فضائل و آداب
عَنْ هِشَامِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ رَضيَ اللهُ عنهما أَنَّهُ مَرَّ عَلَى أُنَاسٍ مِنَ الْأَنْبَاطِ بِالشَّامِ، قَدْ أُقِيمُوا فِي الشَّمْسِ، فَقَالَ: مَا شَأْنُهُمْ؟ قَالُوا: حُبِسُوا فِي الْجِزْيَةِ، فَقَالَ هِشَامٌ: أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:
40 زبانوں میں دستیاب
«ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ان کا ملکِ شام کے کچھ عجمی کاشت کار لوگوں پر سے گزر ہوا، جنہیں دھوپ میں کھڑا کیا گیا تھا اور ان کے سروں پر تیل بہایا گیا تھا۔ انہوں نے پوچھا: یہ کیا ماجرا ہے؟ جواب دیا گیا کہ: خراج کی وجہ سے (یعنی ٹیکس نہ ادا کرنے کے جرم میں) انہیں سزا دی جا رہی ہے۔ اور ایک روایت میں ہے: جزیہ کی وجہ سے انہیں قید کیا گیا ہے۔ ہشام نےکہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ: ”اللہ ایسے لوگوں کو عذاب دے گا جو دنیا میں لوگوں کو عذاب دیتے ہیں“، چناں چہ وہ امیر (گورنر) کے پاس گئے اور انہیں یہ حدیث سنائی، تو گورنر نے ان کی بابت حکم دیا اور انہیں چھوڑ دیا گیا۔»ترجمۂ مفہوم ·
اصل معیار میں محفوظ ہوگی








