حدیث برائے عالم

تمام احادیث

کارڈز کا مکمل مجموعہ

655 احادیث

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ انھوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا: ”اگر تم اللہ پر ویسے بھروسہ کرو، جیسا کہ بھروسہ کرنے کا حق ہے، تو تمہیں ایسے رزق دیا جائے، جیسے پرندوں کو رزق دیا جاتا ہے۔ وہ صبح خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو آسودہ حال واپس آتے ہیں“۔رواه الترمذي وابن ماجه وأحمد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں جس بات سے تمہیں منع کروں اس سے اجتناب کرو اور جس بات کا حکم دوں اسے مقدور بھر سر انجام دو۔ تم سے پہلی امتوں کی ہلاکت کا سبب ان کا بہت زیادہ سوالات کرنا اور ان کی اپنے انبیاء کی مخالفت کرنا بنا تھا“۔متفق علیہ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کسی مومن کی دنیا کی پریشانیوں میں سے کوئی پریشانی دور کردی، اللہ تعالیٰ بروز قیامت اس کی پریشانیوں میں سے ایک پریشانی دور کردے گا۔ جس نے کسی تنگ دست پر آسانی کی، اللہ اس پر دنیا وآخرت میں آسانی کرے گا۔ جس نے کسی مسلمان کی عیب پوشی کی، اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی عیب پوشی فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ بندے کی مدد کرتا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے۔ جو شخص علم کی تلاش میں کسی راستے پر چلا اللہ تعالیٰ اس كی وجہ سے اس کے لیے جنت کی راہ آسان کردیتا ہے۔ جب کوئی قوم اللہ کے کسی گھر میں جمع ہو کر اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتی ہے اور اسے آپس میں پڑھتی پڑھاتی ہے، تو ان پر سکینت کا نزول ہوتا ہے، (اللہ تعالیٰ کی) رحمت ان کو ڈھانپ لیتی ہے اور اللہ اپنے پاس موجود فرشتوں میں ان کا ذکر کرتا ہے۔ اور جس کا عمل اسے پیچھے کردے، اس کا نسب اسے آگے نہیں لے جاسکتا۔“رواه مسلم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! مین دن میں ستر سے زائد مرتبہ اللہ سے استغفار اور توبہ کرتا ہوں“۔اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
اغر رضی اللہ عنہ، جو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابی تھے، سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’اے لوگو! اللہ تعالی کے حضور توبہ کرو، میں دن میں سو دفعہ اس کے حضور توبہ کرتا ہوں۔‘‘رواه مسلم
ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہيں کہ اللہ تعالی نے فرمایا : "اے میرے بندو! میں نے ظلم کو اپنے اوپر حرام کر لیا ہے اور اسےتمہارے درمیان بھی حرام قرار دیا ہے۔ لہٰذا تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔ اے میرے بندو! تم سب گمراہ ہو، سوائے اس کے جسے میں ہدایت سے نواز دوں۔ لہذا تم مجھ سے ہدایت مانگو، میں تمہیں ہدایت دوں گا۔ اے میرے بندو! تم سب بھوکے ہو، سوائے اس کے جسے میں کھلاؤں۔ لہذا تم مجھ سے کھانا مانگو، میں تمہیں کھانا دوں گا۔ اے میرے بندو! تم سب ننگے ہو، سواۓ اس کے جسے میں لباس پہناؤں۔ لہذا تم مجھ سے لباس مانگو، میں تمہیں لباس دوں گا۔ اے میرے بندو! تم سب دن رات گناہ کرتے ہو اور میں سارے گناہوں کو بخش دیتا ہوں۔ لہذا تم مجھ سے بخشش مانگو۔ میں تمہیں بخش دوں گا۔ اے میرے بندو! تم سب کی رسائی مجھے نقصان پہنچانے تک نہیں ہو سکتی کہ تم مجھے نقصان پہنچاؤ اور نہ تمہاری رسائی مجھے نفع پہنچانے تک ہو سکتی ہے کہ تم مجھے نفع پہنچاؤ۔ اے میرے بندو! اگر تمھارے پہلے کے لوگ اور تمھارے بعد کے لوگ اور تمھارے انسان اور تمھارے جنّات، تم میں سب سے زیادہ متقی شخص کے دل جیسے ہوجائیں تو اس سے میری سلطنت میں کچھ اضافہ نہ ہوگا۔ اے میرے بندو! اگر تمھارے پہلے کے لوگ اور تمھارے بعد کے لوگ اور تمھارے انسان اور تمھارے جنّات, تم میں سب سے زیادہ فاجر شخص کے دل جیسے ہوجائیں، تو اس سے میری سلطنت میں کچھ کمی نہ ہوگی۔ اے میرے بندو! اگر تمھارے پہلے کے لوگ اور تمھارے بعد کے لوگ، تمھارے انسان اور تمھارے جنّات ایک کھلے میدان میں کھڑے ہو جائیں اور سب مجھ سے مانگیں اور میں ہر انسان کو اس کی طلب کردہ چیز دے دوں، تو اس سے میرے خزانوں میں اس سے زیادہ کمی نہیں ہوگی، جتنی کمی ایک سوئی کو سمندر میں ڈبو کر نکالنے سے سمندر کے پانی میں ہوتی ہے۔ اے میرے بندو! یہ تمہارے اعمال ہیں کہ جنہیں میں شمار کر رہا ہوں اور پھر میں تمہیں ان کا پورا پورا بدلہ دوں گا۔ لہذا جو شخص بھلائی پائے، وہ اللہ کا شکر ادا کرے اور جو اس کے علاوہ پائے، وہ اپنے ہی نفس کو ملامت کرے۔”رواه مسلم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک دن اللہ کے رسول ﷺ کے پیچھے سوار تھا کہ اسی درمیان آپ نے فرمایا : "اے لڑکے! میں تمھیں کچھ باتیں سکھانا چاہتا ہوں۔ اللہ (کے حقوق) کی حفاظت کرو، اللہ تمھاری حفاظت کرے گا۔ تم اللہ (کے حقوق) کا خیال رکھو، اللہ کو اپنے سامنے پاؤ گے۔ جب مانگو، تواللہ ہی سے مانگو اور جب مدد طلب کرو، تو اللہ ہی سے مدد طلب کرو۔ اس بات کو جان لو کہ اگر سب مل کر بھی تمھیں فائدہ پہنچانا چاہیں، تو تمھیں اتنا ہی فائدہ پہنچا سکتے ہیں، جتنا اللہ نے تمھارے لیے لکھ دیا ہے اور اگر سب مل کر بھی تمھیں نقصان پہنچانا چاہیں، تو تمھیں اتنا ہی نقصان پہنچا سکتے ہیں، جتنا اللہ نے تمھارے لیے لکھ دیاہے۔ قلم اٹھالیے گئے ہیں اور صحیفے خشک ہو چکے ہيں"۔رواه الترمذي
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کے اچھے اور برے اعمال میرے سامنے پیش کیے گئے، تو میں نے ان میں سب سے بہتر عمل راستے سے تکلیف دہ چیز کے ہٹانے اور سب سے برا عمل مسجد میں بلغم تھوکنے اور اسے دفن نہ کرنے کو پایا“۔اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے اپنے رب تبارک و تعالی سے روایت کرتے ہوئے فرمایا: "ایک بندے نے گناہ کیا اور پھر بول اٹھا : اے اللہ! میرا گناہ معاف کر دے۔ اس پر اللہ تبارک و تعالی نے فرمایا : میرے بندے نے گناہ کیا اور پھر اس کے اس یقین نے انگڑائی لی کہ اس کا ایک رب ہے، جو گناہ کو معاف بھی کرتا ہے اور گناہ پر گرفت بھی کرتا ہے۔ اس بندے نے پھر دوبارہ گناہ کیا اور بول پڑا کہ اے میرے رب! میرا گناہ معاف کر دے۔ اس پر اللہ تبارک و تعالی نے فرمایا : میرے بندے نے گناہ کیا اور پھر اس کے اس یقین نے انگڑائی لی کہ اس کا ایک رب ہے، جو گناہ کو بخش بھی دیتا ہے اور گناہ پر گرفت بھی کرتا ہے۔ تم جو چاہے کرو، میں نے تم کو معاف کر دیا۔"متفق عليه
ابو امامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ جب اپنا دستر خوان اٹھاتے تو فرماتے: الحَمْدُ للهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، غَيْرَ مَكْفِيٍّ، وَلَا مُوَدَّعٍ، وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا۔ ”سب تعریف اللہ کے لیے ہے، ایسی تعریف جو بہت زیادہ، پاکیزہ اور با برکت ہے اس حال میں کہ اس کی ذات کسی کی محتاج نہیں اور نہ ہی اس کو چھوڑا جا سکتا ہے اور نہ اس سے بے نیازی برتی جاسکتی ہے، اے ہمارے رب!“۔اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں:اگر کسی تکلیف یا کسی اور عذر کی بنا پر رسول اللہ ﷺ سے رات کی نماز رہ جاتی تو آپ ﷺ دن میں بارہ رکعات پڑھتے تھے۔اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
عائشہ رضی اللہ عنہا اور مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ رات کی نماز میں اتنا طویل قیام کرتے کہ آپ ﷺ کے قدم پھٹ جاتے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے آپ ﷺ سے پوچھا: آپ ایسا کیوں کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تو آپ کی اگلی پچھلی سب خطائیں معاف کر دی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا پھر میں شکرگزار بندہ بننا پسند نہ کروں؟“متفق علیہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاسکتا“۔متفق علیہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک سبے زیادہ پسندیدہ مقامات، مساجد ہیں اور سب سے زیادہ ناپسندیدہ مقامات، بازار ہیں“۔اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "جو شخص نرمی سے محروم کر دیا گیا وہ ہر قسم کی بھلائی سے محروم کردیا گیا۔"رواه مسلم
انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں رسول ﷺ کے ساتھ چل رہا تھا،آپ ﷺ کے جسم پر موٹے کنارے والی نجرانی چادرتھی۔ اتنے میں ایک دیہاتی پیچھے سے آیا اور اس نے آپ ﷺ کی چادر کھینچی۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے آپ ﷺ کے شانے کو دیکھا کہ اس شخص کے زورسے کھینچنے کی وجہ سے اس پر چادر کے کناروں سے نشان پڑ گئے تھے۔اس نے کہا کہ: اے محمد! اللہ کا جو مال تیرے پاس ہے اس میں سے مجھے دینے کا حکم کرو۔ اس پر آپ ﷺ نے اس کی طرف دیکھا اور مسکرا دیے، پھر آپ ﷺ نے اسے کچھ مال دینے کا حکم دیا۔متفق علیہ
امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہيں: جب رمضان کا آخری عشرہ آتا، تو رسول اللہ ﷺ شب بیداری کرتے، اپنے گھر والوں کو اس کے لیے جگاتے اور پوری کوشش وتن دہی کے ساتھ عبادت کرتے۔متفق عليه
ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "میری امت کے سب لوگ جنت میں داخل ہوں کے، ماسوا ان لوگوں کے جنھوں نے انکار کیا۔" پوچھا گیا کہ اے اللہ کے رسول! انکار کرنے والے کون ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : "جس نے میری اطاعت کی، وہ جنت میں داخل ہو گا اور جس نے میری نافرمانی کی، اس نے انکار کیا۔"رواه البخاري
ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "قیامت کے دن کسی شخص کے قدم اس وقت تک اپنی جگہ سے نہ ہٹیں گے، جب تک اس کی عمر کے بارے میں نہ پوچھ لیا جائے کہ اسے کس چیز میں فنا کیا، اس کے علم کے بارے میں نہ پوچھ لیا جائے کہ اس سے کیا کیا، اس کے مال کے بارے میں نہ پوچھ لیا جائے کہ اسے کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا اور اس کے جسم کے بارے میں نہ پوچھ لیا جائے کہ اسے کہاں کھپایا۔"رواه الترمذي
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب اللہ تعالی نے مخلوق کو پیدا کیا تو اپنے ہاں عرش پر موجود کتاب (لوح محفوظ) میں لکھا کہ ”میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے“۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”میری رحمت میرے غضب پر غالب آگئی ہے“۔ ایک اور روایت کے یہ الفاظ ہیں: ”میری رحمت میرے غضب پر سبقت لے گئی ہے“متفق علیہ
عبد اللہ بن عباس، انس بن مالک، عبد اللہ بن زبیر اور ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر ابنِ آدم کے پاس سونے کی ایک وادی ہو، تو چاہے گا کہ اس کے پاس دو وادیاں ہوں اور اس کے منہ کو مٹی کے سوا کوئی چیز نہیں بھر سکتی اور اللہ توبہ کرنے والے کی توبہ کو قبول کرتا ہے“۔اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - اس حدیث کی دونوں روایات متفق علیہ ہیں۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”جبریل مجھے پڑوسی کے (حق کے) بارے میں اس قدر وصیت کرتے رہے کہ مجھے خیال ہونے لگا کہ وہ پڑوسی کو وارث بنادیں گے“۔متفق عليه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی کھانے میں عیب نہیں نکالا، اگر آپ ﷺ کو وہ اچھا لگتا تو کھا لیتے اور اگر ناپسند ہوتا تو چھوڑ دیتے تھے۔متفق علیہ
ابو سعيد خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انصار کے کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے مانگا تو آپ نے انہیں دیا۔ انہوں نے پھر مانگا تو آپ ﷺ نے انہیں پھر دیا۔ یہاں تک کہ جو مال آپ کے پاس تھا وہ ختم ہوگیا۔ جب آپ ﷺ اپنے پاس موجود سب کچھ دے چکے تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ اگر میرے پاس مال ہو تو میں اسے تم سے ہرگز بچا کر نہیں رکھوں گا۔ (تاہم یاد رکھو کہ) جو شخص سوال کرنے سے بچنے کی کوشش کرتا ہے، اللہ تعالیٰ بھی اسے سوال کرنے سے محفوظ رکھتا ہے اور جو شخص بے نیاز ہونے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بے نیاز کر دیتا ہے اور جو شخص صبر کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اسے صبر عطا کرتا ہے۔ اور کسی کو بھی صبر سے زیادہ بہتر اور اس سے زیادہ بے پایاں بھلائی نہیں ملی۔متفق علیہ