UR
فضائل و آداب
فضائل
64 احادیث
علم کی فضیلت
8
توحید کے فضائل
4
قرآن کریم کے فضائل
5
والدین کی فرماں برداری کے فضائل
3
صلہ رحمی کے فضائل
1
اہل بیت رضی اللہ عنہم کے فضائل
4
نیک اعمال کے فضائل
16
ذکر کے فضیلت
10
دعا کی فضیلت
5
قلبی اعمال کے فضائل
4
اعضاء کے اعمال کے فضائل
6
64 احادیث
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے، جب کہ معاذ رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے پیچھے سواری پر سوار تھے، فرمایا : "اے معاذ!" انھوں نے جواب دیا : اے اللہ کے رسول! حاضر ہوں۔ آپ ﷺ نے پھر فرمایا : "اے معاذ!" انھوں نے جواب دیا : حاضر ہوں اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے اس طرح تین بار خطاب کیا۔ پھر فرمایا: ”جو بندہ سچے دل سے یہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور محمد ﷺ اس کے رسول ہیں، اسے اللہ جہنم پر حرام کر دیتا ہے“۔ معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا میں لوگوں کو اس کی اطلاع نہ دے دوں، تا کہ وہ خوش ہو جائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تب وہ اسی پر بھروسہ کر لیں گے“۔ چنانچہ معاذ رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات کے وقت (کتمانِ علم کے) گناہ سے بچنے کے لیے اس حدیث کو بیان کر دیا۔
متفق عليه
اُم المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص قرآن کے پڑھنے میں ماہر ہو، وہ معزز اور نیک سفراء (فرشتوں) کے ساتھ ہو گا، اور جو شخص قرآن کو اٹک اٹک کر پڑھتا ہو اور اسے پڑھنے میں مشقت ہوتی ہو تو اس کو دو گنا ثواب ملتا ہے“۔
متفق علیہ
ابو امامہ باہلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”قرآن پڑھا کرو کیونکہ وہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کا سفارشی بن کر آئےگا۔ دو روشن چمکتی ہوئی سورتیں:البقرہ اور آل عمران پڑھا کرو کیونکہ وہ قیامت کے دن اس طرح آئیں گی جیسے وہ دو بادل یا دو سائبان ہوں یا دو اڑتے ہوئے پرندوں کی قطاریں ہوں اور وہ اپنے پڑھنے والوں کی طرف سے حجت (دفاع) کریں گی۔ سورہ بقرہ پڑھا کرو کیونکہ اسے حاصل کرنا باعث برکت ہے اور اس کا ترک کرنا باعثِ حسرت ہے اور باطل پرست اس کی طاقت نہیں رکھتے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
واثلہ بن اسقع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے کنانہ کو منتخب کیا اور کنانہ میں سے قریش کو منتخب کیا اور قریش میں سے بنو ہاشم کو منتخب کیا پھر بنو ہاشم میں سے مجھے منتخب کیا۔میں اولادِ آدم کا سردار ہوں مگر اس پر فخر نہیں۔ میں پہلا شخص ہوں گا جس سے قبر شق کی جائے گی، سب سے پہلے میں سفارش کروں گا اور میں ہی پہلا ہوں گا جس کی سفارش قبول کی جائے گی“۔
اسے ابنِ حبان نے روایت کیا ہے۔
مِسوَر بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”فاطمہ (رضی اللہ عنہا) میرے جسم کا ٹکڑا ہے، جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔
متفق علیہ
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جبریل علیہ السلام ریشم کے سبز ٹکڑے میں ان (عائشہ رضی اللہ عنہا) کی تصویر لے کر نبیﷺ کی خدمت میں آئے اور فرمایا: یہ دنیا اور آخرت میں آپ کی بیوی ہیں۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔
معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ میں اللہ کے نبی ﷺ کے پیچھے ایک گدھے پر سوار تھا، جس کا نام عفیر تھا۔ اسی دوران آپ نے فرمایا: ’’اے معاذ! کیا تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کا بندوں پر کیا حق ہے اور بندوں کا اللہ تعالیٰ پر کیا حق ہے؟‘‘ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ’’بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور بندوں کا اللہ پر حق یہ ہے کہ جو کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراتا ہو، اللہ تعالیٰ اسے عذاب نہ دے۔‘‘ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول اللہ ﷺ ! کیا میں لوگوں کو اس کی بشارت نہ دے دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’لوگوں کو اس کی بشارت نہ دو، ورنہ لوگ اسی پر بھروسہ کرکے بیٹھ جائیں گے۔‘‘
متفق عليه
جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں: ایک آدمی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا: اے اللہ کے رسول ! واجب کرنے والی دو باتیں کون سی ہیں؟ آپ نے جواب دیا: ’’جو کسی چیز کو اللہ کے ساتھ شریک نہ کرتا ہوا مرا، وہ جنت میں داخل ہو گا، اور جو اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہراتے ہوئے مرا، و ہ جہنم میں داخل ہو گا۔‘‘
رواه مسلم
عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "صاحب قرآن سے کہا جائے گا کہ پڑھتا جا اور چڑھتا جا اور اسی طرح ٹھہر ٹھہر کر پڑھ، جیسے کہ دنیا میں پڑھا کرتا تھا۔ جہاں آخری آیت ختم کرے گا، وہیں تیری منزل ہوگی"۔
رواه أبو داود والترمذي والنسائي في الكبرى وأحمد
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اے ابو منذر! کیا تم جانتے ہو کہ تمھارے پاس موجود اللہ کی کتاب کی کون سی آیت سب سے عظیم ہے؟۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ میں نے عرض کیا: اللہ اوراس کے رسول ﷺ زیادہ جانتے ہیں۔ آپﷺ نے (دوبارہ) فرمایا: ’’اے ابو منذر! کیا تم جانتے ہو کہ تمھارے پاس موجود اللہ کی کتاب کی کون سی آیت سب سے عظیم ہے؟۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ میں نے عرض کیا: ﴿اللَّهُ لَا إِلہ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ﴾ ان کا کہنا ہے کہ یہ سننے کے بعد آپﷺ نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا: ’’اللہ کی قسم ! ابو منذر! تمھیں یہ علم مبارک ہو"۔
رواه مسلم
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : ’’جب تم مؤذن کو سنو تو اسی طرح کہو جیسے وہ کہتا ہے۔ پھر مجھ پر درود بھیجو، کیوں کہ جو مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں فرشتوں کے سامنے دس بار اس کی تعریف کرتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلہ مانگو، کیوں کہ وہ جنت میں ایک مقام ہے، جو اللہ کے بندوں میں سے صرف ایک بندے کو ملے گا اور مجھے امید ہے کہ وہ میں ہوں گا۔ چناں چہ جس نے میرے لیے وسیلہ طلب کیا، اس کے لیے میری شفاعت واجب ہو گئی۔‘‘
رواه مسلم
عثمان بن ابوالعاص سے روایت ہے کہ وہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! شیطان میرے، میری نماز اور میری تلاوت کے بیچ حائل ہو جاتا ہے اور مجھے الجھانے کی کوشش کرتا ہے۔ چناں چہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "وہ ایک شیطان ہے، جسے خِِنزَب کہا جاتا ہے۔ جب تمھیں اس کے خلل انداز ہونے کا احساس ہو، تو اس سے اللہ کی پناہ مانگو اور اپنی بائیں جانب تین بار تھتکارو۔" ان کا کہنا ہے کہ میں نے آپ کے بتائے ہوئے طریقے پر عمل کیا، تو اللہ نے میری اس پریشانی کو دور کر دیا۔
رواه مسلم
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”جب انسان مر جاتا ہے تو اس کا عمل بھی منقطع ہو جاتا ہے، مگر تین قسم کے عمل (کا ثواب) جاری رہتا ہے۔ صدقۂ جاریہ، یا ایسا علم جس سے اس کے بعد بھی فائدہ اٹھایا جائے، یا نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔“
رواه مسلم
عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ذكر يوم الجمعة، فقال: «فيه ساعة، لا يوافقها عبدٌ مسلمٌ، وهو قائم يصلي، يسأل الله تعالى شيئًا، إلا أعطاه إياه» وأشار بيده يقللها.
متفق عليه
عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «مَن أصبح منكم اليوم صائمًا؟» قال أبو بكر رضي الله عنه: أنا، قال: «فمن تَبِعَ منكم اليوم جنازةً؟» قال أبو بكر رضي الله عنه: أنا، قال: «فمن أطعم منكم اليوم مسكينًا؟» قال أبو بكر رضي الله عنه: أنا، قال: «فمن عاد منكم اليوم مريضًا؟» قال أبو بكر رضي الله عنه: أنا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ما اجتمعن في امرئٍ إلا دخل الجنة».
رواه مسلم
عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا وَأَزِيدُ، وَمَنْ جَاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَجَزَاؤُهُ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا أَوْ أَغْفِرُ، وَمَنْ تَقَرَّبَ مِنِّي شِبْرًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ ذِرَاعًا، وَمَنْ تَقَرَّبَ مِنِّي ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا، وَمَنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً، وَمَنْ لَقِيَنِي بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطِيئَةً لَا يُشْرِكُ بِي شَيْئًا لَقِيتُهُ بِمِثْلِهَا مَغْفِرَةً».
رواه مسلم
پچھلا صفحہ
صفحہ 3 از 3