حدیث برائے عالم
پورے سائز میں دیکھنے کے لیے تصویر پر ٹیپ کریں
فقہ و اصولِ فقہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:

43 زبانوں میں دستیاب
«ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جنازے (کو لے جانے) میں جلدی کرو ۔اگر وہ اچھا شخص تھا تو تم اس کو بھلائی کی طرف بڑھا رہے ہو اور اگر کچھ اور تھا تو شر کو اپنی گردنوں سے ہٹا رہے ہو“۔»

ترجمۂ مفہوم ·

حدیث کی شرح

مفہوم آسان الفاظ میں

شارع نے جنازے کو دفن کرنے میں جلدی کرنے کا حکم دیا۔ ایک دوسرا احتمال یہ بھی ہے کہ اس سے مراد اس کی تجہیز و تکفین، غسل دینے، نمازِ جنازہ پڑھنے، اٹھا کر لے جانے اور دفن میں جلدی کرنا ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ شخص اگر نیک ہے تو (جلدی کر کے) اسے بھلائی اور کامیابی کی طرف بڑھایا جا رہا ہو گا اور یہ مناسب نہیں کہ اس کے اور بھلائی کے مابین رکاوٹ بنا جائے جب کہ جنازہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ مجھے آگے لے کر چلو، مجھے آگے لے کر چلو۔ اور اگر اس کے علاوہ کچھ اور ہو تو پھر یہ تمہارے درمیان موجود ایک شر ہے۔ اس لیے مناسب ہے کہ تم اس سے الگ ہو جاؤ اور اس کی مصیبت اور اس کے مشاہدے سے اپنے کو آپ کو چھٹکارا دلاؤ اور اسے قبر میں رکھ کر جلد سبکدوش ہو جاؤ۔

ماخذ
متفق علیہ
تصویر ڈاؤن لوڈ کریں

اصل معیار میں محفوظ ہوگی