UR
فقہ الادعیہ والاذکار
ماثور دعائیں
18 احادیث
ذکر میں نبی ﷺ کا طریقہ مبارک
5
ذکر اللہ کے فوائد
8
صبح شام کے اذکار
4
عام اذکار
5
گھر میں داخل ہونے اور گھر سے نکلنے کی دعائیں
2
بیت الخلاء میں جانے اور باہر نکلنے کی دعائیں
1
مسجد میں داخل ہونے اور باہر نکلنے کی دعائیں
2
سخت حالات میں پڑھے جانے والے اذکار
1
پیش آمدہ مصائب کے اذکار
12
دعا کے احکام
1
دعا کے آداب
2
دعا کی قبولیت کے اسباب اور اس کے موانع
4
ماثور دعائیں
18
18 احادیث
عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے:«اللَّهُم لَكَ أسْلَمْتُ وبِكَ آمنْتُ، وعليكَ توَكَّلْتُ، وإلَيكَ أنَبْتُ، وبِكَ خاصَمْتُ. اللَّهمَّ أعُوذُ بِعِزَّتِكَ، لا إلَه إلاَّ أنْتَ أنْ تُضِلَّنِي أنْت الْحيُّ الَّذي لاَ يَمُوتُ، وَالْجِنُّ وَالإِنْسُ يمُوتُونَ»۔ ترجمہ: اے اللہ ! میں نے تیرے ہی سامنے سر جھکایا، تجھ ہی پر ایمان لایا، میں نے تیرے ہی اوپر بھروسہ کیا اور تیری ہی طرف رجوع کیا ۔ میں نے تیری ہی مدد کے ساتھ مقابلہ کیا۔ میں تیری عزت کی پناہ مانگتا ہوں کہ تیسرے سوا کوئی دوسرا معبودِ برحق نہیں، یہ کہ تو مجھے گمراہ ہونے کے لیے چھوڑ دے، تو زندہ ہے، تجھے موت نہیں آئے گی جب کہ تمام جن و انس مر جائیں گے۔
متفق علیہ
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ یہ دعا مانگتے تھے: ”اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت، تقویٰ، پاک دامنی، اور لوگوں سے بے نیازی کا سوال کرتا ہوں“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم یہ دعا پڑھا کرتے تھے: "اے اللہ! میرے لیے میرے دین کو درست کردے، جو میرے حالات کے تحفظ کا ضامن ہے اور میری دنیا کو درست کردے، جس میں میری گزر بسر ہے اور میری آخرت کو درست کردے، جہاں لوٹ کر مجھے جانا ہے اور میری زندگی کو ہر خیر میں اضافے کا سبب بنادے اور موت کو میرے لیے ہر شر سے راحت کا ذریعہ بنادے۔"
رواه مسلم
ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم یہ دعا کیا کرتے تھے : "اے اللہ! میرے گناہ، میری نادانی، میرے تمام کاموں میں میرے حد سے تجاوز کرنے کو اور ہر اس بات کو، جسے تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے، معاف فرما۔ اے اللہ! میرے گناہوں، مجھ سے سنجیدگی کے ساتھ ہونے والے کاموں، انجانے میں ہونے والے کاموں اور مذاق میں ہونے والے کاموں کو معاف فرما۔ ان میں سے ہر طرح کے کام مجھ سے ہوئے ہیں۔ اے اللہ! میرے اگلے اور پچھلے گناہ، رازداری کے ساتھ اور علانیہ ہونے والے گناہ معاف کر دے۔ تو ہی آگے کرنے والا ہے اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے اور تو ہی ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے"۔
متفق عليه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : "اللہ کے نبی ﷺ جب صبح اور شام کرتے، تو ان دعاؤں کو پڑھنا نہیں چھوڑتے تھے : ”اے اللہ! میں تجھ سے دنیا و آخرت کی عافیت طلب کرتا ہوں۔ اے اللہ! میں تجھ سے اپنے دین و دنیا، اہل و عیال اور مال میں عافیت طلب کرتا ہوں۔ اے اللہ! میری شرم گاہ کی ستر پوشی فرما، مجھے خوف و خطرات سے مامون و محفوظ رکھ۔ اے اللہ! میری حفاظت فرما آگے سے، پیچھے سے، دائیں سے، بائیں سے اور اوپر سے۔ میں تیری عظمت کی پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ میں اچانک اپنے نیچے سے اچک لیا جاؤں۔"
رواه أبو داود والنسائي وابن ماجه وأحمد
عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو دعائيں کیا کرتے تھے، ان میں سے ایک یہ ہے: "اے اللہ! میں تیری نعمت کے زائل ہونے سے، تیری دی ہوئی عافیت کے پھر جانے سے، تیرى ناگہانی گرفت سے، اور تیری ہر قسم کی ناراضگی سے تيری پناہ مانگتا ہوں۔"
رواه مسلم
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم یہ دعائيں کیا کرتے تھے: "اے اللہ! میں قرض کے غلبے، دشمن کے غلبے اور مصیبت میں دشمنوں کی خوشی سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔"
رواه النسائي وأحمد
انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں : "اللہ کے نبی ﷺ اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے : ”رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً، وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ“۔ (اے اللہ! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھلائی عطا کر اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا )۔
متفق عليه
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے: ”اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِکَ مِنْ الْعَجْزِ وَالْکَسَلِ وَالْبُخْلِ وَالْهَرَمِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَکِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَکَّاهَا أَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلَاهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِکَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ وَمِنْ دَعْوَةٍ لَا يُسْتَجَابُ لَهَا“ اے الله! میں عاجزی، سُستی، بخیلی، بڑھاپے اور عذاب قبر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ اے اللہ! میری ذات کو تقوی عطا فرما اور اسے پاکیزہ کر دے، تو ہی اسے بہتر پاکیزگی دینے والا ہے۔ تو ہی اس کا ولی و مالک ہے۔ اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ایسے علم سے جو نفع نہ دے، ایسے دل سے جس میں خوف نہ ہو، ایسے نفس سے جو کبھی سیر نہ ہو اور ایسی دعا سے جو قبول نہ ہو۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُوعِ؛ فَإِنَّهُ بِئْسَ الضَّجِيعُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخِيَانَةِ؛ فَإِنَّهَا بِئْسَتِ الْبِطَانَةُ“ اے اللہ! میں بھوک سے تیری پناہ چاہتا ہوں، یہ بہت بری ہم نشین ہے اور میں خیانت سے تیری پناہ کا طلب گار ہوں، یہ بہت بری ہم راز ہے۔ (یعنی بہت بری باطنی خصلت ہے۔)
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے یہ دعا کرتے تھے:”اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْجُبْنِ وَالْهَرَمِ وَالْبُخْلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ“ اے اللہ! میں عاجز ہونے، سستی، بزدلی، بڑھاپے اور بخل سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور میں قبر کے عذاب اور زندگی اور موت کی آزمائشوں سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ ایک روایت میں ہے: ”قرض کے بوجھ اور لوگوں کے قہر اور غلبے سے تیری پناہ مانگتا ہوں“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھ سے فرمایا: "اے اللہ! میری رہ نمائی فرما اور راہ راست پر چلا۔ "الْهُدَى" لفظ زبان پر لاتے وقت اپنے راستہ پا لینے کو یاد کر لیا کرو اور "السَّدَاد" لفظ زبان پر لاتے وقت تیر کی راستگی کو یاد کر لیا کرو۔"
