کے لیے اس حدیث کو بیان کر دیا۔متفق عليه
ابوہرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کہ ایک آدمی راستے میں چلا جا رہا تھا کہ اسے پیاس نے ستایا۔ اسے ایک کنواں دکھائی دیا اور تو وہ اس میں اترا اور پانی پیا ۔ جب باہر نکلا تو اس نے دیکھا کہ ایک کتاہا نپتے ہوئے گیلی مٹی چاٹ رہا ہے کیونکہ اسے شدید پیاس لگی ہوئی تھی‘ اس آدمی نے سوچا کہ اس کتے کو بھی اس طرح پیاس لگی ہے جیسے مجھے پیاس لگی تھی۔ لہٰذا وہ پھر کنویں میں اترا، اپنے موزے کو پانی سے بھرا، اسے اپنے منہ سے تھاما اورباہر آ کر کتے کو پانی پلا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اس کی نیکی کا صلہ دیا اور اسے بخش دیا۔ صحابہ کرام ۔ رضی اللہ عنہم۔ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا جانوروں کی وجہ سے بھی ہمیں اجرو ثواب ملتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’ہرتر کلیجے (زندہ چیز) کی وجہ سے اجرو ثواب ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ: ”اللہ تعالی نے (اس کے اس فعل کی قدر دانی میں) اسے صلہ دیتے ہوئے بخش دیا اور اسے جنت میں داخل کر دیا“۔ ایک اور روایت میں ہے کہ: ”ایک کتا کنویں کی منڈیر کے گرد چکر لگا رہا تھا اور قریب تھا کہ پیاس کی شدت سے مر جائے کہ اسے بنی اسرائیل کی ایک بدکار عورت نے دیکھ لیا اس نے اپنا موزہ اتارا اور اس سے کنویں سے پانی نکال کر اسے پلا دیا۔ اسے اس کے اس عمل کی وجہ سے معاف کردیا گیا“۔اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے: ”رَبِّ أَعِنِّي وَلَا تُعِنْ عَلَيَّ، ‏‏‏‏‏‏وَانْصُرْنِي وَلَا تَنْصُرْ عَلَيَّ، ‏‏‏‏‏‏وَامْكُرْ لِي وَلَا تَمْكُرْ عَلَيَّ، ‏‏‏‏‏‏وَاهْدِنِي وَيَسِّرْ هُدَايَ إِلَيَّ، ‏‏‏‏‏‏وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ بَغَى عَلَيَّ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي لَكَ شَاكِرًا لَكَ، ‏‏‏‏‏‏ذَاكِرًا لَكَ، ‏‏‏‏‏‏رَاهِبًا لَكَ، ‏‏‏‏‏‏مِطْوَاعًا إِلَيْكَ مُخْبِتًا أَوْ مُنِيبًا، ‏‏‏‏‏‏رَبِّ تَقَبَّلْ تَوْبَتِي، ‏‏‏‏‏‏وَاغْسِلْ حَوْبَتِي، ‏‏‏‏‏‏وَأَجِبْ دَعْوَتِي، ‏‏‏‏‏‏وَثَبِّتْ حُجَّتِي، ‏‏‏‏‏‏وَاهْدِ قَلْبِي، ‏‏‏‏‏‏وَسَدِّدْ لِسَانِي، ‏‏‏‏‏‏وَاسْلُلْ سَخِيمَةَ قَلْبِي“ اے میرے رب! میری مدد کر، میرے خلاف کسی کی مدد نہ کر، میری تائید کر، میرے خلاف کسی کی تائید نہ کر، میرے حق میں تدبیر فرما، میرے خلاف تدبیر نہ کر ۔ میری رہنمائی فرما اور ہدایت کو میرے لیے آسان فرما دے۔ اور جو میرے خلاف بغاوت کرے اس کے مقابلے میں میری مدد فرما۔اے اللہ ! مجھے تو اپنا شکر گزار، اپنا ذکرکرنے والا اور اپنے سے ڈرنے والا بنا، اپنا اطاعت گزار، اپنی طرف گِڑگڑانے والا بنا، اے میرے پروردگار! میری توبہ قبول کر، میرے گناہ دھو دے، میری دعا قبول فرما، میری دلیل مضبوط کر، میرے دل کو سیدھی راہ دکھا، میری زبان کو درست کر اور میرے دل سے میل کچیل نکال دے۔اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "ہمارا رب تبارک وتعالیٰ ہر رات جب کہ رات کا آخری ایک تہائی حصہ باقی رہ جا تا ہے، آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ ہے کوئی مجھ سے دعا کرنے والا کہ میں اس کی دعا قبول کروں؟ ہے کوئی مجھ سے مانگنے والا کہ میں اسے دوں؟ ہے کوئی مجھ سے بخشش طلب کرنے والا کہ میں اس کو بخش دوں؟"متفق عليه
ابو مَرثَد غَنَوی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "قبروں پر مت بیٹھو اور ان کی جانب منہ کرکے نماز نہ پڑھو۔"رواه مسلم
