حدیث برائے عالم
علمِ اخلاق

اخلاقِ حمیدہ/ اچھے اخلاق

35 احادیث

35 احادیث

سعد بن ابو وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا : ”بے شک اللہ تعالی اس بندے سے محبت رکھتا ہے، جو متقی (پرہیزگار)، مخلوق سے بے نیاز اور پوشیدہ حال ہو“۔رواه مسلم
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "سب سے کامل ایمان والا مؤمن وہ ہے، جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں اور تمھارے اندر سب سے اچھا انسان وہ ہے، جو اپنی عورتوں کے حق میں سب سے اچھا ہو۔"رواه أبو داود والترمذي وأحمد
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی زوجہ عائشہ رضی اللہ عنہا آپ سے روایت کرتی ہیں کہ آپ نے فرمایا : ”نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے، اسے مزیّن کردیتی ہے اور جس چیز سے بھی نکال لی جاتی ہے، اسے بدنما اور عیب دار کردیتی ہے“۔رواه مسلم
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”مومن اپنے حُسنِ اخلاق کے ذریعے روزے دار اور شب بیدار عبادت گزار کا درجہ حاصل کر لیتا ہے“۔رواه أبو داود وأحمد
عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نہ تو فحش گو تھے اور نہ بہ تکلف بد زبانی کرنے والے تھے۔ آپﷺ فرمایا کرتے تھے : ”تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے، جس کے اخلاق سب سے اچھے ہیں“۔متفق عليه
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”آسانی پیدا کرو، مشکل میں نہ ڈالو، خوش خبری دو اور متنفر نہ کرو“۔متفق عليه
ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: "بھوکے کو کھانا کھلاؤ، مریض کی عیادت کرو اور قیدی کو آزاد کراؤ"۔رواه البخاري
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: ”رحم کرنے والوں پر رحمن رحم فرماتا ہے۔ تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم کرے گا“۔رواه أبو داود والترمذي وأحمد
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : "(کامل) مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان (کی ایذا رسانی) سے مسلمان محفوظ رہیں اور (حقیقی) مہاجر وہ ہے جس نے ان تمام چیزوں کو چھوڑ دیا جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔"متفق عليه
عَن أَبي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلاَةٍ وَقُمْنَا مَعَهُ، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ وَهُوَ فِي الصَّلاَةِ: اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا، وَلاَ تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا. فَلَمَّا سَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْأَعْرَابِيِّ: «لَقَدْ حَجَّرْتَ وَاسِعًا» يُرِيدُ رَحْمَةَ اللهِ.رواه البخاري
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ اللَّهَ قَالَ: إِذَا ابْتَلَيْتُ عَبْدِي بِحَبِيبَتَيْهِ فَصَبَرَ، عَوَّضْتُهُ مِنْهُمَا الجَنَّةَ» يُرِيدُ: عَيْنَيْهِ.رواه البخاري