حدیث برائے عالم
فقہ الادعیہ والاذکار

دعا کے آداب

2 احادیث

2 احادیث

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم ميں سے ہر ایک کی دعا قبول ہوتی ہے، جب تک کہ وہ جلدی نہ کرے کہ کہنے لگے : میں نے اپنے رب سے دعا کی تھی، لیکن میری دعا قبول نہیں ہوئی۔ مسلم کی روایت میں ہے: ”بندے کی دعا اس وقت تک قبول ہوتی ہے، جب تک وہ کسی برائی اور قطع رحمی کی دعا نہ کرے اور جب تک وہ جلدی نہ کرے“۔ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ جلدی کرنے سے کیا مراد ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یوں کہنے لگے کہ میں نے بہت مرتبہ دعا کی تھی، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ وہ قبول ہوئی۔ اس پر وہ افسوس شروع کردے اور دعا کرنا چھوڑ دے“۔متفق علیہ
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، تو وہ آپ کی خدمت میں روٹی اور تیل لے کر آئے، آپ ﷺ نے اسے کھایا، پھر آپ نے یہ دعا پڑھی: ”أَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ وَأَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ“ یعنی تمھارے پاس روزے دار افطار کیا کریں، نیک لوگ تمھارا کھانا کھائیں اور فرشتے تمھارے لیے دعائیں کریں۔اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