رواه مسلم
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ سے پناہ مانگا کرو آزمائش کی مشقت، بدبختی کی پستی، برے خاتمے اور دشمن کے ہنسنے سے“۔ ایک روایت میں ہے، سفیان رحمہ اللہ نے کہا: مجھے شک ہے کہ میں نے ان میں سے ایک بات زیادہ بیان کی ہے۔ (معلوم نہیں وہ کون سی ہے)۔
متفق علیہ
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ! میں برص، پاگل پن، کوڑھ کی بیماری اور تمام بری بیماریوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔
اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انھوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا: "بنی آدم کے تمام دل رحمن کی دو انگلیوں کے درمیان ایسے ہیں، جیسے وہ سب ایک ہی دل ہوں۔ وہ جیسے چاہتا ہے ان کو پلٹتا رہتا ہے"۔ پھر آپ ﷺ نے یہ دعا کی: (اے اللہ! اے دلوں کو پھیرنے والے! ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت کی طرف پھیرے رکھ"۔
رواه مسلم
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے: ”رَبِّ أَعِنِّي وَلَا تُعِنْ عَلَيَّ، وَانْصُرْنِي وَلَا تَنْصُرْ عَلَيَّ، وَامْكُرْ لِي وَلَا تَمْكُرْ عَلَيَّ، وَاهْدِنِي وَيَسِّرْ هُدَايَ إِلَيَّ، وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ بَغَى عَلَيَّ، اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي لَكَ شَاكِرًا لَكَ، ذَاكِرًا لَكَ، رَاهِبًا لَكَ، مِطْوَاعًا إِلَيْكَ مُخْبِتًا أَوْ مُنِيبًا، رَبِّ تَقَبَّلْ تَوْبَتِي، وَاغْسِلْ حَوْبَتِي، وَأَجِبْ دَعْوَتِي، وَثَبِّتْ حُجَّتِي، وَاهْدِ قَلْبِي، وَسَدِّدْ لِسَانِي، وَاسْلُلْ سَخِيمَةَ قَلْبِي“ اے میرے رب! میری مدد کر، میرے خلاف کسی کی مدد نہ کر، میری تائید کر، میرے خلاف کسی کی تائید نہ کر، میرے حق میں تدبیر فرما، میرے خلاف تدبیر نہ کر ۔ میری رہنمائی فرما اور ہدایت کو میرے لیے آسان فرما دے۔ اور جو میرے خلاف بغاوت کرے اس کے مقابلے میں میری مدد فرما۔اے اللہ ! مجھے تو اپنا شکر گزار، اپنا ذکرکرنے والا اور اپنے سے ڈرنے والا بنا، اپنا اطاعت گزار، اپنی طرف گِڑگڑانے والا بنا، اے میرے پروردگار! میری توبہ قبول کر، میرے گناہ دھو دے، میری دعا قبول فرما، میری دلیل مضبوط کر، میرے دل کو سیدھی راہ دکھا، میری زبان کو درست کر اور میرے دل سے میل کچیل نکال دے۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
📜 ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ مجھے کوئی ایسی دعا سکھا دیجیے جسے میں نماز میں پڑھا کروں۔ آپ نے فرمایا کہ یہ دعا پڑھا کرو ( ترجمہ ) اے اللہ!میں نے اپنی جان پر ( گناہ کر کے ) بہت زیادہ ظلم کیا پس گناہوں کو تیرے سوا کوئی دوسرا معاف کرنے والا نہیں۔ مجھے اپنے پاس سے بھر پور مغفرت عطا فرما اور مجھ پر رحم کر کہ مغفرت کرنے والا اور رحم کرنے والا بے شک وشبہ تو ہی ہے۔ 📚 صحيح البخاري 834
📜 ابومالک نے ہمیں اپنے والد سے خبر دی کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، (اس وقت) ان کے پاس ایک شخص نے حاضر ہو کر عرض کی: اللہ کے رسول! جب میں اپنے رب سے مانگوں تو کیا کہا کروں؟ آپ نے فرمایا: "تم کہو: " اللہم اغفرلی وارحمنی وعافنی وارزقنی" ساتھ ہی اپنے انگوٹھے کے سوا (ایک ایک کر کے) ساری انگلیاں بند کرتے گئے (اور فرمایا: ) "یہ کلمات تمہارے لیے تمہاری دنیا اور آخرت دونوں جمع کر دیں گے۔" 📚 صحيح مسلم 6851/ 2697