حدیث برائے عالم
فقہِ عبادات (عبادات سے متعلق شرعی مسائل)

طہارت

18 احادیث

18 احادیث

مغیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : میں ایک سفر میں اللہ کے نبی ﷺ کے ساتھ تھا۔ میں نے آپ ﷺ کے موزے اتارنے کے لیے ہاتھ بڑھایا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : "انہیں رہنے دو۔ میں نے ان کے اندر اپنے پاؤں طہارت کی حالت میں داخل کیے تھے"۔ پھر آپ نے موزوں پر مسح فرمایا۔متفق عليه
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب رات کى نیند سے بیدار ہوتے، تو اپنے منہ کو مسواک سے رگڑ کر صاف کرتے۔متفق عليه
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا : ”پانچ چیزیں (انسانی) فطرت (کا حصہ) ہیں: ختنہ کرنا، زير ناف بال مونڈنا، مونچھيں چھوٹی کرنا، ناخن تراشنا اور بغل کے بال اکھیڑنا“۔متفق عليه
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب قضائے حاجت کی جگہ میں داخل ہوتے، تو یہ دعا پڑھتے : "اے اللہ! میں ناپاک جنوں اور ناپاک جنیوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔"متفق عليه
ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب کوئی مومن، یا مسلم وضو کرتے وقت چہرہ دھوتا ہے، تو جیسے ہی چہرہ سے پانی گرتا ہے یا پانی کا آخری قطرہ گرتا ہے، اس کے وہ گناہ جھڑ جاتے ہیں، جو اس نے اپنی آنکھوں سے کیے تھے۔ جب وہ ہاتھ دھوتا ہے، تو جیسے ہی ہاتھوں سے پانی کے قطرے گرتے ہیں یا پانی کا آخری قطرہ گرتا ہے، تو اس کے وہ گناہ جھڑ جاتے ہیں، جو اس نے ہاتھوں سے کیے تھے اور جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے، تو جیسے ہی اس کے پاؤں سے پانی گرتا ہے یا پانی کا آخری قطرہ گرتا ہے، اس کے وہ تمام گناہ جھڑ جاتے ہیں، جو اس نے اپنے پاؤں سے کیے تھے، یہاں تک کہ وہ گناہوں سے پاک ہو جاتا ہے“۔اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم لباس پہنو اور جب تم وضو کرو، تو اپنی دائیں جانب سے شروع کرو“۔اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کے لوگوں کو قیامت والے دن اس حال میں پکارا جائے گا کہ وضو کے نشانات سے ان کے چہرے اور ہاتھ پاؤں روشن ہونگے“۔ پس تم میں سے جو اپنی روشنی بڑھانے کی طاقت رکھے تو وہ ضرور ایسا کرے۔ صحیح مسلم کی ایک روایت کے الفاظ ہیں: ”میں نے ابو ہریرہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، انہوں نے اپنا چہرہ اور بازو دھوئے یہاں تک کہ کندھوں کے قریب پہنچ گئے، پھر انہوں نے اپنے پاؤں دھوئے یہاں تک کہ اوپر پنڈلیوں تک لے گئے، پھر کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ میری امت کے لوگوں کو قیامت والے دن اس حال میں پکارا جائے گا کہ وضو کے نشانات سے ان کے چہرے اور ہاتھ پاؤں روشن ہونگے۔ پس تم میں سے جو اپنی چمک اور روشنی بڑھانے کی طاقت رکھے تو وہ ضرور ایسا کرے“۔ صحیح مسلم کے دوسرے الفاظ یہ ہیں: ”میں نے اپنے خلیل ﷺ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ (جنت میں) مومن کا زیور وہاں تک پہنچے گا، جہاں تک وضو پہنچے گا“۔اس حديث کی دونوں روایتوں کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "جب تم میں سے کسی کا وضو ٹوٹ جائے، تو جب تک وضو نہ کر لے، اللہ اس کی نماز قبول نہيں فرماتا۔"متفق عليه
شریح بن ہانی سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: اللہ کے نبی ﷺ جب گھر تشریف لاتے، تو کون سا عمل سب سے پہلے کرتے تھے؟ انھوں نے جواب دیا: آپ ﷺ (سب سے پہلے) مسواک کیا کرتے تھے۔رواه مسلم
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”جو شخص اچھی طرح سے وضو کرے، اس کے گناہ اس کے جسم سے نکل جاتے ہیں، یہاں تک کہ اس کے ناخنوں کے نیچے سے بھی نکل جاتے ہیں“۔رواه مسلم
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”جب تم میں سے کوئی نیند سے بیدار ہو، تو تین مرتبہ اپنی ناک میں پانی ڈال کر جھاڑ لے، کیوں کہ شیطان اس کی ناک کے بانسے میں رات گزارتا ہے“۔متفق عليه
لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بنی منتفق کے وفد کا سردار بن کر یا بنی منتفق کے وفد میں شریک ہو کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا۔ جب ہم آپ ﷺ کے پاس آئے، تو آپ گھر میں نہیں ملے۔ ہمیں صرف ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ملیں۔ انھوں نے ہمارے لیے خزیر۱ (ایک قسم کا کھانا) تیار کرنے کا حکم کیا۔ وہ تیار کیا گیا۔ ہمارے سامنے تھالی لائی گئی۔ (قتیبہ نے اپنی روایت میں "قناع" کا لفظ نہیں کہا ہے۔ "قناع" اس تھالی و طبق کو کہتے ہیں جس میں کھجور رکھی ہوئی ہو) پھر رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور پوچھا: ”کیا تم لوگوں نے کچھ کھایا ہے؟ یا تمھارے لیے کسی چیز کا حکم دیا گیا؟“ ہم نے جواب دیا: ہاں، اے اللہ کے رسول! ہم لوگ آپ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ یکایک چرواہا اپنی بکریاں باڑے کی طرف لے کر چلا۔ اس کے ساتھ ایک بکری کا بچہ تھا، جو ممیا رہا تھا۔ آپ ﷺ نے(اس سے) پوچھا:”اے فلاں! کیا پیدا ہوا (نر یا مادہ)؟“ اس نے جواب دیا: مادہ۔ آپ ﷺ نے فرمایا:”تو اس کی جگہ پر ہمارے لیے ایک بکری ذبح کرو“۔ پھر (لقیط سے) فرمایا: یہ بالکل نہ سمجھنا -لقیط رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یہاں لفظ ”تحْسَبنَّ“ سین کے فتحہ (زبر) کے ساتھ ادا فرمایا، کسرہ (زیر) کے ساتھ نہیں-کہ ہم نے اسے تمھارے لیے ذبح کیا ہے؛ بلکہ (بات یہ ہے کہ) ہمارے پاس سو بکریاں ہیں۔ ہم انھیں بڑھانا نہیں چاہتے۔ اس لیے جب کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو ہم اس کی جگہ ایک بکری ذبح کر ڈالتے ہیں۔ لقیط رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری ایک بیوی ہے، جو زبان دراز ہے(میں کیا کروں)؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تب تو تم اسے طلاق دے دو“۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک مدت تک میرا اس کا ساتھ رہا، اس سے میری اولاد بھی ہے!! آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اسے تم نصیحت کرو، اگر اس میں بھلائی ہے، تو تمھاری اطاعت کرے گی اور تم اپنی عورت کو اس طرح نہ مارو، جس طرح اپنی لونڈی کو مارتے ہو“۔ پھر میں نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے وضو کے بارے میں بتائیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وضو خوب کامل کیا کرو، انگلیوں میں خلال کیاکرو اور ناک میں پانی اچھی طرح پہنچاؤ، الا یہ کہ تم روزے سے ہو"۔اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔
ام عطیہ بنت حارث رضی اللہ عنہا، جنھوں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ہاتھ پر بیعت کی تھی، سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں : ہم (حیض سے پاک ہونے کے بعد) گدلے اور پیلے رنگ کے پانی کو کچھ شمار نہيں کرتے تھے۔اسے ابو داود نے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے اور بخاری نے (بعد الطہر) کے اضافہ کے بغیر روایت کیا ہے
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ”ہمیں تمام انسانوں پر تین اعتبار سے فضیلت دی گئی ہے: ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں جیسی رکھی گئی ہیں، ساری زمین کو ہمارے لیے مسجد بنا دیا گیا ہے اور پانی نہ ملنے کی صورت میں اس کی مٹی کو ہمارے لیے حصول طہارت کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے“۔ آپ ﷺ نے ایک اور خصلت کا بھی ذکر فرمایا۔اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے جمعے کے دن وضو کیا، اس نے سنت پر عمل کیا اور یہ بہت عمدہ سنت ہے اور جس نے غسل کیا، تو یہ افضل ہے“۔اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔
شریح بن ہانی بیان بیان کرتے ہیں کہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں پوچھنے آیا (کہ اس کی مدت کتنی ہے؟)، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ابن ابی طالب کے پاس جا کر پوچھو کیونکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر کیا کرتے تھے۔ چنانچہ ہم نے علی رضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے مسافر کے لیے (موزوں پر مسح کرنے کی مدت)تین دن اور تین راتیں اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات مقرر فرمائی ہے۔اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "پاکیزگی نصف ایمان ہے۔ الحمد لله ترازو کو بھر دیتا ہے، سبحان الله اور الحمد لله آسمانوں سے زمین تک کی وسعت کو بھر دیتے ہیں۔ نماز نور ہے، صدقہ دلیل ہے، صبر روشنی ہے۔ قرآن تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف حجت ہے، ہر انسان دن کا آغاز کرتا ہے، تو (کچھ اعمال کے عوض) اپنا سودا کرتا ہے، پھر یا تو خود كو آزاد کرنے والا ہوتا ہے يا خود کو تباہ کرنے والا"۔رواه مسلم
عن سلمان الفارسي قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «لا يغتسل رجلٌ يوم الجمعة، ويتطهر ما استطاع من طهر، ويدَّهنُ مِن دهنه، أو يمسُّ من طيب بيته، ثم يخرج فلا يفرِّق بين اثنين، ثم يصلي ما كُتب له، ثم ينصت إذا تكلم الإمام، إلا غُفر له ما بينه وبين الجمعة الأخرى».رواه البخاري