UR
تمام احادیث
کارڈز کا مکمل مجموعہ
قرآن کریم اور اس کے علوم
26
حدیث و علومِ حدیث
3
عقیدہ
135
فقہ و اصولِ فقہ
288
فضائل و آداب
288
دعوت و احتساب
15
سیرت و تاریخ
38
655 احادیث
ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ رشتہ منقطع رکھے۔ دونوں ایک دوسرے سے ملیں اور یہ بھی منہ پھیر لے اور وہ بھی منہ پھیر لے۔ ان دونوں میں بہتر وہ شخص ہے، جو سلام میں پہل کر لے“
متفق عليه
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا: "رشتے ناتے کو کاٹنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔"
متفق عليه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف نہیں دیکھے گا، جو اپنا کپڑا تکبر و غرور سے زمین پر گھسیٹ کر چلتا ہے"۔
متفق عليه
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”جو اس بات کا خواہش مند ہو کہ اس کی روزی میں فراخی ہو اور اس کی عمر دراز کر دی جائے، اسے چاہیے کہ صلہ رحمی کیا کرے“۔
متفق عليه
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”اپنے ماں باپ کو گالی دینا کبیرہ گناہوں میں سے ہے“۔ دریافت کیا گیا کہ بھلا کوئی آدمی اپنے ماں باپ کو بھی گالی دے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! آدمی کسی کے باپ کو گالی دے گا، تو وہ بھی اس کے باپ کو گالی دے گا اور وہ کسی کی ماں کو گالی دے گا، تو وہ بھی اس کی ماں کو گالی دے گا“۔
متفق علیہ
ابو صرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”جس نے دوسرے کا نقصان کیا، اللہ اس کا نقصان کرے گا اور جس نے دوسرے کو مشقت میں ڈالا، اللہ اسے مشقت میں ڈالے گا“۔
رواه أبو داود والترمذي وابن ماجه وأحمد
عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ مجھ سے ملے اور کہا کہ کیا میں تمھیں ایک تحفہ نہ دوں؟ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہمارے پاس آئے تو ہم نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! ہم یہ تو جان گئے ہیں کہ ہم آپ پر سلام کیسے بھیجیں، لیکن (یہ نہيں معلوم کہ) ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ آپ نے فرمایا : "تم کہو : اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ"۔ (اے اللہ ! محمد (ﷺ) پر اپنی رحمت نازل کر اور آل محمد (ﷺ)پر، جیسا کہ تو نے آل ابراہیم پر رحمت نازل کی ہے۔ بلاشبہ تو تعریف کیا ہوا اور پاک ہے۔ اے اللہ ! محمد (ﷺ) پر اور آل محمد (ﷺ) پر برکت نازل کر، جیسا کہ تو نے آل ابراہیم پر برکت نازل کی ہے۔ بلاشبہ تو تعریف کیا ہوا اور پاک ہے۔)
متفق عليه
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : ''اس شخص کی نماز نہیں، جس نے سورۃ الفاتحہ نہیں پڑھی''۔
متفق عليه
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "وہ شخص ہم میں سے نہیں، جس نے رخسار پیٹا، گریبان چاک کیا اور زمانۂ جاہلیت کی طرح بین کیا۔"
متفق عليه
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں: ” میں نے نبی ﷺ کی نماز سے زیادہ ہلکی اور زیادہ کامل نماز کبھی کسی امام کے پیچھے نہیں پڑھی“۔
متفق علیہ
ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب سجدے کی حالت ميں ہوتا ہے، لہٰذا تم (سجدے میں) خوب دعا کیا کرو“۔
رواه مسلم
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”قرآن پڑھا کرو اس لیے کہ وہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کے لیے سفارشی بن کر آئے گا“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو جنازہ میں موجود ہو اور نماز جنازہ ادا کرے تو اس کے لیے ایک قیراط اجر ہے اور نماز جنازہ میں حاضری کے ساتھ تدفین کے وقت بھی موجود رہے تو اس کے لیے دو قیراط اجر ہے۔ پوچھا گیا کہ دو قیراط کیا ہیں؟ فرمایا: دو بہت بڑے پہاڑوں کے برابر (اجر)“۔ مسلم کی روایت میں ہے کہ: ”ان میں سے سب سے چھوٹا احد پہاڑ کی طرح ہے“۔
