حدیث برائے عالم
پورے سائز میں دیکھنے کے لیے تصویر پر ٹیپ کریں
فضائل و آداب
16 زبانوں میں دستیاب
«ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُوعِ؛ فَإِنَّهُ بِئْسَ الضَّجِيعُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخِيَانَةِ؛ فَإِنَّهَا بِئْسَتِ الْبِطَانَةُ“ اے اللہ! میں بھوک سے تیری پناہ چاہتا ہوں، یہ بہت بری ہم نشین ہے اور میں خیانت سے تیری پناہ کا طلب گار ہوں، یہ بہت بری ہم راز ہے۔ (یعنی بہت بری باطنی خصلت ہے۔)»

ترجمۂ مفہوم ·

حدیث کی شرح

مفہوم آسان الفاظ میں

نبی ﷺ نے بھوک سے پناہ مانگی کیوں کہ بھوک بہت بری ساتھی ہے؛ اس لیے کہ یہ دل و جان کے چین کو سلب کر لیتی ہے اور اسی طرح آپ ﷺ نے انسانوں اور اللہ کی امانت میں خیانت سے بھی پناہ مانگی؛ کیوںکہ یہ آدمی کی بہت ہی بری خصلت ہوتی ہے۔

ماخذ
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔
تصویر ڈاؤن لوڈ کریں

اصل معیار میں محفوظ ہوگی