حدیث برائے عالم
پورے سائز میں دیکھنے کے لیے تصویر پر ٹیپ کریں
فقہ و اصولِ فقہ
18 زبانوں میں دستیاب
«انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز (مغرب) ادا کرنے سے پہلے چند تر کھجوروں سے روزہ افطار کرتے تھے۔ اگر تر کھجوریں نہ ہوتیں، تو چند خشک کھجوروں سے اور اگر خشک کھجوریں بھی میسر نہ ہوتیں، تو پانی کے چند گھونٹ پی لیتے۔»

ترجمۂ مفہوم ·

حدیث کی شرح

مفہوم آسان الفاظ میں

انس بن مالک رضی اللہ عنہ اس حدیث میں یہ خبر دے رہے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب روزہ سے ہوتے، تو نماز مغرب سے قبل چند تر کھجوروں سے افطار فرمایا کرتے تھے۔ اگر تر کھجور میسر نہ ہوتیں، تو خشک کھجور سے افطار فرماتے اور اگر وہ بھی میسر نہ ہوتیں، تو پانی کے چند گھونٹ پی لیتے۔ کھجور اور پانی سے روزہ افطار کرنے میں رسول اللہ ﷺ کی اختیار کردہ ترتیب نہایت موزوں اور مناسب ہے؛ اس لیے کہ روزے دار کا معدہ خالی ہوتا ہے۔ چنانچہ اسے چاہیے کہ وہ مرغن عذا سے کھانے کی شروعات نہ کرے؛ تاکہ وہ کسی ضرر و نقصان کا شکار نہ ہونے پائے۔

ماخذ
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
تصویر ڈاؤن لوڈ کریں

اصل معیار میں محفوظ ہوگی