UR
نماز
نماز کی فضیلت
10 احادیث
نماز کی فرضیت اور اسے چھوڑنے والے کا حکم
5
نماز کی فضیلت
10
اذان اور اقامت
6
نماز کے ممنوعہ اوقات
2
نماز کی شرائط
3
ارکانِ نماز
2
نماز کے واجبات
1
نماز کی سنتیں
1
نماز کا طریقہ
10
نماز کے اذکار
15
نماز کو باطل کرنے والی اشیاء
1
نمازیوں کی غلطیاں
5
سجدہ سہو، سجدہ تلاوت اور سجدہ شکر
4
باجماعت نماز کی فضیلت اور اس کے احکام
7
امام اور مقتدی سے متعلق احکام
4
شرعی عذر والوں کی نماز
1
نمازِ جمعہ
7
نفل نماز
40
نمازِ کسوف اور نمازِ خسوف
2
نمازِ استستقاء
1
مساجد کے احکام
9
10 احادیث
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : ”منافقوں پر سب سے بھاری نماز عشا اور فجر کی نماز ہے اور اگر انھیں ان نمازوں کے ثواب کا اندازہ ہو جائے، تو گھٹنوں کے بل چل کر آئيں۔ میں نے تو (ایک بار) ارادہ کر لیا تھا کہ کسی کو نماز پڑھانے کا حکم دوں اور وہ نماز پڑھائے، پھر کچھ لوگوں کو ساتھ لے کر، جو لکڑی کے گٹھر لیے ہوئے ہوں، ایسے لوگوں کے یہاں جاؤں، جو نماز کے لیے نہيں آتے اور ان کو ان کے گھروں کے ساتھ جلا ڈالوں۔"
متفق عليه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ فرمایا کرتے تھے: ”پانچوں نمازیں، ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک اور ایک رمضان دوسرے رمضان تک اپنے مابین سرزد ہونے والے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں، بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے“۔
رواه مسلم
مَعدان بن ابی طلحہ یَعمَری سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے آزاد کردہ غلام ثوبان رضی اللہ عنہ سے ملا اور عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسا کام بتائيں، جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ مجھ کو جنت میں داخل کر دے۔ یا پھر یہ کہا کہ مجھے کوئی ایسا کام بتائيں، جو اللہ کو سب سے محبوب ہو۔ یہ سن کر ثوبان رضی اللہ عنہ چپ ہو رہے۔ میں نے ان سے دوبارہ پوچھا، تو پھر چپ رہے۔ تیسری بار پوچھا تو فرمایا : میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : ”تو کثرت سے سجدہ کیا کر۔ اس لیے کہ ہر سجدے کے بدلے میں اللہ تعالیٰ تیرا ایک درجہ بلند کرے گا اور تیرا ایک گناہ معاف کرے گا۔“ مَعدان کہتے ہیں : پھر میں نے ابو دردا سے ملاقات کی اور ان سے بھی یہی سوال کیا، تو انھوں نے بھی اسی طرح کی بات کہی، جو ثوبان نے کہی تھی۔
رواه مسلم
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا : "تمھارا کیا خیال ہے کہ اگر تم میں سے کسی کے دروازے سے ایک نہر بہہ رہی ہو اور وہ اس میں ہر روز پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو، تو کیا اس کے بدن میں ذرا بھی میل کچیل باقی رہ سکے گا؟" صحابہ نے عرض کیا : اس کے بدن میں میل کچیل ذرا بھی باقی نہيں رہے گا۔ لہذا آپ نے فرمایا : "یہی مثال ہے پانچ نمازوں کی۔ ان کے ذریعے اللہ گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔"
متفق عليه
جندب بن عبداللہ قَسری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”جس نے صبح کی نماز پڑھی، وہ اللہ کی پناہ میں آگیا۔ لہذا یہ موقع نہ آنے پائے کہ اللہ کی ذمہ داری میں کسی طور خلل انداز ہونے کی وجہ سے وہ تمہارے درپے ہو جائے۔ اگر اللہ اپنی ذمہ داری میں خلل انداز ہونے پر کسی کے درپے ہو جائے، تو اسے وہ بالآخر پکڑ ہی لیتا ہے اور اوندھے منہ جہنم میں ڈال دیتا ہے“۔
رواه مسلم
ابو زہیر عمارہ بن رؤیبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "وہ شخص ہرگز جہنم میں داخل نہيں ہوگا، جس نے سورج نکلنے اور سورج ڈوبنے سے پہلے نماز پڑھی۔"
رواه مسلم
عثمان رضي الله عنه سے مروی ہے کہ میں نے رسو ل اللہﷺ کو بیان کرتے ہوئے سنا : ”جو مسلمان فرض نماز کا وقت پائے، پھر اچھی طرح وضو کرے، دل لگا کر نماز پڑھے اور اچھی طرح رکوع (اور سجدہ) کرے، تو یہ نماز اس کے ما قبل کے گناہوں کا کفارہ ہو جائے گی، جب تک کبیرہ گناہ نہ کرے اور ہمیشہ ایسا ہی ہوا کرے گا۔“
رواه مسلم
ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "پاکیزگی نصف ایمان ہے۔ الحمد لله ترازو کو بھر دیتا ہے، سبحان الله اور الحمد لله آسمانوں سے زمین تک کی وسعت کو بھر دیتے ہیں۔ نماز نور ہے، صدقہ دلیل ہے، صبر روشنی ہے۔ قرآن تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف حجت ہے، ہر انسان دن کا آغاز کرتا ہے، تو (کچھ اعمال کے عوض) اپنا سودا کرتا ہے، پھر یا تو خود كو آزاد کرنے والا ہوتا ہے يا خود کو تباہ کرنے والا"۔
رواه مسلم
عن ربيعة بن كعب الأسلمي قال: كنتُ أبيتُ مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فأتيتُه بوَضوئه وحاجته فقال لي: «سل» فقلت: أسألك مرافقتك في الجنة. قال: «أو غير ذلك؟» قلت: هو ذاك. قال: «فأعني على نفسك بكثرة السجود».
رواه مسلم
عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «ما من ميت تصلي عليه أُمَّةٌ من المسلمين يبلغون مائة، كلهم يشفعون له، إلا شفعوا فيه».
رواه مسلم