UR
فقہِ عبادات (عبادات سے متعلق شرعی مسائل)
روزہ
40 احادیث
روزے کی فرضیت اور اسے چھوڑنے والے کا حکم
1
روزے کی فضیلت
5
روزے کی سنتیں
7
رؤیت ہلال
2
یوم شک کا روزہ
2
شرعی عذر والوں کا روزہ
1
روزے کو فاسد کرنے والی اشیاء
2
روزہ دار پر کون سی باتیں فرض ہیں۔
1
روزہ دار کے لئے کیا جائز ہے
1
نفلی روزہ
12
اعتکاف
1
رمضان کا آخری عشرہ
4
رمضان
2
40 احادیث
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر میں اگلے سال زندہ رہا، تو (محرم کی) نویں تاریخ کو بھی روزہ رکھوں گا“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
زید بن خالد الجھنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:”جس نے کسی روزے دار کو افطار کرایا، اسے روزے دار کے برابر ثواب ملے گا اور روزے دار کے اجر وثواب میں سے کوئی کمی نہ ہو گی“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیطانوں کو بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں“۔
متفق علیہ
ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم مہینے کے تین روزے رکھو، تو تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کے روزے رکھا کرو“۔ قتادہ بن ملحان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ ہمیں ایّامِ بِیض یعنی تیرہویں، چودھویں اور پندرھویں تاریخ کے روزے رکھنے کا حکم کرتے تھے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایّامِ بِیض کے روزے حضر و سفر دونوں میں رکھا کرتے تھے۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔
معاذہ عدویہ کہتی ہیں کہ انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا رسول اللہ ﷺ ہر مہینے تین دن کے روزے رکھا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا ’ہاں‘ ۔ میں نے دریافت کیا کہ آپ ﷺ مہینے کے کس حصے میں روزے رکھا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپ ﷺ اس کی فکر نہیں کیا کرتے تھے کہ مہینے کی کن تاریخوں میں روزے رکھیں۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یوم عاشوراء کا روزہ رکھا اور (دوسروں کو بھی) اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا۔
متفق علیہ
عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے : اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، خانۂ کعبہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔“
متفق عليه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، یا یوں کہا کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چاند ہی دیکھ کر روزے شروع کرو اور چاند ہی دیکھ کر روزہ موقوف کرو اور اگر ابر ہو جائے تو تیس دن پورے کرلو۔ بخاری ۱۹۰۹
عن ابن عمر قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أفطر قال: "ذهب الظمأُ، وابتلت العروق، وثبت الأجر إن شاء الله".
رواه أبو داود
📗ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کوئی رمضان میں ( راتوں کو ) ایمان رکھ کر اور ثواب کے لیے عبادت کرے اس کے اگلے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔ 📚صحيح البخارى 37
عن عائشة رضي الله عنها قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصوم حتى نقول: لا يفطر، ويفطر حتى نقول: لا يصوم، فما رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم استكمل صيام شهر إلا رمضان، وما رأيته أكثر صيامًا منه في شعبان.
متفق عليه
عن نُبَيشة الهُذَلي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أيام التشريق أيام أكل وشرب».
رواه مسلم
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا :"جس نے رمضا ن کے روزے رکھے۔پھر اس کے بعد شوال کے چھروزے رکھے تو یہ (پوراسال ) مسلسل روزے رکھنے کی طرح ہے التخريج : صحيح مسلم :١١٦٣، كتاب الصوم : باب في صوم ستة أيام من شوال
عن أم المؤمنين عائشة رضي الله عنها قالت: دخل علي النبي صلى الله عليه وسلم ذات يوم فقال: «هل عندكم شيء؟» فقلنا: لا. قال: «فإني إذن صائم» ثم أتانا يومًا آخر فقلنا: يا رسول الله، أهدي لنا حيس. فقال: «أَرِينيه، فلقد أصبحت صائمًا» فأكل.
رواه مسلم
🔶رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمایا " عرفہ کے دن کا روزہ میں اللہ سے امید رکھتاہوں کہ پچھلے سال کے گناہوں کاکفارہ بن جائے گا اور اگلے سال کے گناہوں کا بھی 📜 صحیح مسلم ۔۔1162/2746
📗ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جو شخص ( روزہ کی حالت میں ) جھوٹ بات کرنا اور فریب کرنا اور جہالت کی باتوں کو نہ چھوڑے تو اللہ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑے 📚صحيح البخارى 6057
پچھلا صفحہ
صفحہ 2 از 2