فقہ و اصولِ فقہ
17 زبانوں میں دستیاب
«حکم سے روایت ہے کہ ابن الاشعث کے زمانہ میں ایک آدمی (جس کا انہوں نے نام ذکر کیا تھا) نے کوفہ پر غلبہ حاصل کیا تو ابوعیبدہ بن عبداللہ رحمہ اللہ و رضی عن ابیہ کو اس نے حکم دیا کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں وہ نماز پڑھاتے تھے جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اتنی دیر کھڑے رہتے کہ میں یہ دعا پڑھ لیا کرتا: ”اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ مِلْءُ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءُ الْأَرْضِ وَمِلْءُ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْئٍ بَعْدُ، أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ، لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ“ اے اللہ تو اس تعریف کے لائق ہے جن سے تمام آسمان اور زمین اور جتنی جگہ تو چاہے، بھر جائے۔ تو ہی تعریف اور بڑائی کے لائق ہے جس کو تو کچھ عطا کرے اس سے کوئی چھین نہیں سکتا اور جس سے تو کوئی چیز لے لے اسے کوئی دے نہیں سکتا اور نہ کوئی کوشش تیرے مقابلہ میں کامیاب ہوسکتی ہے۔ حکم کہتے ہیں میں نے یہ عبدالرحمن بن ابی لیلی سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا میں نے براء بن عازب سے سنا وہ فرماتے تھے کہ ”رسول اللہ ﷺ کا اپنی نماز میں رکوع کرنا، اور رکوع سے سر اٹھانا پھر سجدہ کرنا اور دونوں سجدوں کے درمیان ٹھہرنا، تقریباً برابر برابر ہوتا تھا“۔شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے اس کا ذکر عمرو بن مرّہ سے کیا تو انہوں نے کہا میں نے ابن ابی لیلی کو دیکھا کہ ان کی نماز اس کیفیت کی نہ تھی۔»ترجمۂ مفہوم ·
اصل معیار میں محفوظ ہوگی