انس بن مالک روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے قبلہ کی طرف (دیوار پر) بلغم کو لگے دیکھا جو آپ کو ناگوار گزرا اور یہ ناگواری آپ کے چہرۂ مبارک پر دکھائی دینے لگی۔ پھر آپ ﷺ اٹھے اور خود اپنے ہاتھ سے اسے کھرچ ڈالا اور فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو گویا وہ اپنے رب کے ساتھ سرگوشی کرتا ہے، یا یوں فرمایا کہ اس کا رب اس کے اور قبلہ کے درمیان ہوتا ہے۔ اس لیے کوئی شخص (نماز میں اپنے) قبلہ کی طرف نہ تھوکے۔ البتہ بائیں طرف یا اپنے قدموں کے نیچے تھوک سکتا ہے۔ پھر آپ نے اپنی چادر کا کنارہ لیا، اس پر تھوکا پھر اس کو الٹ پلٹ کیا اور فرمایا: یا اس طرح کر لیا کرے۔متفق علیہ
امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ: ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم ﷺ سے ایک گرجا کا ذکر کیا، جس کو انھوں نے حبشہ کے علاقے میں دیکھا تھا اور اس کا نام ماریہ تھا۔ اس میں جو تصویریں دیکھی تھیں وہ بیان کیں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : "وہ ایسے لوگ تھے کہ اگر ان میں سے کوئی نیک بندہ (یا یہ فرمایا کہ) نیک آدمی مر جاتا، تو اس کی قبر پر مسجد بنا لیتے اور اس میں یہ تصویریں بنا ڈالتے۔ وہ لوگ اللہ کے نزدیک سب سے بدترین مخلوق ہیں"۔متفق عليه
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "اللہ کے ننانوے یعنی ایک کم ایک سو نام ہیں، جو ان کی حفاظت کرے گا، وہ جنت میں داخل ہوگا"۔متفق علیہ
عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے : اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، خانۂ کعبہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔“متفق عليه
معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ میں اللہ کے نبی ﷺ کے پیچھے ایک گدھے پر سوار تھا، جس کا نام عفیر تھا۔ اسی دوران آپ نے فرمایا: ’’اے معاذ! کیا تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کا بندوں پر کیا حق ہے اور بندوں کا اللہ تعالیٰ پر کیا حق ہے؟‘‘ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ’’بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور بندوں کا اللہ پر حق یہ ہے کہ جو کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراتا ہو، اللہ تعالیٰ اسے عذاب نہ دے۔‘‘ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول اللہ ﷺ ! کیا میں لوگوں کو اس کی بشارت نہ دے دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’لوگوں کو اس کی بشارت نہ دو، ورنہ لوگ اسی پر بھروسہ کرکے بیٹھ جائیں گے۔‘‘متفق عليه
جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں: ایک آدمی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا: اے اللہ کے رسول ! واجب کرنے والی دو باتیں کون سی ہیں؟ آپ نے جواب دیا: ’’جو کسی چیز کو اللہ کے ساتھ شریک نہ کرتا ہوا مرا، وہ جنت میں داخل ہو گا، اور جو اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہراتے ہوئے مرا، و ہ جہنم میں داخل ہو گا۔‘‘رواه مسلم
سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے اسلام کے بارے میں کوئی ایسی بات بتا دیں کہ مجھے اس کے بارے میں آپ کے بعد کسی اور سے سوال کرنے کی ضرورت نہ رہے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : "تم کہو: میں اللہ پر ایمان لایا، پھر اس پر ثابت قدم رہو۔“رواه مسلم وأحمد
📗حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "بلاشبہ اللہ تمہارے لیے تین چیزیں پسند کرتا ہے اور تین ناپسند کرتا ہے، وہ تمہارے لیے پسند کرتا ہے کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور فرقوں میں نہ بٹو۔ اور وہ تمہارے لیے قیل و قال (فضول باتوں)، کثرتِ سوال اور مال ضائع کرنے کو ناپسند کرتا ہے 📚صحيح مسلم۔ 1715/4481