متفق علیہ
جندب بن عبدالله بجلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے قربانی کے دن نماز پڑھنے کے بعد خطبہ دیا، پھر قربانی کی اور فرمایا: ”جس نے نماز سے پہلے ذبح کردیا، وہ اس کی جگہ دوسرا جانور ذبح کرے اور جس نے ذبح نہیں کیا ہے، وہ اللہ کا نام لے کر ذبح کرے“۔
متفق علیہ
ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”کيا ميں تمہيں اللہ کے نزديک سب سے پسنديدہ کلام سے با خبر نہ کردوں؟ بے شک اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ کلام : سُبْحَانَ اللَّهِ وبِحَمْدِهِ (اللہ پاک ہے اپنی تعریفوں کے ساتھ) ہے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
عدی بن عمیرہ کندی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے جسے ہم کسی کام کی ذمہ داری سونپیں، پھر وہ ہم سے ایک سوئی یا اس سے بھی کوئی کم تر چیز چھپائے، تو وہ خیانت ہو گی، جسے لے کر وہ قیامت کے دن حاضر ہو گا“۔ یہ سن کر ایک سانولے رنگ کے انصاری، جنھیں گویا میں اب بھی دیکھ رہا ہوں، کھڑے ہو کر کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! آپ نے مجھے جو کام سونپا تھا، اس سے مجھے مستعفی ہونے کی اجازت دیجیے۔ آپ ﷺ نے پوچھا کہ تمھیں کیا ہو گیا؟ اس نے جواب دیا کہ میں نے آپ کو ایسے فرماتے ہوئے جو سن لیا ہے! تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں! میں اب اسے پھر کہتا ہوں کہ جسے ہم کسی کام کی ذمے داری سونپیں، وہ کم یا زیادہ سب کچھ لے کر آئے۔ جو اسے دیا جائے وہ لے لے اور جس سے منع کر دیا جائے اس سے رک جائے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
جندب بن عبداللہ قَسری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”جس نے صبح کی نماز پڑھی، وہ اللہ کی پناہ میں آگیا۔ لہذا یہ موقع نہ آنے پائے کہ اللہ کی ذمہ داری میں کسی طور خلل انداز ہونے کی وجہ سے وہ تمہارے درپے ہو جائے۔ اگر اللہ اپنی ذمہ داری میں خلل انداز ہونے پر کسی کے درپے ہو جائے، تو اسے وہ بالآخر پکڑ ہی لیتا ہے اور اوندھے منہ جہنم میں ڈال دیتا ہے“۔
رواه مسلم
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "جو شخص صبح کے وقت یا شام کے وقت مسجد جاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ضیافت تیارکرتا ہے، جب بھی وہ صبح یا شام کے وقت مسجد جاتاہے۔"
متفق عليه
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، وہ اچھی بات کرے یا خاموش رہے، جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، وہ اپنے پڑوسی کی عزت کرے اور جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، وہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔"
متفق عليه
جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا، اس پر اللہ بھی رحم نہیں کرتا“۔
متفق عليه
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اپنا پورا وظیفہ یا اس کا کچھ حصہ پڑھے بغیر سو جائے، پھر اسے صبح اٹھ کر فجر اور ظہر کے درمیان پڑھ لے، تو اسے اسی طرح لکھا جائے گا، گویا اس نے رات ہی کو پڑھا ہے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "دونعمتیں ایسی ہیں، جن کے بارے میں بہت سارے لوگ (ان کے غلط استعمال کی وجہ سے) خسارے اور گھاٹے میں رہتے ہیں۔ صحت اور فراغت"
رواه البخاري
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم گناہ نہ کرو تو اللہ تعالیٰ تم کو ختم کردے گا اور تمہاری جگہ ایسے لوگ لائے گا جو گناہ کر کے اللہ سے مغفرت طلب کریں گے اور اللہ ان کو بخش دے گا“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر بندہ (روزِ قیامت) اسی حالت پر اٹھایا جائے گا جس پر اس کی موت واقع ہوئی ہوگی“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
پچھلا صفحہ
صفحہ 12 از 28
اگلا صفحہ