حدیث برائے عالم
پورے سائز میں دیکھنے کے لیے تصویر پر ٹیپ کریں
فقہ و اصولِ فقہ

مَعدان بن ابی طلحہ یَعمَری سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں:

59 زبانوں میں دستیاب
«مَعدان بن ابی طلحہ یَعمَری سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے آزاد کردہ غلام ثوبان رضی اللہ عنہ سے ملا اور عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسا کام بتائيں، جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ مجھ کو جنت میں داخل کر دے۔ یا پھر یہ کہا کہ مجھے کوئی ایسا کام بتائيں، جو اللہ کو سب سے محبوب ہو۔ یہ سن کر ثوبان رضی اللہ عنہ چپ ہو رہے۔ میں نے ان سے دوبارہ پوچھا، تو پھر چپ رہے۔ تیسری بار پوچھا تو فرمایا : میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : ”تو کثرت سے سجدہ کیا کر۔ اس لیے کہ ہر سجدے کے بدلے میں اللہ تعالیٰ تیرا ایک درجہ بلند کرے گا اور تیرا ایک گناہ معاف کرے گا۔“ مَعدان کہتے ہیں : پھر میں نے ابو دردا سے ملاقات کی اور ان سے بھی یہی سوال کیا، تو انھوں نے بھی اسی طرح کی بات کہی، جو ثوبان نے کہی تھی۔»

ترجمۂ مفہوم ·

حدیث کی شرح

مفہوم آسان الفاظ میں

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے کوئی ایسا عمل پوچھا گیا، جو جنت میں داخلے کا سبب بن جائے یا پھر جو اللہ کو سب سے محبوب ہو۔ جواب میں آپ نے سائل سے کہا : تم کثرت سے نماز میں سجدے کیا کرو۔ کیوں کہ جب تم اللہ کے لیے ایک سجدہ کروگے، تو اس کےبدلے میں تمھارا مقام ایک درجہ اونچا کر دے گا اور تمھارا ایک گناہ مٹا دے گا۔

ماخذ
رواه مسلم
تصویر ڈاؤن لوڈ کریں

اصل معیار میں محفوظ ہوگی